ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 67

مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۷﴾
En
پیغمبر کو شایان نہیں کہ اس کے قبضے میں قیدی رہیں جب تک (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں کثرت سے خون (نہ) بہا دے۔ تم لوگ دنیا کے مال کے طالب ہو۔ اور خدا آخرت (کی بھلائی) چاہتا ہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے
En
نبی کے ہاتھ میں قیدی نہیں چاہییں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے۔ تم تو دنیا کے مال چاہتے ہو اور اللہ کا اراده آخرت کا ہے اور اللہ زور آور باحکمت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67){مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى …:} کسی نبی کے لیے جائز نہیں کہ وہ قیدی بنائے، پھر انھیں قید رکھے یا احسان کرے یا فدیہ لے، جب تک میدانِ جنگ میں خوب خون ریزی کے بعد کفر کی کمر نہ ٹوٹ جائے اور وہ دوبارہ مقابلے کے قابل نہ رہ جائیں، اس کے بعد قیدی بنانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن مسلمانو! تم نے بدر میں قیدی بنانے میں جلدی سے کام لیا، تم فدیے کی صورت میں دنیا کا سامان چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ تمھارے لیے اعلائے کلمۃ اللہ کے ذریعے سے آخرت کے ثواب کا ارادہ رکھتا تھا اور اللہ سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے، تمھارا یہ عمل عزت و حکمت کے مطابق نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «فَاِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ» ‏‏‏‏ [محمد: ۴] تو جب ان لوگوں سے ملو جنھوں نے کفر کیا تو گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب انھیں خوب قتل کر چکو تو (ان کو) مضبوط باندھ لو۔
سن ۲ ہجری غزوۂ بدر میں قیدی بنانے میں عجلت کے بعد دوسری فر و گزاشت یہ ہوئی کہ قیدیوں کا فیصلہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا، کیونکہ اس وقت فدیہ لینے کے بجائے انھیں قتل کرنے سے کفر کی کمر مزید ٹوٹتی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت تمام مسلمانوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ (جنگ بدر میں) جب قیدی گرفتار کر لیے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے مشورہ فرمایا کہ ان قیدیوں کے متعلق تمھاری کیا رائے ہے؟ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ ہمارے چچا زاد بھائی اور خاندان ہی کے لوگ ہیں، سو میری رائے تو یہ ہے کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے، تاکہ (اس رقم سے) کفار کے مقابلے میں قوت حاصل ہو اور کیا عجب کہ اللہ انھیں اسلام کی ہدایت دے دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! تمھاری کیا رائے ہے؟ عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا، اے اللہ کے رسول! میری رائے ابو بکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے، میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ان کو ہمارے حوالے کیجیے، تاکہ ہم ان کی گردنیں اڑا دیں۔ عقیل کو علی کے حوالے کیجیے، تاکہ وہ اس کی گردن اڑائیں اور میرے حوالے فلاں کو کیجیے، تاکہ میں اس کی گردن اڑاؤں، اس لیے کہ یہ لوگ کفر کے سرغنے اور اس کے سردار ہیں۔ (اکثر مسلمانوں کی رائے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق تھی، کچھ مالی فائدے کے پیش نظر اور کچھ انسانی اور رشتہ داری کی محبت کی وجہ سے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے اختیار فرمائی اور میری رائے اختیار نہیں کی، پھر جب دوسرے دن کی صبح ہوئی، میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ بیٹھے رو رہے ہیں۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! مجھے بھی بتائیے آپ اور آپ کے دوست کیوں رو رہے ہیں، تاکہ اگر مجھے رونا آئے تو میں بھی روؤں، ورنہ کم از کم آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے والی صورت ہی بنا لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اس فیصلے کے مشورے کی وجہ سے رو رہا ہوں جو تمھارے ساتھیوں نے قیدیوں سے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کے متعلق دیا تھا، اب میرے سامنے ان کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی قریب تھا۔ اور آپ کے قریب ایک درخت تھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ» [الأنفال: ۶۷] [مسلم، الجہاد، باب الإمداد بالملائکۃ فی غزوۃ بدر …: ۱۷۶۳] علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جبریل علیہ السلام اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو بدر کے قیدیوں کے متعلق اختیار دیں کہ انھیں قتل کر دیں یا فدیہ لے لیں، اس شرط پر کہ ان میں سے آئندہ اتنے ہی قتل کیے جائیں گے۔ انھوں نے فدیہ لینا اور آئندہ اپنے آدمیوں کی شہادت اختیار کی۔ [ترمذی، السیر، باب ما جاء فی قتل الأساری و الفداء: ۱۵۶۷ وقال الألبانی صحیح] یہ صورت چونکہ بہتر نہ تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب فرمایا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

67۔ 1 جنگ بدر میں ستر کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لئے گئے، یہ کفر و اسلام کا چونکہ پہلا معرکہ تھا۔ اس لئے قیدیوں کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کیا جائے؟ ان کی بابت احکام پوری طرح واضح نہیں تھے چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ستر قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے؟ ان کو قتل کردیا جائے یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے؟ جواز کی حد تک دونوں ہی باتوں کی گنجائش تھی۔ اس لئے دونوں ہی باتیں زیر غور آئیں۔ لیکن بعض دفعہ جواز اور عدم جواز سے قطع نظر حالات و ظروف کے اعتبار سے زیادہ بہتر صورت اختیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جواز کو سامنے رکھتے ہوئے کم تر صورت اختیار کرلی گئی، جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب نازل ہوا۔ مشورے میں حضرت عمر وغیرہ نے مشورہ دیا کہ کفر کی قوت و شوکت توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ ان قیدیوں کو قتل کردیا جائے، کیونکہ یہ کفر اور کافروں کے سرغنے ہیں، یہ آزاد ہو کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زیادہ سازشیں کریں گے۔ جبکہ حضرت ابوبکر کی رائے اس سے برعکس تھی کہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے اور اس مال سے آئندہ جنگ کی تیاری کی جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی رائے کو پسند فرمایا جس پر یہ اور اس کے بعد کی آیات نازل ہوئیں۔ جب کفر کا غلبہ ختم ہوگیا تو قیدیوں کے بارے میں امام وقت کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہے تو قتل کردے، فدیہ لے کر چھوڑ دے یا مسلمان قیدیوں کے ساتھ تبادلہ کرلے اور چاہے تو ان کو غلام بنا لے، حالات کے مطابق کوئی بھی صورت اختیار کرنا جائز ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ نبی کے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ اس کے پاس جنگی قیدی آتے تا آنکہ زمین (میدان جنگ) میں کافروں کو اچھی طرح قتل نہ کر دیا جاتا۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو جبکہ اللہ (تمہارے لیے) آخرت چاہتا ہے۔ اور اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اسیران بدر اور مشورہ ٭٭
مسند امام احمد میں ہے کہ بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ لیا کہ { اللہ نے انہیں تمہارے قبضے میں دے دیا ہے بتاؤ کیا ارادہ ہے؟} سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ ان کی گردنیں اڑا دی جائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا پھر فرمایا: { اللہ نے تمہارے بس میں کر دیا ہے یہ کل تک تمہارے بھائی بند ہی تھے۔} پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنا جواب دوہرایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منہ پھیر لیا اور پھر وہی فرمایا اب کی دفعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری رائے میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خطا سے درگزر فرما لیجئے اور انہیں فدیہ لے کر آزاد کیجئے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے غم کے آثار جاتے رہے عفو عام کر دیا اور فدیہ لے کر سب کو آزاد کر دیا اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت اتاری۔۱؎ [مسند احمد:243/3:حسن لغیرہ]‏‏‏‏
اسی سورۃ کے شروع میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت گزر چکی ہے صحیح مسلم میں بھی اسی جیسی حدیث ہے کہ بدر کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ { ان قیدیوں کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟ } سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم والے ہیں انہیں زندہ چھوڑا جائے ان سے توبہ کرالی جائے گی عجب کہ کل اللہ کی ان پر مہربانی ہو جائے۔ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دینے والے ہیں حکم دیجئیے کہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی میدان میں درخت بکثرت ہیں آگ لگوا دیجئیے اور انہیں جلا دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو رہے کسی کو کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کر تشریف لے گئے لوگوں میں بھی ان تینوں بزرگوں کی رائے کا ساتھ دینے والے ہو گئے اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر تشریف لائے اور فرمانے لگے{ بعض دل نرم ہوتے ہوتے دودھ سے بھی زیادہ نرم ہو جاتے ہیں اور بعض دل سخت ہوتے ہوتے پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو جاتے ہیں۔ اے ابوبکر تمہاری مثال نبی کریم ابراہیم علیہ السلام جیسی ہے کہ «فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [14-ابراھیم: 36]‏‏‏‏ ’ اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ میرے تابعدار تو میرے ہیں ہی لیکن مخالف بھی تیری معافی اور بخشش کے ماتحت ہیں‘ اور تمہاری مثال عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے «إِن تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِن تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» ‏‏‏‏ ۱؎ [5-المائدہ: 118]‏‏‏‏ ’ جو کہیں گے یا اللہ اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر انہیں بخش دے تو تو عزیز و حکیم ہے‘ اور اے عمر تمہاری مثال موسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بد دعا کی کہ «رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَىٰ أَمْوَالِهِمْ وَاشْدُدْ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوا حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس: 88]‏‏‏‏ ’ اے پروردگار ان کے مال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم نہ دیکھ لیں‘، اور اے عمر تمہاری مثال نوح علیہ السلام جیسی ہے جنہوں نے اپنی قوم پر بد دعا کی کہ «‏‏‏‏لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا» ۱؎ [71-نوح: 26]‏‏‏‏ ’ یا اللہ زمین پر کسی کافر کو بستا ہوا باقی نہ رکھ۔‘ سنو تمہیں اس وقت احتیاج ہے ان قیدیوں میں سے کوئی بھی بغیر فدیئے کے رہا نہ ہو ورنہ ان کی گردنیں ماری جائیں۔}
اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سہیل بن بیضا کو اس سے مخصوص کر لیا جائے اس لیے وہ اسلام کا ذکر کیا کرتا تھا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے واللہ میں سارا دن خوف زدہ رہا کہ کہیں مجھ پر آسمان سے پتھر نہ برسائے جائیں یہاں تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { مگر سہیل بن بیضا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے} یہ حدیث ترمذی مسند احمد وغیرہ میں ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3084،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
ان قیدیوں میں عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے انہیں ایک انصاری نے گرفتار کیا تھا انصار کا خیال تھا کہ اسے قتل کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ حال معلوم تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کو مجھے اس خیال سے نیند نہیں آئی۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو میں انصار کے پاس جاؤں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انصار کے پاس آئے اور کہا عباس رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دو انہوں نے جواب دیا واللہ ہم اسے نہ چھوریں آپ نے فرمایاگو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا مندی اسی میں ہو؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو آپ اب انہیں لے جائیں ہم نے بخوشی چھوڑا۔ اب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ عباس اب مسلمان ہو جاؤ واللہ تمہارے اسلام لانے سے مجھے اپنے باپ کے اسلام لانے سے بھی زیادہ خوشی ہو گی اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے اسلام لانے سے خوش ہو جائیں گے۔
ان قیدیوں کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا تو آپ نے تو فرمایا یہ سب ہمارے ہی کنبے قبیلے کے لوگ ہیں انہیں چھوڑ دیجئیے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے جب مشورہ لیا تو آپ نے جواب دیا کہ ان سب کو قتل کر دیا جائے۔ آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے کر انہیں آزاد کیا۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:329/2:حسن]‏‏‏‏
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اختیار دیجئیے کہ وہ ان دو باتوں میں سے ایک کو پسند کر لیں اگر چاہیں تو فدیہ لے لیں اور اگر چاہیں تو ان قیدیوں کو قتل کر دیں لیکن یہ یاد رہے کہ فدیہ لینے کی صورت میں اگلے سال ان میں اتنے ہی شہید ہوں گے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا ہمیں یہ منطور ہے اور ہم فدیہ لے کر چھوڑیں گے [ترمذی نسائی وغیرہ]‏‏‏‏ لیکن یہ حدیث بہت ہی غریب ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:1567،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
ان بدری قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ { اے صحابیو اگر چاہو تو انہیں قتل کر دو اور اگر چاہو ان سے زر فدیہ وصول کر کے انہیں رہا کر دو لیکن اس صورت میں اتنے ہی آدمی تمہارے شہید کئے جائیں گے۔} پس ان ستر شہیدوں میں سب سے آخر ثاب بین قیس رضی اللہ عنہما تھے جو جنگ یمامہ میں شہید ہوئے رضی اللہ عنہ، یہ روایت سیدنا عبیدہ رضی اللہ عنہ سے مرسلاً بھی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
’ اگر پہلے ہی سے اللہ کی کتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت سے حلال نہ لکھا ہوا ہوتا اور جب تک ہم بیان نہ فرمادیں تب تک عذاب نہیں کیا کرتے ایسادستور ہمارا نہ ہوتا تو جو مال فدیہ تم نے لیا اس پر تمہیں بڑا بھاری عذاب ہوتا اسی طرح پہلے سے اللہ طے کر چکا ہے کہ کسی بدری صحابی رضی اللہ عنہم کو وہ عذاب نہیں کرے گا۔ ان کے لیے مغفرت کی تحریر ہو چکی ہے۔ ام الکتاب میں تمہارے لیے مال غنیمت کی حلت لکھی جا چکی ہے۔ پس مال غنیمت تمہارے لیے حلال طیب ہے شوق سے کھاؤ پیو اور اپنے کام میں لاؤ۔‘
پہلے لکھا جا چکا تھا کہ اس امت کے لیے یہ حلال ہے یہی قول امام ابن جریر کا پسندیدہ ہے اور اسی کی شہادت بخاری مسلم کی حدیث سے ملتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے پانچ چیزیں دی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں مہینے بھر کے فاصلے تک میری مدد رعب سے کی گئی۔میرے لیے پوری زمین مسجد پاکی اور نماز کی جگہ بنا دی گئی مجھ پر غنیمتیں حلال کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی پر حلال نہ تھیں، مجھے شفاعت عطا فرمائی گئی ہر نبی خاصتہ اپنی قوم کی طرف ہی بھیجا جاتا تھا لیکن میں عام لوگوں کی طرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:335]‏‏‏‏
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { کسی سیاہ سر والے انسان کے لیے میرے سوا غنیمت حلال نہیں کی گئی۔}۱؎ [سنن ترمذي:3085،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پس صحابہ رضی اللہ عنہم نے ان بدری قیدیوں سے فدیہ لیا اور ابوداؤد میں ہے ہر ایک سے چار سو کی رقم بطور تاوان جنگ کے وصول کی گئی۔۱؎ [سنن ابوداود:2691،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
پس جمہور علماء کرام کا مذہب یہ ہے کہ امام وقت کو اختیار ہے کہ اگر چاہے قیدی کفار کو قتل کر دے، جیسے بنو قریضہ کے قدیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔ اگر چاہے بدلے کا مال لے کر انہیں چھوڑ دے جیسے کہ بدری قیدیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا مسلمان قیدیوں کے بدلے چھوڑ دے جیسے کہ حضور اللہ علیہ والہ وسلم نے قبیلہ سلمہ بن اکوع کی ایک عورت اس کی لڑکی مشرکوں کے پاس جو مسلمان قیدی تھے ان کے بدلے میں دیا اور اگر چاہے انہیں غلام بنا کر رکھے۔ یہی مذہب امام شافعی کا اور علماء کرام کی ایک جماعت کا ہے۔ گو اوروں نے اس کا خلاف بھی کیا ہے یہاں اس کی تفصیل کی جگہ نہیں۔