تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِذَا دَعَاكُمْ:} ”جب وہ تمھیں دعوت دے“ کا مطلب یہ ہے کہ فوراً قبول کرو، دیر نہ کرو۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا، وہ نماز پوری کرکے آئے تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا؟“ انھوں نے کہا: ”آئندہ میں ان شاء اللہ ایسا نہیں کروں گا۔“ [ترمذی، فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب: ۲۸۷۵] صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے بلانا اور اسی وقت نہ آنے پر یہی تلقین فرمانا موجود ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب: «یأیھا الذین اٰمنوا استجیبوا…» : ۴۶۴۷]
➌ {لِمَا يُحْيِيْكُمْ:} ”اس چیز کے لیے جو تمھیں زندگی بخشتی ہے“ اس سے متعلق علمائے سلف کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے اسلام و ایمان اور بعض نے قرآن، لیکن اکثر نے اس سے جہاد مراد لیا ہے، کیونکہ جہاد دنیا اور آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ شروع سورت سے یہی بات چلی آ رہی ہے، آیت: «{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ }» [البقرۃ: ۲۴۳] سے مراد بھی جہاد کی ترغیب ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جب تم عینہ (حیلے سے سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کاشت کاری پر خوش ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی بڑی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“ [أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ: ۳۴۶۲۔ السلسۃ الصحیحۃ: ۱۱]
➍ {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ:} یعنی حق واضح ہو جانے کے بعد بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ سزا ملتی ہے کہ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق نہیں ملتی، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ }» [الصف: ۵] ”جب وہ خود ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“ آیت کے یہ معنی ابن عباس رضی اللہ عنھما اور جمہو رمفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ سورۂ انعام کی آیت (۱۰۹، ۱۱۰) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے، جنگ تبوک میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فوری طور پر نہ نکل سکے تو بعد میں جانے کی توفیق ہی نہیں ملی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق اور انابت کی وجہ سے انھیں توبہ کی توفیق دی اور قرآن میں ان کا ذکر خیر فرمایا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح یہ فرماتے ہیں: ”حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے، دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔“ (موضح) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ اللہ کے حائل ہونے سے مراد موت ہے، یعنی موت آنے سے پہلے اطاعت بجا لاؤ، اس کے بعد «{ وَ اَنَّهٗۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ }» (اور جان لو کہ یہ یقینی حقیقت ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) کے جملے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دونوں معنی ہی مراد ہو سکتے ہیں اور ان کا آپس میں کوئی تضاد نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور حدیث جریج سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والدین میں سے کسی ایک کے بلانے پر انسان کو نفلی نماز توڑ کر فوراً حاضر ہو جانا چاہیے۔
«اللہم ثبت قلوبنا عليٰ دينك» یا الفاظ یہ ہوتے تھے۔ «يا مقلب القلوب ثبت قلوبنا عليٰ دينك»
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نماز میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کر لیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے سے پہلے ہی میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورت سکھاؤں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلایا } ۱؎ [صحیح بخاری:4647]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سورت فاتحہ بتلائی اور فرمایا: { سات آیتیں دوہرائی ہوئی یہی ہیں۔ } اس حدیث کا پورا پورا بیان سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔
زندگی، آخرت میں نجات، عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا قرآن کی تعلیم، حق کو تسلیم کرنے اور اسلام لانے اور جہاد میں ہے۔ ان ہی چیزوں کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے۔ یعنی مومن میں اور کفر میں کافر میں اور ایمان میں۔ یہ معنی ایک مرفوع حدیث میں بھی ہیں لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔[الدر المنشور للسیوطی:320/3]
اس آیت کے مناسب حدیثیں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ { «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ } تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لا چکے ہیں کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری نسبت خطرہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان دل ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کا تغیر و تبدل کرتا رہتا ہے۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں بھی یہ روایت کتاب القدر میں موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے { «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھ۔ }
مسند احمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر دل اللہ تعالیٰ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب سیدھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے اور جب ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے } [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تھی کہ { اے مقلب القلوب اللہ میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، فرماتے ہیں میزان رب رحمان کے ہاتھ میں ہے، جھکاتا ہے اور اونچی کرتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:199،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو اکثر سن کر مائی عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بکثرت اس دعا کے کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انسان کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے سیدھا کر دیتا ہے۔}
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں { میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر درخواست کی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے لیے بھی کوئی دعا سکھائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ دعا مانگا کرو دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» یعنی اے اللہ اسے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار میرے گناہ معاف فرما میرے دل کی سختی دور کر دے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بجا لے جب تک بھی تو مجھے زندہ رکھ۔ } ۱؎ [مسند احمد:302/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام انسانوں کے دل ایک ہی دل کی طرح اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے پھر آپ نے دعا کی کہ «اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، صَرِّفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے۔ }۱؎ [صحیح مسلم:2654]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عباده المؤمنين بما يقتضيه الإيمان منهم، وهو الاستجابة لله وللرسول؛ أي: الانقياد لما أمرا به والمبادرة إلى ذلك والدعوة إليه، والاجتناب لما نهيا عنه والانكفاف عنه والنهي عنه. وقوله: {إذا دعاكم لما يُحييكم}: وصفٌ ملازمٌ لكل ما دعا الله ورسوله إليه وبيانٌ لفائدته وحكمته؛ فإن حياة القلب والروح بعبوديَّة الله تعالى ولزوم طاعته وطاعة رسوله على الدوام. ثم حذَّر عن عدم الاستجابة لله وللرسول، فقال: {واعلموا أنَّ الله يَحول بين المرء وقلبِهِ}: فإياكم أن تردُّوا أمر الله أول ما يأتيكم، فيُحال بينكم وبينه إذا أردتموه بعد ذلك، وتختلف قلوبكم؛ فإن الله يَحولُ بين المرء وقلبه؛ يقلِّب القلوب حيث شاء، ويصرِّفها أنَّى شاء، فليكثرِ العبد من قول: يا مقلِّب القلوب! ثبِّتْ قلبي على دينك. يا مصرِّف القلوب! اصرفْ قلبي إلى طاعتك. {وأنَّه إليه تُحشرون}؛ أي: تُجمعون ليوم لا ريبَ فيه، فيجازي المحسن بإحسانه والمسيء بعصيانه.