(آیت 5){ عَلِمَتْنَفْسٌمَّاقَدَّمَتْوَاَخَّرَتْ:} جو اچھے یا برے اعمال موت سے پہلے کیے، یا جو اچھے یا برے طریقے پیچھے چھوڑ گیا، جن کے ثواب و عذاب کا سلسلہ اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا، وہ سب سامنے آجائیں گے۔ یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ جو عمل شروع عمر میں کیے اور جو آخر عمر میں کیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ (اس دن) ہر شخص جان لے گا کہ اس نے آگے کیا بھیجا اور پیچھے [6] کیا چھوڑا
[6] اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ دنیا میں اس نے پہلی عمر میں کون کون سے کام کیے تھے۔ اور بعد میں کون کون سے اور اعمال ناموں میں یہ سب باتیں ترتیب وار درج ہوں گی۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان کے وہ کون کون سے کام تھے جو اس نے اپنی زندگی میں سرانجام دیئے تھے۔ یہ ﴿ماقدّمت﴾ ہے اور ایسے کون کون سے کام تھے جن کا ثواب یا عذاب اس کی موت کے بعد بھی اس کے اعمال نامہ میں درج ہوتا رہا۔ یہ ما اخّرت ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کسی نیک کام کی طرح ڈالی اس کے لیے اس کے اپنے عمل کا بھی ثواب ہے اور جو لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں ان کا بھی ثواب ہے بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا ثواب کچھ کم ہو اور جس نے اسلام میں کوئی بری طرح ڈالی۔ اس پر اس کے اپنے عمل کا بھی بار ہے اور ان لوگوں کا بھی جو اس کے بعد عمل کریں بغیر اس کے کہ ان لوگوں کا بار کچھ کم ہو۔ [مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب الحث علی الصدقۃ۔۔]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔