(آیت 19){ اِنَّهٗلَقَوْلُرَسُوْلٍكَرِيْمٍ:} یہ ان قسموں کا جواب ہے، یعنی امر الٰہی کے پابند یہ سیارے، روزانہ جاتی ہوئی رات اور پھیلتی ہوئی صبح کا یہ مستحکم نظام زبردست شہادت ہے کہ یہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نہایت معزز اور ان عظیم صفات والا فرشتہ (جبریل علیہ السلام) ہی لے کر آیا ہے۔ دن رات، سورج چاند اور ستاروں کے نظام کی طرح یہاں بھی کسی شیطان کا دخل نہیں ہو سکتا۔ اس آیت میں {”رَسُوْلٍ“} سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں، کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے: «اِنَّمَايُعَلِّمُهٗبَشَرٌ» [النحل: ۱۰۳]”اسے کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔“ کبھی کہتے: «اَفْتَرٰىعَلَىاللّٰهِكَذِبًااَمْبِهٖجِنَّةٌ» [سبا: ۸]”کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا یہ دیوانہ ہے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے قول کے جھٹلانے کو یہ آیات نازل فرمائیں اور فرمایا کہ نہ اللہ کے رسول مجنون اور دیوانے ہیں، نہ انھوں نے اپنی طرف سے اس قرآن کو بنایا ہے اور نہ کسی انسان نے انھیں یہ قرآن سکھایا ہے۔ یہ ایسا کلام نہیں ہے جس طرح شیاطین چوری سے آسمان کی کچھ باتیں سن کر کاہنوں سے کہہ دیتے ہیں، بلکہ پیغام کے طور پر اللہ کی طرف سے ایک صاحب قوت، معتبر اور امانت دار فرشتے نے یہ قرآن اللہ کے نبی کو پہنچایا ہے۔ (احسن التفاسیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 اس لئے کہ وہ اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ مراد حضرت جبرائیل علیہ الاسلام ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ کہ یہ (قرآن) ایک معزز رسول (فرشتے) کا قول [17] ہے
[17] جبریل کی صفات :۔
ان تین چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے دو باتوں پر قسم اٹھائی یا بطور شہادت یہ باتیں پیش کیں۔ ان میں سے پہل بات یہ ہے کہ یہ قرآن نہ کسی کاہن کا قول ہے نہ شاعر کا، نہ آپ کا تالیف کردہ ہے بلکہ یہ معزز رسول کا قول ہے۔ یہ رسول جبریل ہے جو اللہ کا فرستادہ اور اس کا کلام پیش کر رہا ہے لیکن چونکہ جبریل کی زبان سے ہو رہا ہے اس لیے قول کی نسبت جبریل کی طرف کی گئی ہے۔ یہ جبریل بڑا زور آور اور طاقتور ہے۔ سورۃ النجم میں جبریل کے لیے ﴿شديد القوي﴾ اور ﴿ذو مرة﴾ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ فرشتہ اللہ کے ہاں بڑا مقرب ہے۔ وہ ایک افسر ہے جس کی سب فرشتے اطاعت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ امین بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے جو پیغام دے کر بھیجتا ہے وہ من و عن انسان رسول کے دل پر القاء کر دیتا ہے۔ اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔