ترجمہ و تفسیر — سورۃ المطففين (83) — آیت 15

کَلَّاۤ اِنَّہُمۡ عَنۡ رَّبِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُوۡنَ ﴿ؕ۱۵﴾
ہرگز نہیں، بے شک وہ اس دن یقینا اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے۔ En
بےشک یہ لوگ اس روز اپنے پروردگار (کے دیدار) سے اوٹ میں ہوں گے
En
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سےاوٹ میں رکھے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 15تا17) {كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ …:} یہ کافر جو کہتے ہیں کہ اگر قیامت ہوئی بھی تو دنیا کی طرح وہاں بھی پروردگار کی نوازشیں ہمیں پر ہوں گی، ان کا یہ کہنا ہر گز درست نہیں، انھیں تو پروردگار کے قریب تک نہیں آنے دیا جائے گا، بلکہ وہ حجاب میں رکھے جائیں گے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اس دن نافرمان اللہ تعالیٰ سے محجوب ہوں گے اور اہلِ ایمان کو وہ نظر آئے گا۔ اگر دیدار الٰہی کے منکروں کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کسی کو بھی نظر نہیں آئے گا تو یہ آیت بے معنی ہو جاتی ہے۔ دوسری جگہ صریح الفاظ میں فرمایا: «‏‏‏‏وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ (22) اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ» ‏‏‏‏ [القیامۃ: 23،22] کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے۔ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخرت کی نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کا دیدارہے جو ایمان والوں کو حاصل ہوگی۔ (اللہ اپنے فضل سے ہمیں بھی اپنا دیدار نصیب فرمائے) اس کے ساتھ انھیں کھانے پینے، نکاح وغیرہ یعنی جنت کی دوسری نعمتیں بھی میسر ہوں گی۔ نافرمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے پہلا عذاب یہ ذکر فرمایا کہ وہ اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ پھر وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے۔ [أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْھُمَا]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

15۔ 1 ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ ہرگز نہیں یقیناً ایسے لوگ! اس دن اپنے پروردگار (کے دیدار) سے محروم [10] رکھے جائیں گے
[10] اللہ تعالیٰ کے دیدار سے مشرف ہونے کی نعمت صرف اہل جنت کو حاصل ہو گی اور لذت و سرور کے لحاظ سے یہ نعمت جنت کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہو گی اور جب اللہ اپنے دیدار سے مشرف فرمائے گا تو جنتی لوگ بس ادھر ہی دیکھتے رہ جائیں گے۔ جو لوگ روز آخرت کے منکر تھے انہیں یہ نعمت کبھی میسر نہ ہو سکے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔