ترجمہ و تفسیر — سورۃ الإنفطار (82) — آیت 13

اِنَّ الۡاَبۡرَارَ لَفِیۡ نَعِیۡمٍ ﴿ۚ۱۳﴾
بے شک نیک لوگ یقیناً بڑی نعمت میں ہوں گے۔ En
بے شک نیکوکار نعمتوں (کی بہشت) میں ہوں گے۔
En
یقیناً نیک لوگ (جنت کے عیش و آرام اور) نعمتوں میں ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 14،13){ اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِيْ نَعِيْمٍ …:} فرشتوں کے تیار کردہ اعمال ناموں کا نتیجہ یہ ہے کہ نیک لوگ نعمت میں اور نافرمان بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوں گے۔ { الْاَبْرَارَ بَرٌّ } کی جمع ہے، وہ شخص جس میں { بِرٌّ } (نیکی) پائی جائے۔ نیکی کیا ہے اور نیک کون ہے اس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی آیت (۱۷۷) یعنی آیت بر میں ملاحظہ فرمائیں۔ { الْفُجَّارَ فَاجِرٌ} کی جمع ہے، یہاں مراد کافر ہیں، کیونکہ مومن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ یقیناً نیک لوگ نعمتوں میں ہوں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ابرار کا کردار ٭٭
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اطاعت گزار فرمانبردار ہیں، گناہوں سے دور رہتے ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ جنت کی خوشخبری دیتا ہے۔ { حدیث میں ہے کہ انہیں «ابرار» اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے ماں باپ کے فرمانبردار تھے اور اپنی اولاد کے ساتھ نیک سلوک کرتے تھے }۔ ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:3221]‏‏‏‏
بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔
اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا۱؎ [صحیح مسلم:204]‏‏‏‏ یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16]‏‏‏‏
اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26]‏‏‏‏
اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4]‏‏‏‏
مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔
سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿الْاَبْرَارَ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حقوق اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرتے ہیں، اعمال قلوب اور اعمال جوارح میں نیکی کا التزام کرتے ہیں۔ پس ان لوگوں کی جزا یہ ہے کہ ان کو اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں، قلب و روح اور بدن کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔
﴿ وَاِنَّ الْؔفُجَّارَ اور بے شک فاجر لوگ۔ جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے حقوق اور بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی، جن کے دل بگڑ گئے، تب ان کے اعمال بھی بگڑ گئے ﴿ لَ٘فِیْ جَحِیْمٍ وہ اس دنیا میں، برزخ میں اور آخرت میں درد ناک عذاب میں رہیں گے۔ ﴿ یَّصْلَوْنَهَا وہ اس میں داخل ہوں گے۔ اور اس کے ذریعے سے انھیں شدید ترین عذاب دیا جائے گا ﴿ یَوْمَ الدِّیْنِ اعمال کی جزا و سزا کے دن۔ ﴿ وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآىِٕبِیْنَ اور وہ اس سے چھپ نہیں سکیں گے، بلکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور اس سے کبھی نہیں نکلیں گے۔
﴿ وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ۰۰ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِ اور تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ پھر (میں کہتا ہوں کہ) تجھے کس چیز نے خبر دی کہ بدلے کا دن کیا ہے؟ ان آیات کریمہ میں اس سخت دن کا ہول دلایا گیا ہے جو ذہنوں کو حیرت زدہ کر دے گا۔ ﴿ یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْ٘سٌ لِّ٘نَفْ٘سٍ شَیْـًٔؔا اس روز کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا، خواہ وہ اس کا قریبی رشتہ دار یا مخلص دوست ہی کیوں نہ ہو، ہر ایک کو خود اپنی پڑی ہو گی، وہ کسی اور کی نجات کا طلب گار نہ ہو گا۔ ﴿ وَالْاَمْرُ یَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ اس روز تمام تر حکم اللہ ہی کا ہو گا۔ وہی بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مظلوم کا حق ظالموں سے لے کر دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

المراد بالأبرار هم: القائمون بحقوق الله وحقوق عباده، الملازمون للبرِّ في أعمال القلوب وأعمال الجوارح؛ فهؤلاء جزاؤهم النعيم في القلب والرُّوح والبدن في دار الدُّنيا وفي دار البرزخ وفي دار القرار، {وإنَّ الفجَّارَ}: الذين قصَّروا في حقوق الله وحقوق عباده، الذين فَجَرَتْ قلوبُهم ففَجَرَتْ أعمالُهم، {لفي جحيمٍ}؛ أي: عذابٍ أليمٍ في دار الدُّنيا ودار البرزخ وفي دار القرار، {يَصْلَوْنها}: ويعذَّبون بها أشدَّ العذاب {يومَ الدِّينِ}؛ أي: يوم الجزاء على الأعمال، {وما هم عنها بغائبينَ}؛ أي: بل هم ملازمون لها لا يخرُجون منها، {وما أدراك ما يومُ الدِّينِ. ثمَّ ما أدراكَ ما يومُ الدِّينِ}: في هذا تهويلٌ لذلك اليوم الشديد، الذي يحيِّر الأذهان، {يومَ لا تملِكُ نفسٌ لنفسٍ شيئاً}: ولو كانت قريبةً أو حبيبةً مصافيةً ؛ فكلُّ مشتغل بنفسه لا يطلب الفكاك لغيرها. {والأمرُ يومئذٍ لله}: فهو الذي يفصل بين العباد، ويأخُذُ للمظلوم حقَّه من ظالمه. والله أعلم.