تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ: ” أَيْ رَكِبَهَا كَمَا يَرْكَبُ الصَّدْأُ وَ غَلَبَهَا“} (زمخشری) ”یعنی ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے اور غالب آگیاہے جیسے زنگ چڑھ جاتا ہے۔“ {” رَانَ “} کا فاعل {” مَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ “} ہے، یعنی جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے وہ زنگ بن کر ان کے دلوں پر چھا گیا ہے۔ گناہ کا خاصہ ہے کہ اگر بار بار کیا جائے اور توبہ نہ کی جائے تو پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيْئَةً نُكِتَتْ فِيْ قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَ تَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ وَ إِنْ عَادَ زِيْدَ فِيْهَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَهُ وَهُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَكَرَ اللّٰهُ: «كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ ویل للمطففین: ۳۳۳۴] ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگ جاتا ہے، جب باز آجائے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو داغ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سیاہ داغ اس کے پورے دل پر غالب آجاتا ہے۔ یہی وہ ”ران“ ہے جو اللہ عزوجل نے ذکر فرمایا ہے: «كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ” ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر، جو وہ کماتے تھے۔“ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وأمَّا مَن أنصف وكان مقصودُه الحقَّ المبين؛ فإنَّه لا يكذِّب بيوم الدين؛ لأنَّ الله قد أقام عليه من الأدلَّة القاطعة والبراهين [الساطعة] ما يجعله حقَّ اليقين ، وصار لبصائرهم بمنزلة الشمس للأبصار؛ بخلاف مَنْ ران على قلبه كسبُه وغطَّتْه معاصيه؛ فإنَّه محجوبٌ عن الحقِّ، ولهذا جوزي على ذلك بأن حُجِبَ عن الله كما حُجِبَ قلبُه [في الدنيا] عن آيات الله. {ثم إنَّهم}: مع هذه العقوبة البليغة، {لصالو الجحيم. ثم يقالُ}: لهم توبيخاً وتقريعاً: {هذا الذي كنتُم به تكذِّبونَ}: فذكر لهم ثلاثة أنواع من العذاب: عذاب الجحيم، وعذاب التوبيخ واللوم، وعذاب الحجاب عن ربِّ العالمين، المتضمِّن لسخطه وغضبه عليهم، وهو أعظم عليهم من عذاب النار.
ودلَّ مفهومُ الآية على أنَّ المؤمنين يرون ربَّهم يوم القيامة، وفي الجنة، ويتلذَّذون بالنَّظر إليه أعظم من سائر اللَّذَّات ويبتهجون بخطابه ويفرحون بقربه؛ كما ذكر الله ذلك في عدَّة آيات من القرآن، وتواتر فيه النقل عن رسول الله.
وفي هذه الآيات التَّحذير من الذُّنوب؛ فإنَّها ترين على القلب وتغطِّيه شيئاً فشيئاً، حتى ينطمسَ نورُه وتموتَ بصيرتُه، فتنقلب عليه الحقائق، فيرى الباطل حقًّا والحقَّ باطلاً. وهذا من أعظم عقوبات الذُّنوب.