ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 19

لَتَرۡکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ ﴿ؕ۱۹﴾
کہ تم ضرور ہی ایک حالت سے دوسری حالت کو چڑھتے جاؤ گے ۔ En
کہ تم درجہ بدرجہ (رتبہٴ اعلیٰ پر) چڑھو گے
En
یقیناً تم ایک حالت سے دوسری حالت پر پہنچو گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 19) ➊ { لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ:} قرآن مجید میں مذکور قسمیں بعد میں آنے والے جواب قسم کی تاکید کے لیے آتی ہیں اور عام طور پر اس کے یقینی ہونے کی دلیل ہوتی ہیں۔ یہاں جس بات کو ثابت کرنے کے لیے قسمیں کھائی گئی ہیں وہ یہ حقیقت ہے کہ تم ضرور ہی ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے جاؤ گے۔ اب قسموں پر غور کیجیے! تینوں آیات میں مذکور چیزوں کا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہونا صاف واضح ہے، یعنی دن بھر کی دھوپ کے بعد سورج غروب ہو کر شفق پھیل جاتی ہے، پھر رات چھا جاتی ہے۔ اللہ کی مخلوق دن کو پھیل جاتی ہے اور رات کو جمع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح چاند پہلی رات خنجر نما شکل میں ہوتا ہے، پھر بدلتے بدلتے مَہِ کامل بن جاتا ہے، پھر دوبارہ گھٹنے لگتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ تمھیں بھی ایک حالت پر دوام نہیں ہے، بلکہ ان اشیاء کی طرح تمھارا ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے چلے جانا بھی یقینی ہے۔ اسی طرح زندگی کے بعد موت، پھر زندگی اور ہر عمل کی جزا و سزا کا ہونا بھی یقینی ہے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے { طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ } کی تفسیر فرمائی: [حَالًا بَعْدَ حَالٍ] [بخاري، التفسیر، باب: «لترکبن طبقا عن طبق» ‏‏‏‏: ۴۹۴۰] یعنی ایک حالت کے بعد دوسری حالت میں۔ آدمی ہر لمحے نئی سے نئی حالت میں منتقل ہوتا جائے گا۔ بڑے بڑے تغیرات یہ ہیں، مٹی سے پیدا ہو کر نطفہ، پھر ماں کے پیٹ کی مختلف حالتیں، پھر پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپا، تندرستی، بیماری، فقر، غنا، پھر موت، قبر اور قیامت، غرض انسان بے شمار احوال سے گزرتا ہوا جنت یا دوزخ کو پہنچ جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

19۔ 1 یہاں مراد شدائد ہیں جو قیامت والے دن واقع ہونگے۔ یعنی اس روز ایک سے بڑھ کر ایک حالت طاری ہوگی (یہ جواب قسم ہے)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

19۔ کہ تم ایک حالت سے اگلی حالت کو چڑھتے چلے [14] جاؤ گے
[14] اس مقام پر تین باتوں کی قسم کھائی گئی ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات میں حرکت ہی حرکت ہے، سکون اور ٹھہراؤ نہیں۔ پھر یہ حرکت بھی یکدم واقع نہیں ہو جاتی بلکہ اس میں تدریج کا اصول کام کر رہا ہے۔ سورج غروب ہوتا ہے تو یک دم تاریکی نہیں چھا جاتی بلکہ کچھ دیر تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ رات بھی بتدریج اپنے مکینوں کو اپنی اپنی قرار گاہ کی طرف کھینچ لاتی ہے۔ چاند بھی مکمل ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ اس میں کئی دن لگ جاتے ہیں۔ تاہم مکمل ضرور ہوتا ہے۔ اسی طرح تم بھی بتدریج منزل بہ منزل اپنی آخری منزل کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہو اور تمہیں وہاں جا کر دم لینا ہے۔ پہلے انسان نطفہ تھا۔ رحم مادر میں ہی اس کی سات حالتیں بدلیں۔ پھر بچپن، بچپن سے جوانی، جوانی سے بڑھاپا اور بڑھاپے سے موت۔ یہ ایسی منزلیں ہیں جنہیں طے کرنے میں انسان بالکل بے بس اور مجبور ہے۔ ان میں سے کوئی منزل حذف کرنا چاہے تو وہ قطعاً ایسا نہیں کر سکتا۔ رہی یہ بات کہ انسان کی آخری منزل کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ جنت یا دوزخ ہے۔ گویا انسان مرنے کے بعد بھی کئی منازل طے کرنے پر مجبور ہو گا۔ اسے عذاب و ثواب قبر سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اسے مرنے کے بعد دوبارہ جی کر اٹھنا ہو گا۔ اسے قیامت کی سختیاں سہنا ہوں گی۔ اسے اللہ کی عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ دنیا میں بھی اللہ کا ایسا ہی قانون کار فرما ہے۔ آخرت میں بھی یہ سب واقعات پیش آکے رہیں گے اور اس میں انسان کے اپنے ارادہ و اختیار کو کچھ دخل نہ ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔