ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانشقاق (84) — آیت 10

وَ اَمَّا مَنۡ اُوۡتِیَ کِتٰبَہٗ وَرَآءَ ظَہۡرِہٖ ﴿ۙ۱۰﴾
اور لیکن وہ شخص جسے اس کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا گیا ۔ En
اور جس کا نامہٴ (اعمال) اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا
En
ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10){ وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ …:} یہاں پیٹھ کے پیچھے اعمال نامے ملنے کا ذکر ہے اور سورۂ حاقہ (۲۵) میں بائیں ہاتھ میں، غور کریں تو صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ ان مجرموں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں گے، جہاں انھیں بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ رہا وہ شخص جس کا اعمال نامہ اس کی پشت کے پیچھے [7] سے دیا جائے گا
[7] سورۃ الحاقہ میں فرمایا کہ اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہاں یہ فرمایا کہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ یہ دونوں باتیں درست ہیں اور ان میں تطبیق کی صورت یہ ہو گی کہ بد بختوں کو یہ تو پہلے ہی معلوم ہو گا کہ انہیں ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جانے والا ہے اس لیے کہ انہیں اپنے کرتوتوں کا پورا علم ہو گا لہٰذا وہ اپنا بایاں ہاتھ پیٹھ کے پیچھے کر لیں گے۔ تاکہ اعمال نامہ پکڑتے وقت کم از کم سامنے والے لوگوں کے سامنے ان کی رسوائی نہ ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاَمَّا مَنْ اُوْتِیَؔ كِتٰبَهٗ وَرَآءَؔ ظَهْرِهٖاور جس کو نامۂ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں اور اس کی پیٹھ پیچھے سے دیا جائے گا ﴿فَسَوْفَ یَدْعُوْا ثُبُوْرًا یعنی جب وہ اپنے اعمال بد، جو اس نے (دنیا میں آخرت کے لیے) آگے بھیجے تھے اور ان سے توبہ نہیں کی تھی، اپنے اعمال نامے میں موجود پائے گا تو رسوائی اور فضیحت سے موت کو پکارے گا ﴿وَّیَصْلٰى سَعِیْرًا اور دوزخ میں داخل ہوگا۔ یعنی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اسے ہر جانب سے گھیر لے گی اور اس کے عذاب پر اسے الٹ پلٹ کرے گی اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دنیا میں ﴿ كَانَ فِیْۤ اَهْلِهٖ٘ مَسْرُوْرًا اپنے گھر والوں میں مسرور رہتا تھا۔ اس کے دل میں حیات بعدالممات کا کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا۔ اس نے برائی کا اکتساب کیا اور اسے یقین نہ تھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا اور اس کے سامنے کھڑے ہونا ہے۔ ﴿بَلٰۤى١ۛۚ اِنَّ رَبَّهٗ كَانَ بِهٖ بَصِیْرًا ہاں ہاں اس کا رب اس کو دیکھ رہا تھا۔ پس یہ اچھا نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے بے کار چھوڑ دے، اس کو حکم دیا جائے، نہ کسی چیز سے روکا جائے اور اسے ثواب عطا کیا جائے، نہ عذاب دیا جائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأمَّا مَن أوتي كتابَه وراء ظهرِهِ}؛ أي: بشماله من وراء ظهره ، {فسوفَ يدعو ثُبوراً}: من الخزي والفضيحة، وما يجد في كتابه من الأعمال التي قدَّمها ولم يتبْ منها، {ويصلى سعيراً}؛ أي: تحيط به السعير من كلِّ جانب، ويقلَّب على عذابها، وذلك لأنَّه {كان في أهلِهِ مسروراً}: لا يخطُرُ البعث على باله، وقد أساء، ولا يظنُّ أنَّه راجعٌ إلى ربِّه وموقوفٌ بين يديه. {بلى إنَّ ربَّه كان به بصيراً}: فلا يحسُنُ أن يترُكَه سدىً لا يُؤمر ولا يُنهى ولا يُثاب ولا يُعاقب.