تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
سن ۲ ہجری غزوۂ بدر میں قیدی بنانے میں عجلت کے بعد دوسری فر و گزاشت یہ ہوئی کہ قیدیوں کا فیصلہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا، کیونکہ اس وقت فدیہ لینے کے بجائے انھیں قتل کرنے سے کفر کی کمر مزید ٹوٹتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام مسلمانوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (جنگ بدر میں) جب قیدی گرفتار کر لیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ فرمایا کہ ان قیدیوں کے متعلق تمھاری کیا رائے ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا زاد بھائی اور خاندان ہی کے لوگ ہیں، سو میری رائے تو یہ ہے کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے، تاکہ (اس رقم سے) کفار کے مقابلے میں قوت حاصل ہو اور کیا عجب کہ اللہ انھیں اسلام کی ہدایت دے دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! تمھاری کیا رائے ہے؟“ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! میری رائے ابو بکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے، میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کیجیے، تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ عقیل کو علی کے حوالے کیجیے، تاکہ وہ اس کی گردن اڑائیں اور میرے حوالے فلاں کو کیجیے، تاکہ میں اس کی گردن اڑاؤں، اس لیے کہ یہ لوگ کفر کے سرغنے اور اس کے سردار ہیں۔ (اکثر مسلمانوں کی رائے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق تھی، کچھ مالی فائدے کے پیش نظر اور کچھ انسانی اور رشتہ داری کی محبت کی وجہ سے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے اختیار فرمائی اور میری رائے اختیار نہیں کی، پھر جب دوسرے دن کی صبح ہوئی، میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے بھی بتائیے آپ اور آپ کے دوست کیوں رو رہے ہیں، تاکہ اگر مجھے رونا آئے تو میں بھی روؤں، ورنہ کم از کم آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے والی صورت ہی بنا لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس فیصلے کے مشورے کی وجہ سے رو رہا ہوں جو تمھارے ساتھیوں نے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے متعلق دیا تھا، اب میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی قریب تھا۔“ اور آپ کے قریب ایک درخت تھا۔“ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ» [الأنفال: ۶۷] [مسلم، الجہاد، باب الإمداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر …: ۱۷۶۳] علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے متعلق اختیار دیں کہ انھیں قتل کر دیں یا فدیہ لے لیں، اس شرط پر کہ ان میں سے آئندہ اتنے ہی قتل کیے جائیں گے۔ انھوں نے فدیہ لینا اور آئندہ اپنے آدمیوں کی شہادت اختیار کی۔ [ترمذی، السیر، باب ما جاء فی قتل الأساری و الفداء: ۱۵۶۷ وقال الألبانی صحیح] یہ صورت چونکہ بہتر نہ تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب فرمایا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اسی سورۃ کے شروع میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے صحیح مسلم میں بھی اسی جیسی حدیث ہے کہ بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ } سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم والے ہیں انہیں زندہ چھوڑا جائے ان سے توبہ کرالی جائے گی عجب کہ کل اللہ کی ان پر مہربانی ہو جائے۔“ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دینے والے ہیں حکم دیجئیے کہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔“
ان قیدیوں میں عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے انہیں ایک انصاری نے گرفتار کیا تھا انصار کا خیال تھا کہ اسے قتل کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حال معلوم تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو مجھے اس خیال سے نیند نہیں آئی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں انصار کے پاس جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انصار کے پاس آئے اور کہا ”عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دو“ انہوں نے جواب دیا واللہ ہم اسے نہ چھوریں آپ نے فرمایا”گو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اسی میں ہو؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ اب انہیں لے جائیں ہم نے بخوشی چھوڑا۔ اب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ”عباس اب مسلمان ہو جاؤ واللہ تمہارے اسلام لانے سے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے بھی زیادہ خوشی ہو گی اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اسلام لانے سے خوش ہو جائیں گے۔“
ان قیدیوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ نے تو فرمایا یہ سب ہمارے ہی کنبے قبیلے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجئیے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جب مشورہ لیا تو آپ نے جواب دیا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:329/2:حسن]
ان بدری قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اے صحابیو اگر چاہو تو انہیں قتل کر دو اور اگر چاہو ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں رہا کر دو لیکن اس صورت میں اتنے ہی آدمی تمہارے شہید کئے جائیں گے۔} پس ان ستر شہیدوں میں سب سے آخر ثاب بین قیس رضی اللہ عنہما تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ، یہ روایت سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مرسلاً بھی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
’ اگر پہلے ہی سے اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت سے حلال نہ لکھا ہوا ہوتا اور جب تک ہم بیان نہ فرمادیں تب تک عذاب نہیں کیا کرتے ایسادستور ہمارا نہ ہوتا تو جو مال فدیہ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا اسی طرح پہلے سے اللہ طے کر چکا ہے کہ کسی بدری صحابی رضی اللہ عنہم کو وہ عذاب نہیں کرے گا۔ ان کے لیے مغفرت کی تحریر ہو چکی ہے۔ ام الکتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت کی حلت لکھی جا چکی ہے۔ پس مال غنیمت تمہارے لیے حلال طیب ہے شوق سے کھاؤ پیو اور اپنے کام میں لاؤ۔‘
پہلے لکھا جا چکا تھا کہ اس امت کے لیے یہ حلال ہے یہی قول امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے اور اسی کی شہادت بخاری مسلم کی حدیث سے ملتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مہینے بھر کے فاصلے تک میری مدد رعب سے کی گئی۔میرے لیے پوری زمین مسجد پاکی اور نماز کی جگہ بنا دی گئی مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں، مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی ہر نبی خاصتہ اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا لیکن میں عام لوگوں کی طرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:335]
پس صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان بدری قیدیوں سے فدیہ لیا اور ابوداؤد میں ہے ہر ایک سے چار سو کی رقم بطور تاوان جنگ کے وصول کی گئی۔۱؎ [سنن ابوداود:2691،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پس جمہور علماء کرام کا مذہب یہ ہے کہ امام وقت کو اختیار ہے کہ اگر چاہے قیدی کفار کو قتل کر دے، جیسے بنو قریضہ کے قدیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ اگر چاہے بدلے کا مال لے کر انہیں چھوڑ دے جیسے کہ بدری قیدیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے جیسے کہ حضور اللہ علیہ والہ وسلم نے قبیلہ سلمہ بن اکوع کی ایک عورت اس کی لڑکی مشرکوں کے پاس جو مسلمان قیدی تھے ان کے بدلے میں دیا اور اگر چاہے انہیں غلام بنا کر رکھے۔ یہی مذہب امام شافعی کا اور علماء کرام کی ایک جماعت کا ہے۔ گو اوروں نے اس کا خلاف بھی کیا ہے یہاں اس کی تفصیل کی جگہ نہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه معاتبة من الله لرسوله وللمؤمنين يوم بدر إذ أسروا المشركين وأبقوهم لأجل الفداء، وكان رأي أمير المؤمنين عمر بن الخطاب في هذه الحال قتلَهم واستئصالهم، فقال تعالى: {ما كان لنبيٍّ أن يكونَ له أسرى حتَّى يُثْخِنَ في الأرض}؛ أي: ما ينبغي ولا يليق به إذا قاتل الكفار الذين يريدون أن يطفئوا نور الله، ويسعَوْن لإخماد دينه وأن لا يبقى على وجه الأرض مَن يعبدُ الله أن يتسرَّع إلى أسرهم وإبقائهم لأجل الفداء الذي يحصُلُ منهم، وهو عَرَضٌ قليلٌ بالنسبة إلى المصلحة المقتضية لإبادتهم وإبطال شرِّهم؛ فما دام لهم شرٌّ وصولةٌ؛ فالأوفق أن لا يؤسروا؛ فإذا أُثخنوا، وبَطَلَ شرُّهم، واضمحلَّ أمرُهم؛ فحينئذٍ لا بأس بأخذ الأسرى منهم وإبقائهم. يقول تعالى: {تريدون}: بأخذكم الفداء وإبقائهم {عَرَضَ الحياة الدُّنيا}؛ أي: لا لمصلحة تعودُ إلى دينكم. {والله يريدُ الآخرة}: بإعزاز دينه ونصر أوليائه وجعل كلمتهم عاليةً فوق غيرهم، فيأمركم بما يوصل إلى ذلك. {والله عزيزٌ حكيمٌ}؛ أي: كامل العزة، لو شاء أن ينتصر من الكفار من دون قتال؛ لفعلَ، ولكنه حكيمٌ يبتلي بعضكم ببعض.