اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین اور آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کردیا جاتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور جب دوسروں کو ناپ کر یا تول [3] کر دیتے ہیں تو گھٹا کر دیتے ہیں
[3] یعنی دوسروں کو ان کا حق کم دینے یا خود اپنے حق سے زیادہ وصول کرنے کے جرم میں مبتلا ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کا نہ روز آخرت پر ایمان ہوتا ہے اور نہ اللہ کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی پر۔ اگر ان کا اس محاسبہ پر ایمان ہوتا تو کبھی ایسی بد نیتی اور مفاد پرستی کے کام نہ کرتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔