تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بدکار لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے، قیامت کے دن جو حساب کا اور بدلے کا دن ہے ان کا داخلہ اس میں ہو گا ایک ساعت بھی ان پر عذاب ہلکا نہ ہو گا، نہ موت آئے گی، نہ راحت ملے گی، نہ ایک ذرا سی دیر اس سے الگ ہوں گے۔ پھر قیامت کی بڑائی اور اس دن کی ہولناکی ظاہر کرنے کے لیے دو دو بار فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے معلوم کرایا کہ وہ دن کیسا ہے؟ پھر خود ہی بتلایا کہ اس دن کوئی کسی کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا سکے گا، نہ عذاب سے نجات دلوا سکے گا۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ کسی کی سفارش کی اجازت خود ہی اللہ تبارک و تعالیٰ عطا فرمائے۔
اس موقعہ پر یہ حدیث وارد کرنی بالکل مناسب ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بنو ہاشم! اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کے لیے نیک اعمال کی تیاریاں کر لو میں تمہیں اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کا اختیار نہیں رکھتا“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:204] یہ حدیث سورۃ الشعراء کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
یہاں بھی فرمایا کہ اس دن امر محض اللہ کا ہی ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «لِمَنِ المُلكُ اليَومَ لِلَّهِ الواحِدِ القَهّارِ» ۱؎ [40-غافر:16]
اور جگہ ارشاد ہے «الْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ الْحَقُّ لِلرَّحْمَـٰنِ» ۱؎ [25-الفرقان:26]
اور فرمایا «مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ» ۱؎ [1-الفاتحة:4]
مطلب سب کا یہی ہے کہ ملک و ملکیت اس دن صرف اللہ واحد و قہار و رحمن کی ہی ہو گی، گو آج بھی اسی کی ملکیت ہے وہ ہی تنہا مالک ہے اسی کا حکم چلتا ہے مگر وہاں ظاہر داری حکومت، ملکیت اور امر والا بھی نہ ہو گا۔
سورۃ انفطار کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المراد بالأبرار هم: القائمون بحقوق الله وحقوق عباده، الملازمون للبرِّ في أعمال القلوب وأعمال الجوارح؛ فهؤلاء جزاؤهم النعيم في القلب والرُّوح والبدن في دار الدُّنيا وفي دار البرزخ وفي دار القرار، {وإنَّ الفجَّارَ}: الذين قصَّروا في حقوق الله وحقوق عباده، الذين فَجَرَتْ قلوبُهم ففَجَرَتْ أعمالُهم، {لفي جحيمٍ}؛ أي: عذابٍ أليمٍ في دار الدُّنيا ودار البرزخ وفي دار القرار، {يَصْلَوْنها}: ويعذَّبون بها أشدَّ العذاب {يومَ الدِّينِ}؛ أي: يوم الجزاء على الأعمال، {وما هم عنها بغائبينَ}؛ أي: بل هم ملازمون لها لا يخرُجون منها، {وما أدراك ما يومُ الدِّينِ. ثمَّ ما أدراكَ ما يومُ الدِّينِ}: في هذا تهويلٌ لذلك اليوم الشديد، الذي يحيِّر الأذهان، {يومَ لا تملِكُ نفسٌ لنفسٍ شيئاً}: ولو كانت قريبةً أو حبيبةً مصافيةً ؛ فكلُّ مشتغل بنفسه لا يطلب الفكاك لغيرها. {والأمرُ يومئذٍ لله}: فهو الذي يفصل بين العباد، ويأخُذُ للمظلوم حقَّه من ظالمه. والله أعلم.