(آیت 23){ وَاللّٰهُاَعْلَمُبِمَايُوْعُوْنَ: ”يُوْعُوْنَ“”وِعَاءٌ“} سے مشتق ہے، جس کا معنی برتن ہے، {”أَوْعَيالْمَالَ“} اس نے مال جمع کیا۔ یہاں مراد یہ ہے کہ جو اعمال وہ آخرت کے لیے جمع کر رہے ہیں، زبانی جھٹلانے کے ساتھ ساتھ انھوں نے دلوں میں جو کبر و عناد جمع کر رکھا ہے اور آپ کے خلاف جو جو سازشیں انھوں نے تیار کر رکھی ہیں وہ اللہ کو ان سے بھی زیادہ معلوم ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ جو کچھ وہ (دلوں میں) محفوظ [18] رکھتے ہیں
[18] ﴿وعي﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿يُوْعُوْنَ﴾﴿وعي﴾ کا معنی کسی چیز کو تھیلی میں رکھ کر اوپر سے اس کا منہ بند کر دینا ہے اس لحاظ سے ﴿وعي﴾ کا معنی بخل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ حفاظت کرنا بھی اور چھپا کر رکھنا بھی اور کسی چیز کو یاد رکھنا بھی۔ یہاں یہ لفظ تیسرے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی کافر لوگ جو بغض و عناد اور کینہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔