وَ مَا لَہُمۡ اَلَّا یُعَذِّبَہُمُ اللّٰہُ وَ ہُمۡ یَصُدُّوۡنَ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ وَ مَا کَانُوۡۤا اَوۡلِیَآءَہٗ ؕ اِنۡ اَوۡلِیَآؤُہٗۤ اِلَّا الۡمُتَّقُوۡنَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۴﴾
اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دے، جب کہ وہ مسجد حرام سے روک رہے ہیں، حالانکہ وہ اس کے متولی نہیں، اس کے متولی نہیں ہیں مگر جو متقی ہیں اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
En
اور (اب) ان کے لیے کون سی وجہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے جب کہ وہ مسجد محترم (میں نماز پڑھنے) سے روکتے ہیں اور وہ اس مسجد کے متولی بھی نہیں۔ اس کے متولی تو صرف پرہیزگار ہیں۔ لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے
En
اور ان میں کیا بات ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سزا نہ دے حاﻻنکہ وه لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں، جب کہ وه لوگ اس مسجد کے متولی نہیں۔ اس کے متولی تو سوا متقیوں کے اور اشخاص نہیں، لیکن ان میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 34) {وَ مَا لَهُمْ اَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ …:} اس آیت میں ان کے عذاب کا مستحق ہونے کی چند وجہیں بیان کی ہیں، ایک تویہ کہ انھوں نے مسلمانوں کے مسجد حرام میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ دوسری یہ کہ وہ زبردستی مسجد حرام کے مالک اور متولی بنے بیٹھے ہیں، حالانکہ کعبہ کی تولیت صرف موحدین متقین کا حق ہے، مشرکین کا نہیں۔ دیکھیے سورهٔ توبہ (۱۷، ۱۸) تیسری یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی شان کے لائق اور اس کے بتائے ہوئے طریقے سے کرنے کے بجائے تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر قوالی کے ذریعے سے کرتے ہیں۔ اس لیے ان پر عذاب کیوں نہ آئے، عذاب آئے گا اور ضرور آئے گا۔ پچھلی آیت میں جس عذاب کی نفی کی تھی وہ تھا جس سے قوموں کا نام و نشان مٹ جاتا تھا، یعنی عذاب استیصال۔ اس آیت میں اس عذاب کا ذکر ہے جو قحط، خوف اور جنگ کی صورت میں عبرت کے لیے ان پر مسلط ہوا، دیکھیے سورۂ نحل (۱۱۲، ۱۱۳)، سورۂ سجدہ (۲۱) اور سورۂ دخان (۱۰ تا ۱۶) یہ عذاب جنگ بدر، قحط، بھوک، خوف اور آخر میں فتح مکہ کی صورت میں اہل مکہ پر مسلط ہوا۔ جس سے ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے، یا قید ہوئے اور جو مرنے سے بچ گئے وہ آخر کار اسلام میں داخل ہو گئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
34۔ 1 یعنی وہ مشرکین اپنے آپ کو مسجد حرام (خانہ کعبہ) کا متولی سمجھتے تھے اور اس اعتبار سے جس کو چاہتے طواف کی اجازت دیتے اور جس کو چاہتے نہ دیتے۔ چناچہ مسلمانوں کو بھی وہ مسجد حرام میں آنے سے روکتے تھے حالانکہ وہ اس کے متولی ہی نہیں تھے، زبردستی بنے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس کے متولی تو متقی افراد ہی بن سکتے ہیں نہ کہ مشرک۔ علاوہ ازیں اس آیت میں جس عذاب کا ذکر ہے، اس سے مراد فتح مکہ ہے جو مشرکین کے لئے عذاب عظیم رکھتا ہے۔ اس سے قبل کی آیت میں جس عذاب کی نفی ہے، جو پیغمبر کی موجودگی یا استغفار کرتے رہنے کی وجہ سے نہیں آتا، اس سے مراد عذاب استیصال اور ہلاکت کلی ہے۔ عبرت وتبیہ کے طور پر چھوٹے موٹے عذاب اس کے منافی نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ اور اللہ ان لوگوں کو کیوں عذاب نہ دے جو دوسروں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں حالانکہ وہ اس کے متولی [35] نہیں۔ اس کے متولی تو وہی ہو سکتے ہیں جو پرہیزگار ہوں۔ لیکن ان میں سے اکثر لوگ یہ حقیقت نہیں جانتے
[35] تولیت کعبہ کے لئے شرائط، کفار مکہ کا بیت اللہ پر غاصبانہ قبضہ:۔
یعنی ان لوگوں کے عذاب کے مستحق ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اگر ان پر عذاب نہیں آرہا تو اس کی مندرجہ بالا وجوہ ہیں اور ان کے عذاب کے مستحق ہونے کی بھی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ انہوں نے مسلمانوں پر بیت اللہ میں داخلہ پر پابندی لگا رکھی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بیت اللہ پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور کہتے ہیں کہ ہم اس کے متولی ہیں کیونکہ ہم سیدنا ابراہیمؑ کی اولاد ہیں۔ حالانکہ متولی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کو بیت اللہ میں داخل ہونے سے ہی روک دے۔ نیز یہ کہ تولیت کے لیے سیدنا ابراہیمؑ کی اولاد سے ہونا کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ سیدنا ابراہیمؑ کے دین پر ہو اور وہ موحد تھے۔ مشرک نہیں تھے۔ یعنی اگر اولاد ابراہیم مشرک ہے تو اس سے تولیت چھین کر اس شخص کو دی جائے گی جو موحد اور پرہیزگار ہو خواہ وہ اولاد ابراہیم سے ہو یا نہ ہو۔ کعبہ کی تولیت کے لیے شرط اول پرہیزگاری اور اللہ کا تقویٰ ہے۔ سیدنا ابراہیمؑ کی اولاد ہونا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
ارشاد ہے کہ فی الواقع یہ کفار عذابوں کے لائق ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی سے عذاب رکے ہوئے ہیں چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ان پر عذاب الٰہی آیا۔ بدر کے دن ان کے تمام سردار مار ڈالے گئے یا قید کر دیئے گئے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ ٰ نے انہیں استغفار کی ہدایت کی کہ ’ اپنے شرک و فساد سے ہٹ جائیں اور اللہ سے معاف طلب کریں۔ ‘ قتادہ اور سدی رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہ وہ لوگ معافی نہیں مانگتے تھے ورنہ عذاب نہ ہوتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/6]
ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ۱؎ [48-الفتح: 25]، یعنی ’ یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔‘
ہاں ان میں جو کمزر مسلمان رہ گئے تھے اور ہجرت پر قادر نہ تھے وہ استغفار میں لگے رہتے تھے اور ان کی ان میں موجودگی اللہ کے عذابوں کے رکنے کا ذریعہ تھی چنانچہ حدیبیہ کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد الٰہی ہے «هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّـهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا» ۱؎ [48-الفتح: 25]، یعنی ’ یہ مکے والے ہی تو وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا اور قربانی کے جانوروں کو بھی نہ آنے دیا کہ وہ جہاں تھے وہیں رکے کھڑے رہے اور اپنے حلال ہونے کی جگہ نہ پہنچ سکے۔ اگر شہر مکہ میں کچھ مسلمان مرد اور کچھ مسلمان عورتیں ایسی نہ ہوتیں کہ تم ان کے حال سے واقف نہیں تھے، اور عین ممکن تھا کہ لڑائی کی صورت میں تم انہیں بھی پامال کر ڈالتے اور نادانستہ ان کی طرف سے تمہیں نقصان پہنچ جاتا تو بیشک تمہیں اسی وقت لڑائی کی اجازت مل جاتی۔ اس وقت کی صلح اس لیے ہے کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں لے لے۔‘
اگر مکے میں رکے ہوئے مسلمان وہاں سے کہیں تل جاتے تو یقیناً ان کافروں کو درد ناک مار ماری جاتی۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی اہل مکہ کے لیے باعث امن رہی پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد جو ضعیف مسلمان وہاں رہ گئے تھے اور استغفار کرتے رہے تھے، ان کی موجودگی کی وجہ سے عذاب نہ آیا جب وہ بھی مکے سے نکل گئے تب یہ آیت اتری کہ اب کوئی مانع باقی نہ رہا پس مسلمانوں کو مکے پر چڑھائی کرنے کی اجازت مل گئی اور یہ مفتوح ہوئے۔
ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔
چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبة:17]، ’ مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔‘
ہاں ایک قول یہ بھی ہے کہ اگر مراد ان کا خود کا استغفار ہو تو اس آیت نے پہلی آیت «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» کو منسوخ کر دیا۔ چنانچہ عکرمہ اور حسن بصری رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا یہ قول بھی ہے کہ «انفال» میں «وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ» والی آیت کو اسکے بعد والی آیت «وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمُ اللَّـهُ» نے منسوخ کردیا ہے۔
چنانچہ «فَذُوقُوا الْعَذَابَ» فرمایا گیا چنانچہ اہل مکہ سے جنگ بھی ہوئی، انہیں ضرور بھی پہنچے، ان پر قحط سالیاں بھی آئیں پس ان مشرکوں کا اس آیت میں استثنا کر لیا گیا ہے۔ انہیں اللہ کے عذاب کیوں نہ ہوں؟ یہ مومن لوگوں کو کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں جو مومن بوجہ اپنی کمزوری کے اب تک مکہ میں ہی ہیں اور ان کے سوار اور مومنوں کو بھی طواف و نماز سے روکتے ہیں حالانکہ اصل اہلیت ان ہی میں ہے۔ ان مشرکوں میں اس کی اہلیت نہیں جیسے فرمان ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبة:17]، ’ مشرکین اللہ کے گھروں کی آبادی کے اہل نہیں وہ تو کفر میں مبتلا ہیں ان کے اعمال اکارت ہیں اور وہ ہمیشہ کے جہنمی ہیں۔‘
«إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّـهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّـهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ» ۱؎ [9-التوبہ: 18] ’ مسجدوں کی آبادی کے اہل اللہ پر، قیامت پر ایمان رکھنے والے، نمازی، زکوٰۃ ادا کرنے والے، صرف خوف الٰہی رکھنے والے ہی ہیں اور وہی راہ یافتہ لوگ ہیں۔ ‘
اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبہ: 17] ’ مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘
«وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة: 217] ’ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ } ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304]
مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ { تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ } انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: { یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں }۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688]
پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔
پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔
یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔
اور آیت میں ہے کہ «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَـٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ» ۱؎ [9-التوبہ: 17] ’ مشرکوں کی زیبا نہیں کہ خدا کی مسجدوں کو آباد کریں جب کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی گواہی دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے سب اعمال بیکار ہیں اور یہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ ‘
«وَصَدٌّ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِندَ اللَّـهِ» ۱؎ [2-البقرة: 217] ’ راہ رب سے روکنا، اللہ کے ساتھ کفر کرنا، مسجد الحرام کی بیحرمتی کرنا اور اس کے لائق لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا جرم ہے۔‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوست کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر ایک پرہیزگار اللہ سے ڈرنے والا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا «إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ» ۔ } ۱؎ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:1304]
مستدرک حاکم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریشیوں کو جمع کیا پھر پوچھا کہ { تم میں اس وقت کوئی اور تو نہیں؟ } انہوں نے کہا بہنوں کی اولاد اور حلیف اور مولیٰ ہیں۔ فرمایا: { یہ تینوں تو تم میں سے ہی ہیں۔ سنو تم میں سے میرے دوست وہی ہیں جو تقوے اور پرہیزگاری والے ہوں }۱؎ [سلسلۃ احادیث صحیحہ البانی:1688]
پس اللہ کے اولیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور کل مجاہد خواہ وہ کوئی ہو اور کہیں کے ہوں۔
پھر ان کی ایک اور شرارت اور بےڈھنگا پن بیان فرماتا ہے۔ کعبے میں آ کر کیا کرتے ہیں؟ یا تو جانوروں کی سی سیٹیاں بجاتے ہیں، منہ میں انگلیاں رکھین اور سیٹیاں شروع کریں یا تالیاں پیٹنے لگے۔ طواف کرتے ہیں تو ننگے ہو کر، رخسار جھکا کر، سیٹی بجائی، تالی بجائی، چلئے نماز ہو گئی۔ کبھی رخسار زمین پر لٹکا لیا۔ بائیں طرف سے طواف کیا۔
یہ بھی مقصود تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز بگاڑیں، مومنوں کا مذاق اڑائیں، لوگوں کو راہ رب سے روکیں۔ اب اپنے کفر کا بھرپور پھل چکھو، بدر کے دن قید ہو کے قتل ہوئے، تو لاچاری، چیخ اور زلزلے آئے۔