اس آیت کی تفسیر آیت 40 میں تا آیت 42 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
41۔ 1 یعنی ذلت اور عذاب سے ان کے چہرے غبار آلود، کدورت زدہ اور سیاہ ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
41۔ (اور) سیاہی چھا رہی [22] ہو گی
[22] میدان محشر میں لوگ دو گروہوں میں بٹے ہوں گے اور ان کی علامات ان کے چہروں سے نمایاں ہوں گی۔ اللہ کے فرمانبرداروں کے چہرے ہشاش بشاش کھلکھلاتے اور مسکراتے ہوئے ہوں گے۔ دل میں بھی مسرت کی لہر دوڑ رہی ہو گی اور کچھ لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی۔ رنگ فق اور چہرے بگڑے ہوئے اور بے رونق ہوں گے اور یہ اللہ کے نافرمان اور بد کردار لوگ ہوں گے۔ گویا لوگ گروہوں میں بٹنے سے پہلے ہی پہچانے جا سکیں گے کہ کون شخص کس گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔