ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنفال (8) — آیت 35

وَ مَا کَانَ صَلَاتُہُمۡ عِنۡدَ الۡبَیۡتِ اِلَّا مُکَآءً وَّ تَصۡدِیَۃً ؕ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡفُرُوۡنَ ﴿۳۵﴾
اور ان کی نماز اس گھر کے پاس سیٹیاں بجانے اور تالیاں بجانے کے سوا کبھی کچھ نہیں ہوتی۔ سو عذاب چکھو اس وجہ سے جو تم کفر کرتے تھے۔ En
اور ان لوگوں کی نماز خانہٴ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔ تو تم جو کفر کرتے تھے اب اس کے بدلے عذاب (کا مزہ) چکھو
En
اور ان کی نماز کعبہ کے پاس صرف یہ تھی سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ سو اپنے کفر کے سبب اس عذاب کا مزه چکھو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 35) ➊ {وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَيْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِيَةً: مُكَآءً مَكَا يَمْكُوْ مَكْوًا وَ مُكَاءً} سیٹی بجانا اور { تَصْدِيَةً صَدّٰي يُصَدِّيْ تَصْدِيَةً} (تفعیل) تالیاں بجانا۔ یعنی وہ لوگ کعبہ کے پاس عین حرم میں تالیاں پیٹتے اور سیٹیاں بجاتے اور اسے اپنی نماز، اللہ کی عبادت اور اس کے قرب کا ذریعہ قرار دیتے۔ افسوس کہ اب مسلمانوں نے بھی نمازیں اور قرآن چھوڑ کر عاشقانہ اشعار، سیٹیوں اور تالیوں کے مجموعے قوالی کو طریقت و معرفت کا نام دے کر روح کی غذا قرار دے رکھا ہے۔ بے شمار لوگ اسے تصوف کا اہم رکن قرار دے کر صرف سیٹیوں اور تالیوں ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ باقاعدہ مرشد کے اردگرد طواف اور رقص کرکے اسے اپنی نماز سمجھتے ہیں اور برملا کہتے ہیں
نماز عابداں سجدہ سجود است
نماز عاشقاں کلی وجود است
عابدوں کی نماز سجدہ سجود ہے مگر عاشقوں کی نماز (معشوق کا) پورا وجود ہی ہے۔
ایک صوفی نے تو صاف ہی اپنے مرشد کو قبلہ بھی قرار دے دیا ہے، چنانچہ وہ کہتا ہے
ہر قوم راست را ہے، دینے و قبلہ گاہے
من قبلہ راست کردم برسمت کج کلا ہے
ہر قوم کا ایک راستہ، ایک دین اور ایک قبلہ ہوتا ہے، مگر میں نے تو اپنا قبلہ ایک ٹیڑھی ٹوپی والے کی طرف سیدھا کر لیا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی نماز پڑھتا بھی ہے تو ایسے طریقے سے جس طریقے سے پڑھنے والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دوبارہ نماز پڑھ، تو نے نماز پڑھی ہی نہیں۔ اللہ کی قسم! جب تک مسلمان تصور شیخ کا شرک اور صوفیوں کی عبادت کے یہ خود ساختہ طریقے اور موسیقی و رقص جیسی دل میں نفاق پیدا کرنے والی خرافات ترک نہیں کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ارکان اسلام و ایمان کی پابندی، خصوصاً جہاد نہیں کرتے کبھی دنیا میں سر نہیں اٹھا سکتے، ہمیشہ ذلت و خواری ہی ان پر مسلط رہے گی۔
➋ {فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ:} کفر و شرک کے ارتکاب، سیٹیوں، تالیوں اور رقص کو نماز سمجھنے کا نتیجہ دنیا اور آخرت کے عذاب کی صورت میں چکھو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

35۔ 1 مشرکین جس طرح بیت اللہ کا ننگا طواف کرتے تھے، اسی طرح طواف کے دوران وہ انگلیاں منہ میں ڈال کر سیٹیاں اور ہاتھوں سے تالیاں بجاتے۔ اس کو بھی وہ عبادت اور نیکی تصور کرتے تھے۔ جس طرح آج بھی جاہل صوفی مسجدوں اور آستانوں میں رقص کرتے، ڈھول پیٹتے اور دھمالیں ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں۔ یہی ہماری نماز اور عبادت ہے۔ ناچ ناچ کر ہم اپنے یار (اللہ) کو منالیں گے۔ نعوذ باللہ من ھذہ الخرافات۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ بیت اللہ میں ان لوگوں کی نماز بس یہی ہوتی کہ وہ سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے تھے۔ تو لو اب (بدر میں شکست) عذاب کا مزا [36] چکھو۔ یہ اس کا بدلہ ہے جو تم حق کا انکار کر دیا کرتے تھے
[36] کفار مکہ کی عبادت بیت اللہ:۔
ان مشرک متولیوں کی بیت اللہ کے اندر عبادت کے بھی عجیب اطوار ہیں جو ننگے ہو کر طواف کرتے ہیں اور سیٹیاں اور تالیاں بجا کر جو اپنی تفریح طبع کا سامان کرتے ہیں۔ اس کا نام انہوں نے عبادت رکھ لیا۔ پھر اس پر دعویٰ یہ کہ اگر مسلمانوں کا دین سچا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عذاب صرف آسمان سے پتھروں کی شکل میں یا خوفناک چیخ یا زبردست زلزلہ وغیرہ کی صورت میں ہی آیا کرتا ہے جو خرق عادت کے طور پر واقع ہو۔ حالانکہ غزوہ بدر میں ان کی شکست فاش اللہ کا ایسا عذاب تھا جس نے کفر اور کافروں کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ انہوں نے جنگ پر اصرار تو محض اس توقع پر کیا تھا کہ مسلمانوں کی اس قلیل سی جماعت کو لگے ہاتھوں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کرتے چلیں۔ انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ جنگ ہی اللہ کا عذاب بن کر ان پر مسلط ہونے والی ہے یا یہ کہ ان کی دعا کی قبولیت کا وقت اب آچکا ہے اور تقدیر الٰہی کا فیصلہ ہمارے خلاف صادر ہونے والا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کر دیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ ’ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ ‘ قتادہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/6]‏‏‏‏
ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [48-الفتح: 25]‏‏‏‏، یعنی ’ یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔‘
اگر مکے میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقیناً ان کافروں کو درد ناک مار ماری جاتی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اہل مکہ کے لیے باعث امن رہی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکے سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکے پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔
ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔
چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبة:17]‏‏‏‏، ’ مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔‘
«‏‏‏‏إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [9-التوبہ: 18]‏‏‏‏ ’ مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ ‘
اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [9-التوبہ: 17]‏‏‏‏ ’ مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘
«وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة: 217]‏‏‏‏ ’ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ } ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304]‏‏‏‏
مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ { تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ } انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: { یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں }۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688]‏‏‏‏
پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔
پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔
یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔