تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسند احمد میں ہے کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لشکریوں کی روم کی سرحد کی طرف پیش قدمی شروع کی کہ مدت صلح ختم ہوتے ہی ان پر اچانک حملہ کر دیں تو ایک شیخ اپنی سواری پر سوار یہ کہتے ہوئے آئے کہ وعدہ وفائی کرو، عذر درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { جب کسی قوم سے عہد و پیمان ہو جائیں تو نہ کوئی گرہ کھولو نہ باندھو جب تک کہ مدت صلح ختم نہ جوئے یا انہیں اطلاع دے کر عہد نامہ چاک نہ ہو جائے۔} جب یہ بات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے اسی وقت فوج کو واپسی کا حکم دے دیا۔ یہ شیخ عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔۱؎ [سنن ابوداود:2759،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وإذا كان بينك وبين قوم عهدٌ وميثاقٌ على ترك القتال، فخفتَ منهم خيانةً؛ بأن ظهر من قرائن أحوالهم ما يدلُّ على خيانتهم من غير تصريح منهم بالخيانة. {فانبِذْ إليهم}: عهدَهم؛ أي: ارمه عليهم، وأخبرهم أنَّه لا عهدَ بينك وبينهم {على سواءٍ}؛ أي: حتى يستوي علمُك وعلمُهم بذلك، ولا يحلُّ لك أن تغدرهم أو تسعى في شيء مما مَنَعَهُ موجبُ العهدِ حتى تخبرهم بذلك. {إنَّ الله لا يُحِبُّ الخائنين}: بل يُبْغِضُهم أشدَّ البغض؛ فلا بدَّ من أمرٍ بيِّنٍ يبرئكم من الخيانة. ودلَّت الآية على أنه إذا وجدت الخيانة [المحققة] منهم؛ لم يحتج أن ينبذ إليهم عهدَهم؛ لأنَّه لم يخفَ منهم، بل عُلِمَ ذلك، ولعدم الفائدة، ولقوله: {على سواءٍ}، وهنا قد كان معلوماً عند الجميع غدرُكم. ودلَّ مفهومُها أيضاً أنه إذا لم يخفْ منهم خيانةً؛ بأنْ لم يوجدْ منهم ما يدلُّ على ذلك؛ أنَّه لا يجوز نبذ العهد إليهم، بل يجب الوفاء [به] إلى أن تتمَّ مدتُه.