عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی ۙ﴿۱﴾
اس نے تیوری چڑھائی اور منہ پھیر لیا۔
(محمد مصطفٰےﷺ) ترش رُو ہوئے اور منہ پھیر بیٹھے
وه ترش رو ہوا اور منھ موڑ لیا
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ سورت نابینا صحابی عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری۔ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشرکین میں سے ایک بڑا آدمی بیٹھا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے اور کچھ مسائل پوچھنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا اور توجہ اس دوسرے کی طرف رکھی، اس پر یہ سورت اتری۔ [ترمذي، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ عبس: ۳۳۳۱] البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ یہ مشرک اُبی بن خلف تھا اور اس میں یہ بھی ہے کہ یہ سورت اترنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا اکرام (عزت) کیا کرتے تھے۔ [مسند أبي یعلٰی: 431/5، ح: ۳۱۲۳] اس کی سند صحیح ہے۔ صاحب احسن التفاسیر نے لکھا ہے کہ جن روایات میں ابی بن خلف کے بجائے ابو جہل اور عتبہ بن ربیعہ وغیرہ کا نام لکھا ہے ان کی سند صحیح نہیں۔ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ مکی، قرشی، مہاجرین اوّلین میں سے ہیں اور ام المومنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے ماموں کے بیٹے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنے اکثر غزوات میں مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا کرتے تھے۔
(آیت 1) ➊ { عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا، اگرچہ بعد میں {”وَ مَا يُدْرِيْكَ “} سے مخاطب فرما لیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا صحابی سے بے توجہی کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور عتاب آپ کے خطاب سے بے توجہی فرمائی۔ موضح القرآن میں ہے: ”یہ کلام گویا اوروں کے پاس گلہ ہے رسول کا۔ آگے رسول کو خطاب فرمایا۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کی وجہ سے آپ کو مخاطب کرکے اظہار ناراضی نہیں فرمایا۔
➋ بعض حضرات نے ”تیوری چڑھانے والا“ اس مشرک کو قرار دیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، مگر اس کے بعد آنے والی آیات میں صاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: «فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى» یعنی آپ اس آنے والے (نابینے صحابی) سے بے توجہی کرتے ہیں۔ اس لیے مذکورہ تفسیر درست نہیں۔
(آیت 1) ➊ { عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب کے صیغے سے ذکر فرمایا، اگرچہ بعد میں {”وَ مَا يُدْرِيْكَ “} سے مخاطب فرما لیا۔ اس میں نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا صحابی سے بے توجہی کی تو اللہ تعالیٰ نے بطور عتاب آپ کے خطاب سے بے توجہی فرمائی۔ موضح القرآن میں ہے: ”یہ کلام گویا اوروں کے پاس گلہ ہے رسول کا۔ آگے رسول کو خطاب فرمایا۔“ بعض اہلِ علم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اکرام کی وجہ سے آپ کو مخاطب کرکے اظہار ناراضی نہیں فرمایا۔
➋ بعض حضرات نے ”تیوری چڑھانے والا“ اس مشرک کو قرار دیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا، مگر اس کے بعد آنے والی آیات میں صاف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے فرمایا: «فَاَنْتَ عَنْهُ تَلَهّٰى» یعنی آپ اس آنے والے (نابینے صحابی) سے بے توجہی کرتے ہیں۔ اس لیے مذکورہ تفسیر درست نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
وہ ترش رو ہوا اور منہ موڑ لیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ وہ (پیغمبر) ترش رو [1] ہوئے اور بے رخی کی
[1] ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چند قریشی سردار بیٹھے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ روایات میں ان کے نام عتبہ، شیبہ، ابو جہل، امیہ بن خلف اور ابی بن خلف ملتے ہیں۔ یہ لوگ بعد میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بد ترین دشمن ثابت ہوئے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت اس زمانے میں نازل ہوئی تھی۔ جب قریشی سردار اسلام دشمنی کی حد تک نہیں پہنچے تھے۔ اسی دوران سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم آپ کے پاس تشریف لائے۔ یہ عبد اللہ بن ام مکتوم نابینا تھے۔ سیدہ خدیجہؓ کے پھوپھی زاد بھائی تھے اور ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھے۔ انہوں نے آتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی آیت کا مطلب پوچھا۔ اور جو لوگ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے تھے انہیں آپ دیکھ نہیں سکتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار محسوس ہوا۔ اور اس ناگواری کے اثرات آپ کے چہرہ پر بھی نمودار ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد اللہؓ کی طرف کوئی توجہ نہ دی اور انہیں خاموش کرا دیا۔ جس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبد اللہؓ کی طرف سے مطمئن تھے کہ وہ خالص مومن ہیں انہیں بعد میں سمجھا لیں گے سردست اگر ان سرداروں میں سے کوئی ایک بھی اسلام کے قریب آ گیا تو اس سے اسلام کو خاصی تقویت پہنچ سکتی ہے اسی وجہ سے آپ قریشی سرداروں سے ہی محو گفتگو رہے۔ اس وقت یہ سورت نازل ہوئی جسے امام ترمذی نے مختصراً یوں ذکر کیا ہے: عبد اللہ بن ام مکتوم اور راہ ہدایت کی جستجو طلب صادق :۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ اس سورت کی ابتدائی آیات عبد اللہ بن ام مکتوم کے بارے میں نازل ہوئیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ کہتے رہے کہ یا رسول اللہ مجھے دین کی راہ بتائیے۔ اس وقت آپ کے پاس مشرکوں میں سے کوئی بڑا آدمی بیٹھا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے (یعنی عبد اللہ) سے اعراض کرتے تھے اور دوسرے (مشرک) کی طرف متوجہ ہوتے تھے۔ اور عبد اللہؓ کہتے تھے کیا میری بات میں کوئی برائی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے۔ نہیں۔ اس بارے میں یہ سورت نازل ہوئی۔ [ترمذي، ابواب التفسير]
اس سورت کے انداز خطاب سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عتاب کا رخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے حالانکہ اس عتاب کے بیشتر حصہ کا روئے سخن قریشی سرداروں کی طرف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ عتاب نازل ہوا اس کا انداز بھی عجیب ہے۔ پہلی آیت میں صیغہ واحد مذکر غائب استعمال کیا گیا ہے۔ پھر تیسری آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے جس سے ایک تو کلام میں حسن پیدا ہو گیا اور دوسرے عتاب کے انداز کو انتہائی نرم کر دیا گیا ہے۔ اس عتاب میں آپ کے دعوت حق کی تبلیغ کے طریق کار پر تنقید کی گئی ہے کہ اصولاً اس دعوت کے لیے توجہ کا اولین مستحق وہ ہوتا ہے۔ جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو۔ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم سے بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرمایا کرتے: ﴿مرحبا بمن عاتبني فيه ربي﴾ (خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں اللہ نے مجھ پر عتاب فرمایا) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی زندگی میں کئی بار آپ کو مدینہ میں اپنا نائب اور حاکم بنایا جب آپ جہاد وغیرہ کے سلسلہ میں مدینہ سے باہر جاتے تھے۔ آپ نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں عملاً حصہ لیا کرتے تھے۔ آپ دور فاروقی میں جنگ قادسیہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
اس سورت کے انداز خطاب سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عتاب کا رخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے حالانکہ اس عتاب کے بیشتر حصہ کا روئے سخن قریشی سرداروں کی طرف ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ عتاب نازل ہوا اس کا انداز بھی عجیب ہے۔ پہلی آیت میں صیغہ واحد مذکر غائب استعمال کیا گیا ہے۔ پھر تیسری آیت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے جس سے ایک تو کلام میں حسن پیدا ہو گیا اور دوسرے عتاب کے انداز کو انتہائی نرم کر دیا گیا ہے۔ اس عتاب میں آپ کے دعوت حق کی تبلیغ کے طریق کار پر تنقید کی گئی ہے کہ اصولاً اس دعوت کے لیے توجہ کا اولین مستحق وہ ہوتا ہے۔ جو خود بھی ہدایت کا طالب ہو۔ اس واقعہ کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن ام مکتوم سے بہت تعظیم و تکریم سے پیش آتے اور فرمایا کرتے: ﴿مرحبا بمن عاتبني فيه ربي﴾ (خوش آمدید اس شخص کو جس کے بارے میں اللہ نے مجھ پر عتاب فرمایا) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدنی زندگی میں کئی بار آپ کو مدینہ میں اپنا نائب اور حاکم بنایا جب آپ جہاد وغیرہ کے سلسلہ میں مدینہ سے باہر جاتے تھے۔ آپ نابینا ہونے کے باوجود جہاد میں عملاً حصہ لیا کرتے تھے۔ آپ دور فاروقی میں جنگ قادسیہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تبلیغ دین میں فقیر و غنی سب برابر ٭٭
بہت سے مفسرین سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ قریش کے سرداروں کو اسلامی تعلیم سمجھا رہے تھے اور مشغولیت کے ساتھ ان کی طرف متوجہ تھے دل میں خیال تھا کہ کیا عجب اللہ انہیں اسلام نصیب کر دے ناگہاں سیدنا عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، پرانے مسلمان تھے عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے رہتے تھے اور دنیا اسلام کی تعلیم سیکھتے رہتے تھے اور مسائل دریافت کیا کرتے تھے، آج بھی حسب عادت آتے ہی سوالات شروع کئے اور آگے بڑھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ اس وقت ایک اہم امر دینی میں پوری طرح مشغول تھے ان کی طرف توجہ نہ فرمائی بلکہ ذرا گراں خاطر گزرا اور پیشانی پر بل پڑ گئے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ ’ آپ کی بلند شان اور اعلیٰ اخلاق کے لائق یہ بات نہ تھی کہ اس نابینا سے جو ہمارے خوف سے دوڑتا بھاگتا آپ کی خدمت میں علم دین سیکھنے کے لیے آئے اور آپ اس سے منہ پھیر لیں اور ان کی طرف متوجہ ہوں جو سرکش ہیں، اور مغرور و متکبر ہیں، بہت ممکن ہے کہ یہی پاک ہو جائے اور اللہ کی باتیں سن کر برائیوں سے بچ جائے اور احکام کی تعمیل میں تیار ہو جائے، یہ کیا ہے کہ آپ ان بے پرواہ لوگوں کی جانب تمام تر توجہ فرما لیں؟ آپ پر کوئی ان کو راہ راست پر لا کھڑا کرنا ضروری تھوڑے ہی ہے؟ وہ اگر آپ کی باتیں نہ مانیں تو آپ پر ان کے اعمال کی پکڑ ہرگز نہیں ‘۔
مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ]
مطلب یہ ہے کہ تبلیغ دین میں شریف و ضعیف، فقیر و غنی، آزاد و غلام، مرد و عورت، چھوٹے بڑے سب برابر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کو یکساں نصیحت کیا کریں ہدایت اللہ کے ہاتھ ہے، وہ اگر کسی کو راہ راست سے دور رکھے تو اس کی حکمت وہی جانتا ہے جسے اپنی راہ لگا لے اسے بھی وہی خوب جانتا ہے۔ سیدنا ابن ام مکتوم کے آنے کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخاطب ابی بن خلف تھا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کی بڑی تکریم اور آؤ بھگت کیا کرتے تھے۔ [مسند ابویعلیٰ]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”میں نے سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو قادسیہ کی لڑائی میں دیکھا ہے، زرہ پہنے ہوئے تھے اور سیاہ جھنڈا لیے ہوئے تھے“ ۱؎ [مسند ابو یعلی:3123:صحیح]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جب یہ آئے اور کہنے لگے کہ حضور مجھے بھلائی کی باتیں سکھایئے اس وقت رؤساء قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف پوری توجہ نہ فرمائی انہیں سمجھاتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے ”کہو میری بات ٹھیک ہے“ وہ کہتے جاتے تھے ہاں حضرت درست ہے۔“ ۱؎ [سنن ترمذي:3331،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ان لوگوں میں عتبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام، عباس بن عبدالمطلب تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی کوشش تھی اور پوری حرص تھی کہ کسی طرح یہ لوگ دین حق کو قبول کر لیں ادھر یہ آ گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی! قرآن پاک کی کوئی آیت مجھے سنایئے اور اللہ کی باتیں سکھایئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت ان کی بات ذرا بے موقع لگی اور منہ پھیر لیا اور ادھر ہی متوجہ رہے۔ جب ان سے باتیں پوری کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے تو آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا اور سر نیچا ہو گیا اور یہ آیتیں اتریں۔ پھر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بڑی عزت کیا کرتے تھے اور پوری توجہ سے کان لگا کر ان کی باتیں سنا کرتے تھے آتے جاتے ہر وقت پوچھتے کہ کچھ کام ہے کچھ حاجت ہے کچھ کہتے ہو کچھ مانگتے ہو؟ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:36319:ضعیف] یہ روایت غریب اور منکر ہے اور اس کی سند میں بھی کلام ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلال رات رہتے ہوئے اذان دیا کرتے ہیں تو تم سحری کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم کی اذان سنو یہ وہ نابینا ہیں جن کے بارے میں «عَبَسَ وَتَوَلّىٰٓ اَنْ جَاءَهُ الْاَعْمٰى» ، یہ بھی مؤذن تھے بینائی میں نقصان تھا جب لوگ صبح صادق دیکھ لیتے اور اطلاع کرتے کہ صبح ہوئی تب یہ اذان کہا کرتے تھے ۱؎ [اسنادہ ضعیف ولہ شواھد صحیح بخاری:617]
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کا مشہور نام تو عبداللہ ہے بعض نے کہا ہے ان کا نام عمرو ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
«إِنَّهَا تَذْكِرَةٌ» یعنی یہ نصیحت ہے اس سے مراد یا تو یہ سورت ہے یا یہ مساوات کہ تبلیغ دین میں سب یکساں ہیں مراد ہے۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں ”مراد اس سے قرآن ہے، جو شخص چاہے اسے یاد کر لے یعنی اللہ کو یاد کرے اور اپنے تمام کاموں میں اس کے فرمان کو مقدم رکھے، یا یہ مطلب ہے کہ وحی الٰہی کو یاد کر لے، یہ سورت اور وعظ و نصیحت بلکہ سارے کا سارا قرآن موقر معزز اور معتبر صحیفوں میں ہے جو بلند قدر اور اعلیٰ مرتبہ والے ہیں جو میل کچیل اور کمی زیادتی سے محفوظ اور پاک صاف ہیں، جو فرشتوں کے پاک ہاتھوں میں ہیں“، اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ ہاتھوں میں ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ”اس سے مراد قاری ہیں۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ نبطی زبان کا لفظ ہے معنی ہیں قاری، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”صحیح بات یہی ہے کہ اس سے مراد فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان سفیر ہیں۔“ سفیر اسے کہتے ہیں کہ جو صلح اور بھلائی کے لیے لوگوں میں کوشش کرتا پھرے، عرب شاعر کے شعر میں یہی معنی پائے جاتے ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937]
وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937]
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد فرشتے ہیں جو فرشتے اللہ کی جانب سے وحی وغیرہ لے کر آتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے لوگوں میں صلح کرانے والے سفیر ہوتے ہیں۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:4937]
وہ ظاہر باطن میں پاک ہیں، وجیہ، خوش رو، شریف اور بزرگ ظاہر میں، اخلاق و افعال کے پاکیزہ باطن میں۔ یہاں سے یہ بھی معلوم کرنا چاہیئے کہ قرآن کے پڑھنے والوں کو اعمال و اخلاق اچھے رکھنے چاہئیں۔
مسند احمد کی ایک حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جو قرآن کو پڑھے اور اس کی مہارت حاصل کرے وہ بزرگ لکھنے والے فرشتوں کے ساتھ ہو گا اور جو باوجود مشقت کے بھی پڑھے اسے دوہرا اجر ملے گا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4937]