(آیت 12) {يَعْلَمُوْنَمَاتَفْعَلُوْنَ:} تمھارا کوئی مخفی سے مخفی کام،حتیٰ کہ تمھاری نیتیں اور ارادے بھی ان سے پوشیدہ نہیں۔ لہٰذا تمھارا یہ سمجھنا کہ تمھارے چھپا کر کیے ہوئے گناہ ریکارڈ میں نہیں آئیں گے اور تم ان کی سزا سے بچ جاؤ گے، زبردست نادانی ہے۔ ان فرشتوں کا مزید ذکر سورۂ ق (۱۷، ۱۸) میں دیکھیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے [10] ہو
[10] اعمال لکھنے والے فرشتے :۔
حالانکہ ہم نے تم پر نگران چھوڑ رکھے ہیں جو ہر وقت تمہارے ساتھ لگے رہتے ہیں وہ تمہاری ایک ایک حرکت، ایک ایک قول اور ایک ایک فعل کو ساتھ ساتھ ریکارڈ کرتے جا رہے ہیں اور تمہیں خبر بھی نہیں ہوتی۔ یہ لکھنے والے نہایت معزز فرشتے ہیں۔ لکھنے میں کوئی کمی بیشی نہیں کر سکتے۔ یہ ناممکن ہے کہ وہ تمہاری کسی حرکت کو ریکارڈ نہ کریں یا تم نے کوئی کام نہ کیا ہو اور وہ تمہارے اعمال میں درج کر دیں۔ پھر وہ تمہاری اس نیت سے بھی واقف ہیں جس کے تحت تم نے کوئی فعل سرانجام دیا تھا۔ لہٰذا ان کے اندراج میں کسی غلطی کا ہونا ناممکن ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔