اس آیت کی تفسیر آیت 36 میں تا آیت 38 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 یعنی کفر و گناہوں میں حد سے تجاوز کیا ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ سو جس نے سرکشی کی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاَمَّامَنْطَغٰى﴾ یعنی اس نے حد سے تجاوز کیا، بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کی جسارت کی اور ان حدود پر اقتصار نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقرر کی تھیں ﴿ وَاٰثَرَالْحَیٰوةَالدُّنْیَا﴾ اور آخرت پر دنیا کی زندگی کو ترجیح دی اور دنیا ہی کے حظوظ و شہوات میں مستغرق رہا اور اسی کے لیے بھاگ دوڑ کی اور اس کا تمام تر وقت دنیا ہی کے لیے رہا اور اس نے آخرت اور اس کے لیے عمل کو فراموش کر دیا۔ ﴿فَاِنَّالْؔجَحِیْمَهِیَالْمَاْوٰى ﴾ یعنی جس کا یہ حال ہے، جہنم اس کا ٹھکانا اور مسکن ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فأمَّا مَن طغى}؛ أي: جاوز الحدَّ بأن تجرَّأ على المعاصي الكبار ولم يقتصرْ على ما حدَّه الله، {وآثرَ الحياة الدُّنيا}: على الآخرة، فصار سعيه لها ووقته مستغرقاً في حظوظها وشهواتها، ونسي الآخرة والعمل لها؛ {فإنَّ الجحيم هي المأوى}: له؛ أي: المقرُّ والمسكن لمن هذه حاله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔