(آیت 10){ وَاَمَّامَنْاُوْتِيَكِتٰبَهٗ …:} یہاں پیٹھ کے پیچھے اعمال نامے ملنے کا ذکر ہے اور سورۂ حاقہ (۲۵) میں بائیں ہاتھ میں، غور کریں تو صاف سمجھ میں آرہا ہے کہ ان مجرموں کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہوں گے، جہاں انھیں بائیں ہاتھ میں اعمال نامہ ملے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ رہا وہ شخص جس کا اعمال نامہ اس کی پشت کے پیچھے [7] سے دیا جائے گا
[7] سورۃ الحاقہ میں فرمایا کہ اس کا اعمال نامہ اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور یہاں یہ فرمایا کہ پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ یہ دونوں باتیں درست ہیں اور ان میں تطبیق کی صورت یہ ہو گی کہ بد بختوں کو یہ تو پہلے ہی معلوم ہو گا کہ انہیں ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جانے والا ہے اس لیے کہ انہیں اپنے کرتوتوں کا پورا علم ہو گا لہٰذا وہ اپنا بایاں ہاتھ پیٹھ کے پیچھے کر لیں گے۔ تاکہ اعمال نامہ پکڑتے وقت کم از کم سامنے والے لوگوں کے سامنے ان کی رسوائی نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔