اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۷۲﴾
بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنھوں نے جگہ دی اور مدد کی، یہ لوگ! ان کے بعض بعض کے دوست ہیں، اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمھارے لیے ان کی دوستی میں سے کچھ بھی نہیں، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر مدد کرنا لازم ہے، مگر اس قوم کے خلاف کہ تمھارے درمیان اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ ہو اور اللہ اسے جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے۔
En
جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے وہ اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) جگہ دی اور ان کی مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے لیکن ہجرت نہیں کی تو جب تک وہ ہجرت نہ کریں تم کو ان کی رفاقت سے کچھ سروکار نہیں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں تو تم کو مدد کرنی لازم ہوگی۔ مگر ان لوگوں کے مقابلے میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہو (مدد نہیں کرنی چاہیئے) اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور ہجرت کی اور اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راه میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے ان کو پناه دی اور مدد کی، یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں، اور جو ایمان تو ﻻئے ہیں لیکن ہجرت نہیں کی تمہارے لئے ان کی کچھ بھی رفاقت نہیں جب تک کہ وه ہجرت نہ کریں۔ ہاں اگر وه تم سے دین کے بارے میں مدد طلب کریں تو تم پر مدد کرنا ضروری ہے، سوائے ان لوگوں کے کہ تم میں اور ان میں عہد وپیمان ہے، تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ خوب دیکھتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 72) ➊ سورۂ انفال کے آخر میں ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان چار قسم کے تھے، پہلے وہ جو پہلی ہجرت کرنے والے مہاجرین اولین ہیں، دوسرے انصار مدینہ، تیسرے وہ مومن جنھوں نے ہجرت نہیں کی اور چوتھے وہ جنھوں نے صلح حدیبیہ کے بعد ہجرت کی۔
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا …:} ان سے مراد اولین مہاجر ہیں جو سب سے افضل ہیں۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا:} یہ انصار ہیں، ان کی فضیلت بھی بے شمار ہے، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں۔ عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک شخص ہوتا۔“ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ الطائف…: ۴۳۳۰]
➍ { اُولٰٓىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ: ” اَوْلِيَآءُ “} سے مراد دوست، حمایتی اور مدد گار بھی ہو سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی۔ دوسرے مفہوم کے مطابق اشارہ ہو گا اس مؤاخات (بھائی چارے) کی طرف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مہاجرین و انصار کے درمیان قائم کیا، جس کی بنا پر جاہلیت کے رواج کے مطابق آپس میں بھائی بننے والے ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے، یہاں تک کہ میراث کی آیت: «وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ» [الأنفال: ۷۵] نازل ہوئی تو یہ طریقہ منسوخ ہو گیا۔
➎ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يُهَاجِرُوْا:} یہ اس عہد کے مسلمانوں کی تیسری قسم ہے۔ دار الاسلام قائم ہونے کے باوجود اس کی طرف ہجرت نہ کرنے اور کفار کی غلامی میں رہنے پر قناعت کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ایمان کچا ہے، یہ لوگ جہاد میں حصہ لے ہی نہیں سکتے، اس لیے ان کے ساتھ پہلے دو فریقوں جیسی دوستی اور حمایت کسی طرح بھی نہیں ہو سکتی، جب تک ہجرت نہ کریں۔
➏ {وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ …:} مثلاً کافر ان پر ظلم کر رہے ہوں اور وہ تم سے مدد مانگیں تو تم پر انھیں ظالموں کے پنجے سے چھڑانا فرض ہے، فرمایا: «وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا» [النساء: ۷۵] ”اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔“
➐ { اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ:} یعنی اگر تمھارا کفار سے کوئی معاہدہ ہو کہ آپس میں ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے تو تم معاہدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان کی مدد نہیں کر سکتے، بلکہ ان مسلمانوں سے یہی کہا جائے گا کہ ”دارالکفر“ کو چھوڑ کر ”دارالاسلام“ میں چلے آئیں۔
➋ { اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا …:} ان سے مراد اولین مہاجر ہیں جو سب سے افضل ہیں۔
➌ {وَ الَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا:} یہ انصار ہیں، ان کی فضیلت بھی بے شمار ہے، مگر اس بات پر اتفاق ہے کہ مہاجرین انصار سے افضل ہیں۔ عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک شخص ہوتا۔“ [بخاری، المغازی، باب غزوۃ الطائف…: ۴۳۳۰]
➍ { اُولٰٓىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ: ” اَوْلِيَآءُ “} سے مراد دوست، حمایتی اور مدد گار بھی ہو سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی۔ دوسرے مفہوم کے مطابق اشارہ ہو گا اس مؤاخات (بھائی چارے) کی طرف جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مہاجرین و انصار کے درمیان قائم کیا، جس کی بنا پر جاہلیت کے رواج کے مطابق آپس میں بھائی بننے والے ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے، یہاں تک کہ میراث کی آیت: «وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ» [الأنفال: ۷۵] نازل ہوئی تو یہ طریقہ منسوخ ہو گیا۔
➎ { وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ يُهَاجِرُوْا:} یہ اس عہد کے مسلمانوں کی تیسری قسم ہے۔ دار الاسلام قائم ہونے کے باوجود اس کی طرف ہجرت نہ کرنے اور کفار کی غلامی میں رہنے پر قناعت کا مطلب یہ ہے کہ ان کا ایمان کچا ہے، یہ لوگ جہاد میں حصہ لے ہی نہیں سکتے، اس لیے ان کے ساتھ پہلے دو فریقوں جیسی دوستی اور حمایت کسی طرح بھی نہیں ہو سکتی، جب تک ہجرت نہ کریں۔
➏ {وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ …:} مثلاً کافر ان پر ظلم کر رہے ہوں اور وہ تم سے مدد مانگیں تو تم پر انھیں ظالموں کے پنجے سے چھڑانا فرض ہے، فرمایا: «وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا» [النساء: ۷۵] ”اور تمھیں کیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال لے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔“
➐ { اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ:} یعنی اگر تمھارا کفار سے کوئی معاہدہ ہو کہ آپس میں ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے تو تم معاہدے کو پس پشت ڈالتے ہوئے ان کی مدد نہیں کر سکتے، بلکہ ان مسلمانوں سے یہی کہا جائے گا کہ ”دارالکفر“ کو چھوڑ کر ”دارالاسلام“ میں چلے آئیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
72۔ 1 یہ صحابہ مہاجرین کہلاتے ہیں جو فضیلت میں صحابہ میں اول نمبر پر ہیں۔ 72۔ 2 یہ انصار کہلاتے ہیں۔ یہ فضیلت میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ 72۔ 3 یعنی ایک دوسرے کے حمایتی اور مددگار ہیں اور بعض نے کہا کہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔ جیسا کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مہاجر اور ایک ایک انصاری کے درمیان رشتہ اخوت قائم فرما دیا تھا حتٰی کہ وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنتے تھے (بعد میں وارثت کا حکم منسوخ ہوگیا) 72۔ 4 یہ صحابہ کی تیسری قسم ہے جو مہاجرین و انصار کے علاوہ ہیں۔ یہ مسلمان ہونے کے بعد اپنے ہی علاقوں اور قبیلوں میں مقیم رہے۔ اس لئے فرمایا کی تمہاری حمایت یا وراثت کے وہ مستحق نہیں۔ 72۔ 5 مشرکین کے خلاف اگر ان کو تمہاری مدد کی ضرورت پیش آجائے تو پھر ان کی مدد کرنا ضروری ہے۔ 72۔ 6 ہاں اگر وہ تم سے ایسی قوم کے خلاف مدد کے خواہش مند ہوں کہ تمہارے اور ان کے درمیان صلح اور جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے تو پھر ان مسلمانوں کی حمایت کے مقابلے میں، معاہدے کی پاسداری زیادہ ضروری ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
72۔ جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور جانوں سے جہاد کیا، اور وہ لوگ جنہوں نے ان (مہاجرین) کو پناہ دی اور ان کی مدد کی، یہ سب ایک دوسرے کے ولی [74] ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لائے لیکن ہجرت نہیں کی ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں تا آنکہ وہ ہجرت کر کے آجائیں۔ اور اگر وہ دین کے بارے میں تم سے مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے۔ مگر کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جن سے تمہارا معاہدہ ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے
[74] ولی کا مفہوم مواخات اور وراثت:۔
ولی کا لفظ عربی لغت میں بہت وسیع المعنی ہے اور اس کے معنی دوست، حمایتی، مددگار، سرپرست، وارث، پشتیبان اور قریبی رشتہ دار سب معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد عموماً ایسا شخص ہوتا ہے جو کسی کی موت یا مصیبت کے وقت مدد یا دیت کی ادائیگی یا وراثت کے لحاظ سے سب سے قریب تر ہو۔ ان آیات میں دار الاسلام اور دار الحرب میں رہنے والے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کے متعلق احکام بیان کیے جا رہے ہیں۔ جو مسلمان مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچ رہے تھے۔ ان کا ایک بنیادی مسئلہ ان کی آبادکاری اور فکر معاش کا تھا۔ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات یا بھائی چارہ کا سلسلہ قائم کیا اور بروایت سیدنا انس بن مالکؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں مختلف اوقات میں تین مجلسوں میں تقریباً تینتالیس مہاجرین اور انصار کو مواخات کے سلسلہ میں منسلک کر دیا۔ یعنی ایک مہاجر کو ایک انصاری کے ساتھ ملا کر انہیں بھائی بھائی بنا دیا اور اس مہاجر کے مسائل اور بنیادی ضروریات کو اس انصاری کے ذمہ ڈال دیا۔ جسے انصار نے نہایت وسیع الظرفی اور خوشدلی کے ساتھ قبول کر لیا اور یہ بھائی چارہ یا ولایت اس درجہ تک بڑھی کہ اصلی وارثوں کو چھوڑ کر یہی بھائی ایک دوسرے کے ولی اور وارث ہوتے تھے۔ [بخاري۔ كتاب التفسير زير آيت: ﴿وَالَّذِيْنَ عَقَدَتْ اَيْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِيْبَهُمْ﴾]
اب یہ تو ظاہر ہے کہ اس وقت دار الاسلام صرف مدینہ تھا۔ جہاں مکہ اور دیگر اطراف سے مسلمان ہجرت کر کے پہنچ رہے تھے اور مدینہ کے سوا باقی سارا عرب دار الحرب یا دار الکفر تھا۔ جبکہ مسلمان مکہ اور دیگر اطراف میں بھی موجود تھے۔ اس پس منظر میں اس سورۃ انفال کی آخری چار آیات میں دار الاسلام کے مسلمانوں کے آپس میں تعلقات بیرونی مسلمانوں سے تعلقات اور حکومتوں کے باہمی معاہدات سے احکام دیئے گئے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔
اب یہ تو ظاہر ہے کہ اس وقت دار الاسلام صرف مدینہ تھا۔ جہاں مکہ اور دیگر اطراف سے مسلمان ہجرت کر کے پہنچ رہے تھے اور مدینہ کے سوا باقی سارا عرب دار الحرب یا دار الکفر تھا۔ جبکہ مسلمان مکہ اور دیگر اطراف میں بھی موجود تھے۔ اس پس منظر میں اس سورۃ انفال کی آخری چار آیات میں دار الاسلام کے مسلمانوں کے آپس میں تعلقات بیرونی مسلمانوں سے تعلقات اور حکومتوں کے باہمی معاہدات سے احکام دیئے گئے ہیں جو پیش خدمت ہیں۔
دار الحرب اور دار الاسلام میں رہنے والے مسلمانوں کے باہمی تعلقات کی مختلف صورتیں اور اسلام کی خارجہ پالیسی:۔
1۔ انصار اور مہاجرین جو مدینہ آچکے ہیں۔ یہ سب مواخات کی رو سے، ایک دوسرے کے ولی بھی ہیں اور وارث بھی جیسا کہ سورۃ نساء کی آیت نمبر 33 سے بھی واضح ہوتا ہے۔
2۔ اور جو مسلمان ہجرت کر کے مدینہ نہیں پہنچے۔ وہ نہ تمہارے ولی یا وارث ہیں اور نہ تم ان کے ولی یا وارث ہو سکتے ہوتا آنکہ وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس نہ پہنچ جائیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دار الحرب میں رہنے والا مسلمان دار الاسلام میں رہنے والے مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا اور اس کے برعکس بھی۔ جیسا کہ ایک مسلمان کافر کا یا کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔
3۔ دار الاسلام میں رہنے والے مسلمانوں یا ان کی حکومت پر دار الحرب میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اس حکم کے مطابق ان تمام بین الاقوامی تنازعات کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ جہاں کوئی حکومت کسی دوسری حکومت میں بسنے والی اقلیت کی ذمہ داریاں اپنے سر لیتی ہے۔
4۔ اگر دار الحرب میں بسنے والے مسلمانوں پر زیادتی اور ظلم روا رکھا جا رہا ہو اور وہ دار الاسلام کے مسلمانوں یا ان کی حکومت سے اس کے مقابلہ میں مدد طلب کریں تو دار الاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
5۔ اور اگر مدد طلب کرنے والے مسلمان کسی ایسے ملک میں بستے ہوں۔ جس کا اسلامی حکومت سے معاہدہ امن و آشتی طے پا چکا ہو تو اس صورت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے بین الاقوامی معاہدہ کا پاس رکھنا زیادہ ضروری ہے اور مسلمانوں کی مدد مانگنے کے باوجود ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
6۔ البتہ ایسے مسلمان جو اس معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت کی حدود سے باہر رہتے ہیں۔ وہ اس اضافی پابندی کے ذمہ دار نہیں۔ وہ چاہیں تو ایسے مظلوم مسلمانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں۔ معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت ان کے بارے میں مسؤل نہیں ہو گی۔
2۔ اور جو مسلمان ہجرت کر کے مدینہ نہیں پہنچے۔ وہ نہ تمہارے ولی یا وارث ہیں اور نہ تم ان کے ولی یا وارث ہو سکتے ہوتا آنکہ وہ ہجرت کر کے تمہارے پاس نہ پہنچ جائیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دار الحرب میں رہنے والا مسلمان دار الاسلام میں رہنے والے مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا اور اس کے برعکس بھی۔ جیسا کہ ایک مسلمان کافر کا یا کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔
3۔ دار الاسلام میں رہنے والے مسلمانوں یا ان کی حکومت پر دار الحرب میں رہنے والے مسلمانوں سے متعلق کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ اس حکم کے مطابق ان تمام بین الاقوامی تنازعات کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ جہاں کوئی حکومت کسی دوسری حکومت میں بسنے والی اقلیت کی ذمہ داریاں اپنے سر لیتی ہے۔
4۔ اگر دار الحرب میں بسنے والے مسلمانوں پر زیادتی اور ظلم روا رکھا جا رہا ہو اور وہ دار الاسلام کے مسلمانوں یا ان کی حکومت سے اس کے مقابلہ میں مدد طلب کریں تو دار الاسلام کے مسلمانوں پر ان کی مدد کرنا فرض ہو جاتا ہے۔
5۔ اور اگر مدد طلب کرنے والے مسلمان کسی ایسے ملک میں بستے ہوں۔ جس کا اسلامی حکومت سے معاہدہ امن و آشتی طے پا چکا ہو تو اس صورت میں مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے بین الاقوامی معاہدہ کا پاس رکھنا زیادہ ضروری ہے اور مسلمانوں کی مدد مانگنے کے باوجود ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
6۔ البتہ ایسے مسلمان جو اس معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت کی حدود سے باہر رہتے ہیں۔ وہ اس اضافی پابندی کے ذمہ دار نہیں۔ وہ چاہیں تو ایسے مظلوم مسلمانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور جس طرح چاہیں کر سکتے ہیں۔ معاہدہ کرنے والی اسلامی حکومت ان کے بارے میں مسؤل نہیں ہو گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مجاہدین بدر کی شان ٭٭
مسلمانوں کی قسمیں بیان ہو رہی ہیں ایک تو مہاجر جنہوں نے اللہ کے نام پر وطن ترک کیا اپنے گھربار، مال، تجارت، کنبہ، قبیلہ، دوست احباب چھوڑے، اللہ کے دین پر قائم رہنے کے لیے نہ جان کو جان سمجھا نہ مال کو مال۔
دوسرے انصار، مدنی جنہوں نے ان مہاجروں کو اپنے ہاں ٹھہرایا اپنے مالوں میں ان کا حصہ لگا دیا ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمنوں سے لڑائی کی یہ سب آپس میں ایک ہی ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں بھائی چارہ کرا دیا ایک انصاری ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنا دیا۔ یہ بھائی بندی قرابت داری سے بھی مقدم تھی ایک دوسرے کا وارث بنتا تھا آخر میں یہ منسوخ ہو گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مہاجرین اور انصار سب آپس میں ایک دوسرے کے والی وارث ہیں اور فتح مکہ کے بعد کے آزاد کردہ مسلمان لوگ قریشی اور آزاد شدہ ثقیف آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں قیامت تک۔} ۱؎ [مسند احمد:363/4:صحیح] اور روایت میں ہے { دنیا اور آخرت میں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:5033:ضعیف]
مہاجر و انصار کی تعریف میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں فرمان ہے۔ «وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [9- التوبہ: 100] ’ پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے احسان کے تابعدار وہ ہیں جن سے اللہ خوش ہے اور وہ اس سے خوش ہیں اس نے ان کے لیے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے درختوں کے نیچے چشمے بہ رہے ہیں۔‘
اور آیت میں ہے «لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ» ۱؎ [9-التوبة: 117] ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان مہاجرین و انصار پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کی توجہ فرمائی جنہوں نے سختی کے وقت بھی آپ کی اتباع نہ چھوڑی۔‘
دوسرے انصار، مدنی جنہوں نے ان مہاجروں کو اپنے ہاں ٹھہرایا اپنے مالوں میں ان کا حصہ لگا دیا ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمنوں سے لڑائی کی یہ سب آپس میں ایک ہی ہیں۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں بھائی چارہ کرا دیا ایک انصاری ایک مہاجر کو بھائی بھائی بنا دیا۔ یہ بھائی بندی قرابت داری سے بھی مقدم تھی ایک دوسرے کا وارث بنتا تھا آخر میں یہ منسوخ ہو گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مہاجرین اور انصار سب آپس میں ایک دوسرے کے والی وارث ہیں اور فتح مکہ کے بعد کے آزاد کردہ مسلمان لوگ قریشی اور آزاد شدہ ثقیف آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں قیامت تک۔} ۱؎ [مسند احمد:363/4:صحیح] اور روایت میں ہے { دنیا اور آخرت میں۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:5033:ضعیف]
مہاجر و انصار کی تعریف میں اور بھی بہت سی آیتیں ہیں فرمان ہے۔ «وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ» ۱؎ [9- التوبہ: 100] ’ پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین و انصار اور ان کے احسان کے تابعدار وہ ہیں جن سے اللہ خوش ہے اور وہ اس سے خوش ہیں اس نے ان کے لیے جنتیں تیار کر رکھی ہیں جن کے درختوں کے نیچے چشمے بہ رہے ہیں۔‘
اور آیت میں ہے «لَقَدْ تَّاب اللّٰهُ عَلَي النَّبِيِّ وَالْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ فِيْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ» ۱؎ [9-التوبة: 117] ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان مہاجرین و انصار پر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کی توجہ فرمائی جنہوں نے سختی کے وقت بھی آپ کی اتباع نہ چھوڑی۔‘
اور آیت میں ہے «لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَـٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [59-الحشر: 8، 9] ’ ان مہاجر محتاجوں کے لیے جو اپنے مالوں سے اور اپنے شہروں سے نکال دئیے گئے جو اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی جستجو میں ہیں جو اللہ کی اور رسول کی مدد میں لگے ہوئے ہیں یہی سچے لوگ ہیں۔ اور جنہوں نے ان کو جگہ دی ان سے محبت رکھی انہیں کشادہ دلی کے ساتھ دیا بلکہ اپنی ضرورت پر ان کی حاجت کو مقدم رکھا۔‘ یعنی جو ہجرت کی فضیلت اللہ نے مہاجرین کو دی ہے ان پر وہ ان کا حسد نہیں کرتے۔ ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مہاجر انصار پر مقدم ہیں۔ علماء کا اس میں اتفاق ہے۔
مسند بزار میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ہجرت اور نصرت میں اختیار دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کو پسند فرمایا۔۱؎ [مسند بزار:2818:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ترک وطن نہیں کیا تھاانہیں ان کی رفاقت حاصل نہیں۔‘ یہ مومنوں کی تیسری قسم ہے جو اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ان کا مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ تھا نہ خمس میں ہاں کسی لڑائی میں شرکت کریں تو اور بات ہے۔
مسند بزار میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ہجرت اور نصرت میں اختیار دیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے ہجرت کو پسند فرمایا۔۱؎ [مسند بزار:2818:ضعیف]
پھر فرماتا ہے ’ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ترک وطن نہیں کیا تھاانہیں ان کی رفاقت حاصل نہیں۔‘ یہ مومنوں کی تیسری قسم ہے جو اپنی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے ان کا مال غنیمت میں کوئی حصہ نہ تھا نہ خمس میں ہاں کسی لڑائی میں شرکت کریں تو اور بات ہے۔
مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کو کسی فوجی دستے کا سپہ سالار بنا کر بھیجتے تو اسے نصیحت فرماتے کہ { دیکھو اپنے دل میں اللہ کا ڈر رکھنا، مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ خیر خواہانہ برتاؤ کرنا۔ جاؤ اللہ کا نام لے کر اللہ کی راہ میں جہاد کرو، اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے لڑو، اپنے دشمن مشرکوں کے سامنے تین باتیں پیش کرو، ان میں سے جو بھی وہ منظور کر لیں انہیں اختیار ہے۔ ان سے کہو کہ اسلام قبول کریں، اگر مان لیں تو پھر ان سے رک جاؤ اور ان میں سے جو اس پر قائم ہو جائیں گے اور جو مہاجروں پر ہے ان پر بھی ہو گا۔ ورنہ یہ دیہات کے اور مسلمانوں کی طرح ہوں گے ایمان کے احکام ان پر جاری رہیں گے۔ فے اور غینمت کے مال میں ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کسی فوج میں شرکت کریں اور کوئی معرکہ سر کریں۔ یہ نہ مانیں تو انہیں کہو کہ جزیہ دیں اگر یہ قبول کر لیں تو تم لڑائی سے رک جاؤ اور ان سے جزیہ لے لیا کرو۔ اگر ان دونوں باتوں کا انکار کریں تو اللہ کی مدد کے بھروسے پر اللہ سے نصرت طلب کر کے ان سے جہاد کرو۔ جو دیہاتی مسلمان وہیں مقیم ہیں ہجرت نہیں کی یہ اگر کسی وقت تم سے مدد کی خواہش کریں، دشمنان دین کے مقابلے میں تمہیں بلائیں تو ان کی مدد تم پر واجب ہے لیکن اگر مقابلے پر کوئی ایسا قبیلہ ہو کہ تم میں اور ان میں صلح کا معاہدہ ہے تو خبردار تم عہد شکنی نہ کرنا۔ قسمیں نہ توڑنا۔}