ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإنفطار (82) — آیت 6

یٰۤاَیُّہَا الۡاِنۡسَانُ مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الۡکَرِیۡمِ ۙ﴿۶﴾
اے انسان! تجھے تیرے نہایت کرم والے رب کے متعلق کس چیز نے دھوکا دیا؟ En
اے انسان تجھ کو اپنے پروردگار کرم گستر کے باب میں کس چیز نے دھوکا دیا
En
اے انسان! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6){ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِ:} اتنی مہربانیوں والے رب کے متعلق دھوکا کھانے اور کفر کرنے کی تو کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ اے انسان! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے دھوکے میں ڈالے [7] رکھا
[7] یعنی تجھ پر مہربانیاں کرنے والے پروردگار کی مہربانیوں کا تقاضا یہ تھا کہ تو اس کا احسان مند ہوتا اور اس کا فرمانبردار بن کر رہتا مگر تو اس دھوکے میں پڑ گیا کہ تو جو کچھ بنا ہے از خود ہی بن گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی تیرے رب کا کرم ہے کہ تو جو کچھ چاہے کرتا رہتا ہے اور وہ فوری طور پر تم پر کوئی عذاب نازل نہیں کر دیتا۔ گویا تو نے اپنے رب کی مہربانیوں کو کمزوری پر محمول کیا اور اسی دھوکے میں پڑ گیا کہ تیرے رب کی مملکت میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ حالانکہ وہ صرف کریم ہی نہیں بلکہ وہ عادل بھی ہے اور قہار اور جبار بھی ہے وہ پکڑتا دیر سے ہے مگر اس کی گرفت اتنی ہی شدید ہوتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حق میں تقصیر اور اپنی نافرمانیوں کی جسارت کا ارتکاب کرنے والے انسان پر عتاب کرتے ہوئے فرماتاہے ﴿ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَ٘رَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِ اے انسان! تجھے اپنے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔ کیا تمھاری طرف سے اس کے حقوق سے استہزا کے طور پر یا اس کے عذاب کی تحقیر کے طور پر یا اس کی جزا و سزا پر تمھارے عدم ایمان کی بنا پر؟ کیا وہ ہستی ﴿ الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ جس نے تجھے بہترین صورت میں پیدا کیا ﴿فَعَدَلَكَ اور اس نے تجھے درست اور معتدل ترکیب پر، حسین ترین شکل اور جمیل ترین ہیئت میں پیدا کیا۔ تب کیا تمھارے لیے یہ مناسب ہے کہ تم منعم کی نعمت کی ناشکری اور محسن کے احسان کا انکار کرو، بلاشبہ یہ محض تمھاری جہالت، تمھارے ظلم، تمھارے عناد اور تمھاری طرف سے حق کو غصب کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے، پس اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے کتے، گدھے یا کسی اور حیوان کی شکل و صورت عطا نہیں کی۔
اس لیے فرمایا: ﴿ فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَؔكَّبـَكَ جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دے دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى معاتباً للإنسان المقصِّر في حقِّه المتجرِّئ على معاصيه: {يا أيُّها الإنسان ما غَرَّك بربِّك الكريم}: أتهاوناً منك في حقوقه؟ أم احتقاراً منك لعذابه؟! أم عدم إيمانٍ منك بجزائِهِ؟! أليس هو {الذي خَلَقَكَ فسوَّاك}: في أحسن تقويم، {فعَدَلَك}: وركَّبك تركيباً قويماً معتدلاً في أحسن الأشكال وأجمل الهيئات؟! فهل يَليق بك أن تكفُرَ نعمة المنعِم أو تَجْحَدَ إحسان المحسن؟! إنْ هذا إلاَّ من جهلك وظلمك وعنادك وغشمك؛ فاحمد الله إذْ لم يجعلْ صورتَكَ صورة كلبٍ أو حمارٍ أو نحوهما من الحيوانات، ولهذا قال تعالى: {في أيِّ صورةٍ ما شاء ركَّبَك}.