کَلَّا بَلۡ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر جو وہ کماتے تھے ۔
En
دیکھو یہ جو (اعمال بد) کرتے ہیں ان کا ان کے دلوں پر زنگ بیٹھ گیا ہے
En
یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کےاعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 14) ➊ {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ …:” كَلَّا “} ”ہر گز نہیں“ مطلب یہ ہے کہ اس جھٹلانے والے کے آیات کو جھٹلانے کی وجہ یہ نہیں کہ یہ پہلوں کی کہانیاں ہیں یا ان کے حق ہونے میں کوئی شبہ ہے، بلکہ اس کی بداعمالیاں سیاہ زنگ کی صورت میں اس کے دل پر غالب آچکی ہیں، اسے نہ حق حق نظر آتا ہے نہ باطل باطل۔ مستشرقین اور منکرین حدیث کی طرح پہلے منکرین کا بھی یہی حال تھا کہ اگر قرآن میں کوئی نئی بات آتی تو کہتے: «مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ» [القصص: ۳۶] ”ہم نے تو یہ بات اپنے پہلے باپ دادا میں سنی ہی نہیں۔“ اور اگر وہ بات پہلی کتابوں میں موجود ہوتی توکہتے یہ وہاں سے سرقہ کیا گیا ہے، یعنی {” اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ “} کہ یہ تو پہلوں کی کہانیاں ہیں۔ «قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ» [التوبۃ: ۳۰] ” اللہ انھیں مارے، کدھر بہکائے جا رہے ہیں۔“
➋ { رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ: ” أَيْ رَكِبَهَا كَمَا يَرْكَبُ الصَّدْأُ وَ غَلَبَهَا“} (زمخشری) ”یعنی ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے اور غالب آگیاہے جیسے زنگ چڑھ جاتا ہے۔“ {” رَانَ “} کا فاعل {” مَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ “} ہے، یعنی جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے وہ زنگ بن کر ان کے دلوں پر چھا گیا ہے۔ گناہ کا خاصہ ہے کہ اگر بار بار کیا جائے اور توبہ نہ کی جائے تو پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيْئَةً نُكِتَتْ فِيْ قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَ تَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ وَ إِنْ عَادَ زِيْدَ فِيْهَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَهُ وَهُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَكَرَ اللّٰهُ: «كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ ویل للمطففین: ۳۳۳۴] ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگ جاتا ہے، جب باز آجائے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو داغ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سیاہ داغ اس کے پورے دل پر غالب آجاتا ہے۔ یہی وہ ”ران“ ہے جو اللہ عزوجل نے ذکر فرمایا ہے: «كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ” ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر، جو وہ کماتے تھے۔“ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
➋ { رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ: ” أَيْ رَكِبَهَا كَمَا يَرْكَبُ الصَّدْأُ وَ غَلَبَهَا“} (زمخشری) ”یعنی ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے اور غالب آگیاہے جیسے زنگ چڑھ جاتا ہے۔“ {” رَانَ “} کا فاعل {” مَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ “} ہے، یعنی جو کچھ وہ کمایا کرتے تھے وہ زنگ بن کر ان کے دلوں پر چھا گیا ہے۔ گناہ کا خاصہ ہے کہ اگر بار بار کیا جائے اور توبہ نہ کی جائے تو پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِيْئَةً نُكِتَتْ فِيْ قَلْبِهِ نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَ تَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ وَ إِنْ عَادَ زِيْدَ فِيْهَا حَتّٰی تَعْلُوَ قَلْبَهُ وَهُوَ الرَّانُ الَّذِيْ ذَكَرَ اللّٰهُ: «كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ ویل للمطففین: ۳۳۳۴] ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ لگ جاتا ہے، جب باز آجائے اور معافی مانگ لے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو داغ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ سیاہ داغ اس کے پورے دل پر غالب آجاتا ہے۔ یہی وہ ”ران“ ہے جو اللہ عزوجل نے ذکر فرمایا ہے: «كَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ» ” ہرگز نہیں، بلکہ زنگ بن کر چھا گیا ہے ان کے دلوں پر، جو وہ کماتے تھے۔“ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
(3) یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کے رسول پر جبرائیل ؑ امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے۔ (4) یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الہٰی پر ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑگئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہوگئے ہیں رین گناہوں کی وہ سیاہی ہے جو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے " بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے، اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو وہ سیاہی دور کردی جاتی ہے، اور اگر توبہ کے بجائے، گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی پڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ رین ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ (ترمذی، باب تفسیر سورة المطففین، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکرالذنوب۔ مسند أحمد 297/2)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ ہر گز یہ بات نہیں بلکہ ان لوگوں کے دلوں پر ان [9] کے برے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے
[9] گناہ کرنے سے دل پر سیاہ نقطہ پڑنا :۔
اصل بات یہ نہیں کہ ہماری آیات میں کوئی شک و شبہ ہے یا ان میں تاثیر کی قوت نہیں بلکہ اصل معاملہ یہ ہے کہ گناہ کر کر کے ان کے دل مسخ اور زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ ان میں حق و باطل کو پرکھنے کی تمیز ہی باقی نہیں رہ گئی۔ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح ہے۔ سیدنا ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے۔ پھر اگر وہ گناہ چھوڑ دے، استغفار کرے اور توبہ کر لے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ دوبارہ گناہ کرے تو نقطہ بڑھ جاتا ہے حتیٰ کہ دل پر چھا جاتا ہے۔ اور یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے۔ [ترمذي: ابواب التفسير]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔