ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 56

اَلَّذِیۡنَ عٰہَدۡتَّ مِنۡہُمۡ ثُمَّ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَہُمۡ فِیۡ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّ ہُمۡ لَا یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۶﴾
وہ جن سے تو نے عہد باندھا، پھر وہ اپنا عہد ہر بار توڑ دیتے ہیں اور وہ نہیں ڈرتے۔ En
جن لوگوں سے تم نے (صلح کا) عہد کیا ہے پھر وہ ہر بار اپنے عہد کو توڑ ڈالتے ہیں اور (خدا سے) نہیں ڈرتے
En
جن سے آپ نے عہد وپیمان کر لیا پھر بھی وه اپنے عہد وپیمان کو ہر مرتبہ توڑ دیتے ہیں اور بالکل پرہیز نہیں کرتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 55 میں تا آیت 57 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

56۔ 1 یہ کافروں ہی کی ایک عادت بیان کی گئی ہے کہ ہر بار نقص عہد کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس کے نتائج سے ذرا نہیں ڈرتے۔ بعض لوگوں نے اس سے یہودیوں کے قبیلے بنو قریظہ کو مراد لیا ہے، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معاہدہ تھا کہ وہ کافروں کی مدد نہیں کریں گے لیکن انہوں نے اس کی پاسداری نہیں کی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

56۔ وہ لوگ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا۔ پھر وہ ہر بار ہی [59] اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں اور (اللہ تعالیٰ سے) ڈرتے نہیں
[59] میثاق مدینہ اور اس کی دفعات اور یہود قبائل کا اسے باری باری تسلیم کرنا:۔
انہی بدترین جانوروں میں بالخصوص وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے عہد کو ہر بار توڑتے رہتے ہیں۔ یہاں ان لوگوں سے مراد مدینہ کے یہود ہیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مدینہ کے یہودیوں اور دوسرے مشرک قبائل سے معاہدات کی داغ بیل ڈالی جو بعد میں میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہوا۔ یہود سے آپ نے جو معاہدہ کیا اس کی اہم دفعات یہ تھیں۔
1۔ مسلمان اور یہود آپس میں امن و آشتی سے رہیں گے۔ کوئی ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی نہیں کرے گا۔ ان کے تعلقات خیر خواہی اور فائدہ رسانی کی بنیاد پر ہوں گے۔
2۔ اگر مدینہ پر کوئی بیرونی حملہ ہوا تو مسلمان اور یہود دونوں مل کر اس کا دفاع کریں گے اور اخراجات بھی حصہ رسدی ادا کریں گے۔
3۔ یہود اپنے جھگڑوں کا اپنی شریعت کے مطابق خود ہی فیصلہ کریں گے۔ ہاں اگر وہ چاہیں تو اپنے مقدمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فیصلہ کے لیے لا سکتے ہیں۔ اس صورت میں آپ کا کیا ہوا فیصلہ ان پر نافذ العمل ہو گا۔
4۔ قریش اور ان کے مددگاروں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔
5۔ کوئی آدمی اپنے حلیف کی وجہ سے مجرم نہ ٹھہرے گا۔ 6۔ اس معاہدہ کے سارے شرکاء پر مدینہ میں ہنگامہ آرائی اور کشت و خون حرام ہو گا۔
7۔ اس معاہدہ کے فریقوں میں اگر کوئی جھگڑا ہو جائے تو اس کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں گے۔ [ابن هشام ج اول 1: 503، 504]
یہود کے تین قبائل مدینہ میں آباد تھے۔ تینوں نے اس معاہدہ کو باری باری تسلیم کر لیا۔ لیکن اپنی موروثی عادت کے مطابق بارہا اس معاہدہ کی خلاف ورزیاں کیں۔ انہوں نے اوس و خزرج کے درمیان دوبارہ عداوت ڈالنے کی کوششیں کیں۔ منافقوں کے ساتھ مل کر خفیہ اور معاندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ ایک مسلمان عورت بنو قینقاع کے بازار میں ایک سنار کے ہاں گئی تو اسے ان لوگوں نے ازراہ شرارت ننگا کر دیا۔ جس پر فریقین میں بلوہ ہو گیا۔ غزوہ بدر کے بعد کعب بن اشرف خود مکہ گیا اور مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر بھڑکایا۔ ایک دفعہ یہود نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھت سے پتھر گرا کر ہلاک کرنا چاہا۔ جنگ خیبر کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت میں بکری کا گوشت کھلانے کی کوشش کی جس میں زہر ملا ہوا تھا۔ غرض ان کی بد عہدیاں اور عہد شکنیاں اور معاندانہ سرگرمیاں اتنی زیادہ ہیں جن کا بیان یہاں ممکن نہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

زمیں کی بدترین مخلوق وعدہ خلاف کفار ہیں ٭٭
زمین پر جتنے بھی چلتے پھرتے ہیں ان سب سے بد تر اللہ کے نزدیک بے ایمان کافر ہیں جو عہد کر کے توڑ دیتے ہیں۔ ادھر قول و قرار کیا ادھر پھر گئے، ادھر قسمیں کھائیں ادھر توڑ دیں۔ نہ اللہ کا خوف نہ گناہ کا کھٹکا۔ پس جو ان پر لڑائی میں غالب آ جائے تو ایسی سزا کے بعد آنے والوں کو بھی عبرت حاصل ہو۔ وہ بھی خوف زدہ ہو جائیں پھر ممکن ہے کہ اپنے ایسے کرتوت سے باز رہیں۔