فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّہُمۡ فِی الۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِہِمۡ مَّنۡ خَلۡفَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾
پس اگر کبھی تو انھیں لڑائی میں پا ہی لے تو ان (پر کاری ضرب) کے ساتھ ان لوگوں کو بھگا دے جو ان کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔
En
اگر تم ان کو لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں وہ ان کو دیکھ کر بھاگ جائیں عجب نہیں کہ ان کو (اس سے) عبرت ہو
En
پس جب کبھی تو لڑائی میں ان پر غالب آجائے انہیں ایسی مار مار کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ کھڑے ہوں، ہو سکتا ہے کہ وه عبرت حاصل کریں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 57){فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِي الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ …: ” تَشْرِيْدٌ “} کا معنی خوف پیدا کرنے کے ساتھ بھگدڑ مچا کر انھیں منتشر کرنا ہے، یعنی اگر کبھی لڑائی میں آپ انھیں کہیں پا لیں تو انھیں بد عہدی کی ایسی سخت سزا دیں کہ ان کے پیچھے جو دوسرے ایسے کفار ہیں اور جن سے تمھارا معاہدہ ہے وہ بھی مرعوب اور خوف زدہ ہو جائیں اور انھیں ایسی عبرت حاصل ہو کہ معاہدے کی خلاف ورزی کا نام تک نہ لیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ اس سے پہلے یہود بنو نضیر اور بنو قینقاع کی جلاوطنی ہی پر اکتفا فرمایا تھا، مگر بنو قریظہ کی مسلسل بد عہدیوں اور عین خندق کے موقع پر معاہدہ توڑنے کے نتیجے میں انھیں ۲۵دن کے محاصرے کے بعد انتہائی عبرت ناک سزا دی کہ ان کے تمام ۶۰۰ بالغ مردوں کو قتل کروا دیا، جن میں ایک جنگی مجرم عورت بھی تھی اور عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا۔ افسوس کہ اس وقت کفار، بھارت ہو یا امریکہ ویورپ، کوئی بھی مسلمانوں سے کیے ہوئے عہد کو پورا نہیں کر رہے، مگر مسلمان اپنی نا اہلی اور عیش و عشرت کی وجہ سے غیرت و حمیت کے اظہار کے بجائے ذلت اور بے بسی پر قناعت کر رہے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
57۔ 1 شَرِّدْبِھِمْ کا مطلب ہے کہ ان کو ایسی مار مار کہ جس سے ان کے پیچھے، ان کے حمایتوں اور ساتھیوں میں بھگدڑ مچ جائے، حتٰی کہ وہ آپ کی طرف اس اندیشے سے رخ ہی نہ کریں کہ کہیں ان کا بھی وہی حشر نہ ہو جو ان کے پیش رؤوں کا ہوا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
57۔ ایسے عہد شکن لوگ اگر آپ کو میدان جنگ میں مل جائیں تو انہیں عبرتناک [60] سزا دیں تاکہ ان کے پچھلے سبق حاصل کریں۔
[60] یہود مدینہ کی لاف زنی اور بزدلی اور انجام:۔
یہود مسلمانوں سے معاہدہ امن و آشتی کے باوجود اپنی شرارتوں، فتنہ انگیزیوں اور عہد شکنیوں سے باز نہیں آتے تھے۔ بڑ مارنے اور شیخیاں بگھارنے میں بڑے ماہر تھے۔ مگر بزدل انتہا درجہ کے تھے غزوہ بدر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ ان کے بازار واقع محلہ بنو قینقاع میں تشریف لے گئے اور یہود کو جمع کر کے انہیں ان کی ایسی شر انگیز حرکتوں پر عار دلائی اور فرمایا کہ ایسے کاموں سے باز آجاؤ اور اسلام قبول کر لو تو تمہارے حق میں بہتر رہے گا۔ ورنہ تمہیں بھی ایسی ہی مار پڑے گی جیسی قریش مکہ کو پڑ چکی ہے۔ اس دعوت کا انہوں نے انتہائی توہین آمیز جواب دیا اور کہنے لگے۔ تمہارا سابقہ قریش کے اناڑی لوگوں سے پڑا تھا اور تم نے میدان مار لیا۔ ہم سے پالا پڑا تو آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا۔ ان کا یہ جواب در اصل معاہدہ امن کو توڑنے اور اعلان جنگ کرنے کے مترادف تھا تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر سے کام لیا۔ پھر انہی دنوں یہودیوں نے انصار کی ایک عورت کو ننگا کر دیا جس پر مسلمانوں اور بنو قینقاع میں بلوہ ہو گیا۔ اب ان سے جنگ کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر لے کر ان کے ہاں جا پہنچے تو یہ جوانمردی کی ڈھیں گیں مارنے والے اور قریش کو بزدلی کا طعنہ دینے والے یہود سامنے آنے کی جرأت ہی نہ کر سکے اور فوراً قلعہ بند ہو گئے۔ پندرہ دن تک قلعہ میں محصور رہنے کے بعد ہتھیار ڈال دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا۔ پھر عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین جس سے ان یہودیوں کی مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ ساز باز رہی، کی پر زور سفارش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قید معاف کر دی اور جلاوطن کر دیا اور یہ لوگ شام کو چلے گئے۔ اس کے بعد اسی طرح بنو نضیر جلا وطن ہوئے۔ پھر جنگ خندق کے بعد بنو قریظہ بھی قلعہ بند ہوئے جو بالآخر قتل کئے گئے اور بچے اور عورتیں غلام بنائے گئے۔ خیبر کے موقعہ پر بھی یہود قلعہ بند ہو گئے۔ غرض جب بھی لڑائی کا موقعہ پیش آیا تو ان یہود کو کھلے میدان میں مسلمانوں سے لڑنے کی کبھی جرأت ہی نہ ہوئی۔ حتیٰ کہ غزوہ احد اور غزوہ خندق کے موقعہ پر کفار کے ساتھ مل کر بھی انہیں کھلے میدان میں سامنے آنے کی جرأت ہی نہ ہوئی۔ یہ لوگ ہمیشہ سازشوں، شرارتوں، فتنہ انگیزیوں اور عہد شکنیوں سے ہی مسلمانوں کو پریشان کرتے رہے تاہم انہیں وہ سزا ملتی ہی رہی جو اس آیت میں مذکور ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔