یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی اور رسول کی دعوت خوشی سے قبول کرو، جب وہ تمھیں اس چیز کے لیے دعوت دے جو تمھیں زندگی بخشتی ہے اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
En
مومنو! خدا اور اس کے رسول کا حکم قبول کرو جب کہ رسول خدا تمہیں ایسے کام کے لیے بلاتے ہیں جو تم کو زندگی (جاوداں) بخشتا ہے۔ اور جان رکھو کہ خدا آدمی اور اس کے دل کے درمیان حامل ہوجاتا ہے اور یہ بھی کہ تم سب اس کے روبرو جمع کیے جاؤ گے
En
اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں اور جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے اور اس کے قلب کے درمیان آڑ بن جایا کرتا ہے اور بلاشبہ تم سب کو اللہ ہی کے پاس جمع ہونا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 24) ➊ { يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ:”اَجَابَ يُجِيْبُ“} کا معنی قبول کرنا ہے اور{” اسْتَجِيْبُوْا “} باب استفعال {”اِسْتَجَابَ يَسْتَجِيْبُ “ } سے ہے، جس میں عموماً طلب ہوتی ہے، یہاں طلب کا معنی نہیں ہو سکتا، لہٰذا سین اور تاء کے اضافے سے معنی میں زیادتی مراد ہو گی، اس لیے ”خوشی سے قبول کرو“ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر خوشی سے لبیک کہنا تم پرلازم ہے۔
➋ { اِذَا دَعَاكُمْ:} ”جب وہ تمھیں دعوت دے“ کا مطلب یہ ہے کہ فوراً قبول کرو، دیر نہ کرو۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا، وہ نماز پوری کرکے آئے تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا؟“ انھوں نے کہا: ”آئندہ میں ان شاء اللہ ایسا نہیں کروں گا۔“ [ترمذی، فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب: ۲۸۷۵] صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے بلانا اور اسی وقت نہ آنے پر یہی تلقین فرمانا موجود ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب: «یأیھا الذین اٰمنوا استجیبوا…» : ۴۶۴۷]
➌ {لِمَا يُحْيِيْكُمْ:} ”اس چیز کے لیے جو تمھیں زندگی بخشتی ہے“ اس سے متعلق علمائے سلف کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے اسلام و ایمان اور بعض نے قرآن، لیکن اکثر نے اس سے جہاد مراد لیا ہے، کیونکہ جہاد دنیا اور آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ شروع سورت سے یہی بات چلی آ رہی ہے، آیت: «{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ }» [البقرۃ: ۲۴۳] سے مراد بھی جہاد کی ترغیب ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جب تم عینہ (حیلے سے سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کاشت کاری پر خوش ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی بڑی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“ [أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ: ۳۴۶۲۔ السلسۃ الصحیحۃ: ۱۱]
➍ {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ:} یعنی حق واضح ہو جانے کے بعد بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ سزا ملتی ہے کہ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق نہیں ملتی، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ }» [الصف: ۵] ”جب وہ خود ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“ آیت کے یہ معنی ابن عباس رضی اللہ عنھما اور جمہو رمفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ سورۂ انعام کی آیت (۱۰۹، ۱۱۰) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے، جنگ تبوک میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فوری طور پر نہ نکل سکے تو بعد میں جانے کی توفیق ہی نہیں ملی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق اور انابت کی وجہ سے انھیں توبہ کی توفیق دی اور قرآن میں ان کا ذکر خیر فرمایا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح یہ فرماتے ہیں: ”حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے، دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔“ (موضح) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ اللہ کے حائل ہونے سے مراد موت ہے، یعنی موت آنے سے پہلے اطاعت بجا لاؤ، اس کے بعد «{ وَ اَنَّهٗۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ }» (اور جان لو کہ یہ یقینی حقیقت ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) کے جملے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دونوں معنی ہی مراد ہو سکتے ہیں اور ان کا آپس میں کوئی تضاد نہیں۔
➋ { اِذَا دَعَاكُمْ:} ”جب وہ تمھیں دعوت دے“ کا مطلب یہ ہے کہ فوراً قبول کرو، دیر نہ کرو۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا، وہ نماز پوری کرکے آئے تو آپ نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا: ”تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا؟“ انھوں نے کہا: ”آئندہ میں ان شاء اللہ ایسا نہیں کروں گا۔“ [ترمذی، فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل فاتحۃ الکتاب: ۲۸۷۵] صحیح بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے بلانا اور اسی وقت نہ آنے پر یہی تلقین فرمانا موجود ہے۔ [بخاری، التفسیر، باب: «یأیھا الذین اٰمنوا استجیبوا…» : ۴۶۴۷]
➌ {لِمَا يُحْيِيْكُمْ:} ”اس چیز کے لیے جو تمھیں زندگی بخشتی ہے“ اس سے متعلق علمائے سلف کے مختلف اقوال ہیں، بعض نے اسلام و ایمان اور بعض نے قرآن، لیکن اکثر نے اس سے جہاد مراد لیا ہے، کیونکہ جہاد دنیا اور آخرت میں زندگی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، خصوصاً اس لیے کہ شروع سورت سے یہی بات چلی آ رہی ہے، آیت: «{ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ }» [البقرۃ: ۲۴۳] سے مراد بھی جہاد کی ترغیب ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ”جب تم عینہ (حیلے سے سود کی ایک قسم) کے ساتھ بیع کرو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے اور کاشت کاری پر خوش ہو جاؤ گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسی بڑی ذلت مسلط کرے گا جسے دور نہیں کرے گا، حتیٰ کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“ [أبوداوٗد، البیوع، باب فی النہی عن العینۃ: ۳۴۶۲۔ السلسۃ الصحیحۃ: ۱۱]
➍ {وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِهٖ:} یعنی حق واضح ہو جانے کے بعد بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم نہ مانے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو یہ سزا ملتی ہے کہ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اس کے بعد اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق نہیں ملتی، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ }» [الصف: ۵] ”جب وہ خود ٹیڑھے ہو گئے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا۔“ آیت کے یہ معنی ابن عباس رضی اللہ عنھما اور جمہو رمفسرین نے بیان فرمائے ہیں۔ سورۂ انعام کی آیت (۱۰۹، ۱۱۰) میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے، جنگ تبوک میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ فوری طور پر نہ نکل سکے تو بعد میں جانے کی توفیق ہی نہیں ملی، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق اور انابت کی وجہ سے انھیں توبہ کی توفیق دی اور قرآن میں ان کا ذکر خیر فرمایا۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ اس آیت کی تشریح یہ فرماتے ہیں: ”حکم بجا لانے میں دیر نہ کرو، شاید اس وقت دل ایسا نہ رہے، دل اللہ کے ہاتھ میں ہے۔“ (موضح) بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ فرمائی کہ اللہ کے حائل ہونے سے مراد موت ہے، یعنی موت آنے سے پہلے اطاعت بجا لاؤ، اس کے بعد «{ وَ اَنَّهٗۤ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ }» (اور جان لو کہ یہ یقینی حقیقت ہے کہ تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے) کے جملے سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ دونوں معنی ہی مراد ہو سکتے ہیں اور ان کا آپس میں کوئی تضاد نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 لِمَا یُحْیِیْکُمْ ایسی چیزوں کی طرف جس سے تمہیں زندگی ملے۔ بعض نے اس سے جہاد مراد لیا ہے کہ اس میں تمہاری زندگی کا سروسامان ہے۔ بعض نے قرآن کے اوامرو نواہی اور احکام شرعیہ مراد لئے ہیں، جن میں جہاد بھی آجاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مانو، اور اس پر عمل کرو، اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ 24۔ 2 یعنی موت وارد کرکے، جس کا مزہ ہر نفس کو چکھنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قبل اس کے کہ تمہیں موت آجائے، اللہ اور رسول کی بات مان لو اور اس پر عمل کرو۔ بعض نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے جس طرح قریب ہے اس میں اسے بطور تمثیل بیان کیا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ اس سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ امام ابن جریر نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اپنے بندوں کے دلوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور جب چاہتا ان کے اور انکے دلوں کے درمیان حائل ہوجاتا ہے۔ حتی کہ انسان اسکی مشیت کے بغیر کسی چیز کو پا نہیں سکتا۔ بعض نے اسے جنگ بدر سے متعلق قراردیا ہے کہ مسلمان دشمن کی کثرت سے خوف زدہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے دلوں کے درمیان حائل ہو کر مسلمانوں کے دلوں میں موجود خوف کو امن سے بدل دیا۔ امام شوکانی فرماتے ہیں کہ آیت کے یہ سارے ہی مفہوم مراد ہوسکتے ہیں (فتح القدیر) امام ابن جریر کے بیان کردہ مفہوم کی تائید ان احادیث سے ہوتی ہے جن میں دین پر ثابت قدمی کی دعائیں کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مثلا ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ بنی آدم کے دل ایک دل کی طرح رحمان کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں انہیں جس طرح چاہتا ہے پھیرتا رہتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا پڑھی۔ اللہم مصرف القلوب صرف قلوبنا الی طاعتک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیردے۔ بعض روایات میں ثبت قلبی علی دینک کے الفاظ ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جبکہ رسول تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائے جو تمہارے لیے زندگی [23] بخش ہو۔ اور یہ جان لو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان [24] حائل ہو جاتا ہے اور اسی کے حضور تم جمع کئے جاؤ گے
[23] اللہ اور رسولﷺ کی زندگی بخش دعوت:۔
یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دعوتی پیغام ایسا ہے جس سے تمہیں دنیا میں بھی عزت و اطمینان کی زندگی نصیب ہو گی اور آخرت میں بھی نعمتوں سے بھرپور ابدی زندگی حاصل ہو گی، اس کے مفہوم کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ ذہن میں رکھئے کہ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ جب کہ مسلمانوں کی ایک ریاست قائم ہو چکی تھی اور وہ آزادانہ زندگی گزار رہے تھے اور غزوہ بدر میں فتح نے انہیں ایک مساوی قوم کا درجہ دے دیا تھا اور وہ آپس میں نہایت پیار، محبت اور بھائی بھائی بن کر رہ رہے تھے۔ اب اس کے مقابلہ میں دور جاہلیت کے معاشرہ کو سامنے لائیے جب کہ لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے مدینہ میں جنگ بعاث نے اور مکہ میں حرب فجار نے گھروں کے گھروں کا صفایا کر دیا تھا۔ قبائلی جنگیں کسی طرح ختم ہونے کو نہ آتی تھیں اور تم لوگ ان سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے تھے۔ ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا اور شراب کے دور چلتے تھے۔ کسی کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں رہی تھی اور لوگوں پر ان کا جینا حرام ہو چکا تھا۔ پھر اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں وہ تعلیم دی کہ تمہاری زندگی کا رخ ہی موڑ دیا اور اب تم امن چین سے زندگی گزار رہے ہو۔ لہٰذا تمہیں فوراً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا چاہیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر فوراً حاضر ہو جانا چاہیے۔ کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی کا راز مضمر ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان خواہ کتنے ہی ضروری کام مثلاً فریضہ نماز میں بھی مشغول ہو تو اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بلانے پر نماز چھوڑ کر فوراً حاضر ہونا چاہیے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
رسول کے بلانے پر فوراً حاضر ہونا:۔
ابو سعید بن معلیؓ کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے سے گزرے اور مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا: تم میرے بلانے پر فوراً کیوں نہ آئے؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ﴾ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانے سے پہلے تمہیں قرآن کی بڑی سورت بتلاؤں گا۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات یاد دلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ سورت ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ﴾ ہے۔ اس میں سات آیتیں ہیں جو (ہر نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں۔“ [بخاري، كتاب التفسير]
اور حدیث جریج سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والدین میں سے کسی ایک کے بلانے پر انسان کو نفلی نماز توڑ کر فوراً حاضر ہو جانا چاہیے۔
اور حدیث جریج سے علماء نے یہ مسئلہ مستنبط کیا ہے کہ والدین میں سے کسی ایک کے بلانے پر انسان کو نفلی نماز توڑ کر فوراً حاضر ہو جانا چاہیے۔
[24] اللہ کے آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہونے کا مطلب دل کو شیطانی وساوس سے بچانے کی کوشش:۔
یعنی اللہ تعالیٰ انسان کے دل کے اتنا قریب ہے کہ وہ اس کے راز، ارادوں اور نیت تک کو جانتا ہے اور یہ دل ہی خیر و شر کا منبع ہے۔ لہٰذا مسلمان کو اللہ کے رسول کی اطاعت میں دیر نہ کرنی چاہیے۔ ورنہ ممکن ہے کہ بعد میں کوئی اور خیال پیدا ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کا تو قانون ہی یہ ہے کہ انسان جیسا ارادہ یا نیت کرتا ہے۔ اللہ اس کے دل کو اسی طرح کی راہیں سجھانے لگتا ہے لہٰذا حتی الامکان دل کو شیطانی وساوس کی آماجگاہ بننے سے بچانا چاہیے اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ بلا تاخیر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر یہ دعا مانگا کرتے تھے۔
«اللہم ثبت قلوبنا عليٰ دينك» یا الفاظ یہ ہوتے تھے۔ «يا مقلب القلوب ثبت قلوبنا عليٰ دينك»
«اللہم ثبت قلوبنا عليٰ دينك» یا الفاظ یہ ہوتے تھے۔ «يا مقلب القلوب ثبت قلوبنا عليٰ دينك»
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دل رب کی انگلیوں میں ہیں ٭٭
صحیح بخاری شریف میں ہے «اسْتَجِيبُوا» معنی میں «أَجِيبُوا» کے ہے «لِمَا يُحْيِيكُمْ» معنی «بِما يُصْلِحُكُم» کے ہے یعنی ’ اللہ اور اس کا رسول تمہیں جب آواز دے تم جواب دو اور مان لو کیونکہ اس کے فرمان کے ماننے میں ہی تمہاری مصلحت ہے۔‘
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نماز میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کر لیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے سے پہلے ہی میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورت سکھاؤں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلایا } ۱؎ [صحیح بخاری:4647]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سورت فاتحہ بتلائی اور فرمایا: { سات آیتیں دوہرائی ہوئی یہی ہیں۔ } اس حدیث کا پورا پورا بیان سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔
زندگی، آخرت میں نجات، عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا قرآن کی تعلیم، حق کو تسلیم کرنے اور اسلام لانے اور جہاد میں ہے۔ ان ہی چیزوں کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے۔ یعنی مومن میں اور کفر میں کافر میں اور ایمان میں۔ یہ معنی ایک مرفوع حدیث میں بھی ہیں لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔[الدر المنشور للسیوطی:320/3]
ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { میں نماز میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گذرے۔ مجھے آواز دی، میں آپ کے پاس نہ آیا۔ جب نماز پڑھ چکا تو حاضر خدمت ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کس نے روکا تھا کہ تو میرے پاس چلا آئے؟ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ اے ایمان والو اللہ اور اللہ کا رسول تمہیں جب آواز دیں تم قبول کر لیا کرو کیونکہ اسی میں تمہاری زندگی ہے۔ سنیں اس مسجد سے نکلنے سے پہلے ہی میں تمہیں قرآن کی سب سے بڑی سورت سکھاؤں گا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد سے جانے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ کو آپ کا وعدہ یاد دلایا } ۱؎ [صحیح بخاری:4647]
اور روایت میں ہے کہ یہ واقعہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سورت فاتحہ بتلائی اور فرمایا: { سات آیتیں دوہرائی ہوئی یہی ہیں۔ } اس حدیث کا پورا پورا بیان سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔
زندگی، آخرت میں نجات، عذاب سے بچاؤ اور چھٹکارا قرآن کی تعلیم، حق کو تسلیم کرنے اور اسلام لانے اور جہاد میں ہے۔ ان ہی چیزوں کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اللہ انسان اور اس کے دل میں حائل ہے۔ یعنی مومن میں اور کفر میں کافر میں اور ایمان میں۔ یہ معنی ایک مرفوع حدیث میں بھی ہیں لیکن ٹھیک یہی ہے کہ یہ قول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ہے مرفوع حدیث نہیں۔[الدر المنشور للسیوطی:320/3]
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں یعنی اسے اس حال میں چھوڑنا ہے کہ وہ کسی چیز کو سمجھتا نہیں۔ سدی رحمہ اللہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے بغیر نہ ایمان لا سکے نہ کفر کر سکے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ آیت مثل آیت «وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ» ۱؎ [50- ق: 16] کے ہے یعنی ’ بندے کی رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک ہم ہیں۔ ‘
اس آیت کے مناسب حدیثیں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ { «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ } تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لا چکے ہیں کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری نسبت خطرہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان دل ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کا تغیر و تبدل کرتا رہتا ہے۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں بھی یہ روایت کتاب القدر میں موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے { «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھ۔ }
مسند احمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر دل اللہ تعالیٰ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب سیدھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے اور جب ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے } [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تھی کہ { اے مقلب القلوب اللہ میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، فرماتے ہیں میزان رب رحمان کے ہاتھ میں ہے، جھکاتا ہے اور اونچی کرتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:199،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو اکثر سن کر مائی عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بکثرت اس دعا کے کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انسان کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے سیدھا کر دیتا ہے۔}
اس آیت کے مناسب حدیثیں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ { «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔ } تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری ہوئی وحی پر ایمان لا چکے ہیں کیا پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری نسبت خطرہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہاں اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان دل ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کا تغیر و تبدل کرتا رہتا ہے۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح] ترمذی میں بھی یہ روایت کتاب القدر میں موجود ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھا کرتے تھے { «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوطی سے قائم رکھ۔ }
مسند احمد میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر دل اللہ تعالیٰ رب العالمین کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب سیدھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے اور جب ٹیڑھا کرنا چاہتا ہے کر دیتا ہے } [سنن ترمذي:2140،قال الشيخ الألباني:صحیح]۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا تھی کہ { اے مقلب القلوب اللہ میرا دل اپنے دین پر ثابت قدم رکھ، فرماتے ہیں میزان رب رحمان کے ہاتھ میں ہے، جھکاتا ہے اور اونچی کرتا ہے۔ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:199،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند کی اور حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو اکثر سن کر مائی عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بکثرت اس دعا کے کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { انسان کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے جب چاہتا ہے ٹیڑھا کر دیتا ہے اور جب چاہتا ہے سیدھا کر دیتا ہے۔}
مسند احمد میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کو بکثرت سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ { کیا دل پلٹ جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جواب دیا۔ ہم اللہ تعالیٰ سے جو ہمارا پروردگار ہے دعا کرتے ہیں کہ «رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ» وہ ہدایت کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت و نعمت عطا فرمائے وہ بڑی ہی بخشش کرنے والا اور بہت انعاموں والا ہے۔ }
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں { میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر درخواست کی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے لیے بھی کوئی دعا سکھائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ دعا مانگا کرو دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» یعنی اے اللہ اسے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار میرے گناہ معاف فرما میرے دل کی سختی دور کر دے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بجا لے جب تک بھی تو مجھے زندہ رکھ۔ } ۱؎ [مسند احمد:302/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام انسانوں کے دل ایک ہی دل کی طرح اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے پھر آپ نے دعا کی کہ «اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، صَرِّفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے۔ }۱؎ [صحیح مسلم:2654]
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں { میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر درخواست کی کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے میرے لیے بھی کوئی دعا سکھائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یہ دعا مانگا کرو دعا «اللَّهُمَّ رَبَّ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ، اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» یعنی اے اللہ اسے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پروردگار میرے گناہ معاف فرما میرے دل کی سختی دور کر دے مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بجا لے جب تک بھی تو مجھے زندہ رکھ۔ } ۱؎ [مسند احمد:302/6:ضعیف]
مسند احمد میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { تمام انسانوں کے دل ایک ہی دل کی طرح اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں۔ جس طرح چاہتا ہے انہیں الٹ پلٹ کرتا رہتا ہے پھر آپ نے دعا کی کہ «اللَّهُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ، صَرِّفْ قُلُوبَنَا إِلَى طَاعَتِكَ» اے دلوں کے پھیر نے والے اللہ ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر لے۔ }۱؎ [صحیح مسلم:2654]