(آیت 32،31){ وَاِذَاانْقَلَبُوْۤااِلٰۤىاَهْلِهِمُ …: ”فَكِهِيْنَ“”فَكِهٌ“} کی جمع بروزن {”فَرِحٌ“} ہے، ہنسنے ہنسانے کے لیے باتیں بنانے والے، خوش گپیاں کرنے والے، یعنی گھر واپس آتے ہوئے بھی اہلِ ایمان کو موضوع بنا کر خوب باتیں بناتے، خوش گپیاں کرتے تھے اور انھیں گمراہ قرار دیتے تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
31۔ 1 یعنی اہل ایمان کا ذکر کر کے خوش ہوتے اور دل لگیاں کرتے۔ دوسرا مطلب یہ کہ جب اپنے گھروں میں لو ٹتے تو وہاں خوشحالی اور فراغت ان کا استقبال کرتی اور جو چاہتے وہ انہیں مل جاتا، اس کے باوجود انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ اہل ایمان کی تحقیر کی اور ان پر حسد کرنے میں ہی مشغول رہے (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ اور اپنے گھروں کو لوٹتے تو خوش گپیاں کرتے لوٹتے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔