ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 35

یَوۡمَ یَتَذَکَّرُ الۡاِنۡسَانُ مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۵﴾
جس دن انسان یاد کرے گا جو اس نے کوشش کی۔ En
اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا
En
جس دن کہ انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو یاد کرے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 34 میں تا آیت 36 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ تو اس دن انسان یاد کرے گا جو کچھ اس نے [25] کوشش کی ہو گی
[25] اس بڑی مصیبت کا اصل مقصد سب کو معلوم ہو گا کہ آج کا دن لوگوں کے حساب کتاب کا دن ہے۔ اور ہر انسان کو اپنا اعمال نامہ دیکھنے سے پہلے ہی وہ تمام کام یاد آنے لگیں گے جو اس نے اپنی دنیا کی زندگی میں سرانجام دیئے تھے، خواہ وہ کام اچھے تھے یا برے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ ‏‏‏‏[54-القمر:46]‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ ‏‏‏‏[89-الفجر:23]‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔