ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 34

فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّۃُ الۡکُبۡرٰی ﴿۫ۖ۳۴﴾
پھر جب وہ ہر چیز پر چھاجانے والی سب سے بڑی مصیبت آجائے گی ۔ En
تو جب بڑی آفت آئے گی
En
پس جب وه بڑی آفت (قیامت) آجائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 34) {فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى: الطَّآمَّةُ } اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لیے فرمایا { الْكُبْرٰى } کہ جو سب سے بڑی(مصیبت) ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

34۔ پھر جب وہ عظیم آفت [24] آجائے گی
[24] ﴿الطّامة ﴿الطَّمُّ بمعنی پانی سے بھرا ہوا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور ﴿الطامه﴾ ایسی آفت جو دوسری تمام مصیبتوں پر حاوی ہو جائے۔ اور ﴿الكبريٰ کا لفظ اس بڑی آفت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے تاکید کے طور پر آیا ہے اور اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُ الْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔
جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُ اَدْهٰى وَاَمَرُّ» ۱؎ ‏‏‏‏[54-القمر:46]‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى» ۱؎ ‏‏‏‏[89-الفجر:23]‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی جب قیامت کبریٰ اور بہت بڑی سختی، جس کے سامنے ہر سختی ہیچ ہے، آئے گی، اس وقت باپ اپنے بیٹے سے، دوست اپنے دوست سے اور محب اپنے محبوب سے غافل ہو جائے گا اور ﴿ یَوْمَ یَتَذَكَّـرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى اس دن انسان اپنے کاموں کو یاد کرے گا۔ یعنی دنیا کے اندر اس نے اچھے اور برے جو کام کیے تھے۔ پس وہ اپنی نیکیوں میں ذرہ بھر نیکی کے اضافے کی بھی تمنا کرے گا اور اپنی برائیوں میں ذرہ بھر اضافے پر غم زدہ ہو جائے گا۔ تب اسے اپنے اس نفع اور خسارے کی حقیقت معلوم ہو گی جو اس نے دنیا کے اندر کمایا۔ اعمال کے سوا تمام اسباب اور تعلقات منقطع ہو جائیں گے جو وہ دنیا کے اندر رکھتا تھا۔﴿ وَبُرِّزَتِ الْؔجَحِیْمُ لِمَنْ یَّرٰى یعنی جہنم کو میدان میں ہر ایک کے سامنے ظاہر کر دیا جائے گا جس کو جہنمیوں کے لیے تیار کیا گیاہے۔ جہنم ان کو پکڑنے کے لیے تیار اور اپنے رب کے حکم کا منتظر ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: إذا جاءت القيامةُ الكبرى والشدَّةُ العظمى، التي يَهون عندها كلُّ شدَّةٍ؛ فحينئذٍ يذهل الوالد عن ولده، والصاحب عن صاحبه، وكلُّ محبٍّ عن حبيبه، و {يتذكَّرُ الإنسانُ ما سعى}: في الدُّنيا من خير وشرٍّ، فيتمنَّى زيادة مثقال ذرَّةٍ في حسناته، ويغمُّه ويحزن لزيادة مثقال ذرَّةٍ في سيئاته، ويعلم إذ ذاك أنَّ مادة ربحه وخسرانه ما سعاه في الدُّنيا، وينقطع كلُّ سبب ووصلةٍ كانت في الدُّنيا سوى الأعمال، {وبُرِّزَت الجحيم لمن يرى}؛ أي: جُعِلَت في البراز ظاهرةً لكلِّ أحدٍ؛ قد هُيِّئت لأهلها، واستعدَّت لأخذهم منتظرةً لأمر ربِّها.