(آیت 34) {فَاِذَاجَآءَتِالطَّآمَّةُالْكُبْرٰى:”الطَّآمَّةُ“} اس مصیبت کو کہتے ہیں جو ہر چیز پر چھا جائے، مراد قیامت ہے۔ مزید ہولناکی بیان کرنے کے لیے فرمایا {”الْكُبْرٰى“} کہ جو سب سے بڑی(مصیبت) ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
34۔ پھر جب وہ عظیم آفت [24] آجائے گی
[24]﴿الطّامة﴾﴿الطَّمُّ﴾ بمعنی پانی سے بھرا ہوا اور ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اور ﴿الطامه﴾ ایسی آفت جو دوسری تمام مصیبتوں پر حاوی ہو جائے۔ اور ﴿الكبريٰ﴾ کا لفظ اس بڑی آفت کو مزید نمایاں کرنے کے لیے تاکید کے طور پر آیا ہے اور اس سے مراد قیامت کا دن ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انتہائی ہولناک لرزہ خیز لمحات ٭٭
«طَّامَّةُالْكُبْرَىٰ» سے مراد قیامت کا دن ہے اس لیے کہ وہ ہولناک اور بڑے ہنگامے والا دن ہو گا۔ جیسے اور جگہ ہے «وَالسَّاعَةُاَدْهٰىوَاَمَرُّ»۱؎ [54-القمر:46] یعنی ’ قیامت بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے ‘، اس دن ابن آدم اپنے بھلے برے اعمال کو یاد کرے گا اور کافی نصیحت حاصل کر لے گا۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَىِٕذٍيَّتَذَكَّرُالْاِنْسَانُوَاَنّٰىلَهُالذِّكْرٰى»۱؎ [89-الفجر:23] یعنی ’ اس دن آدمی نصیحت حاصل کر لے گا لیکن آج کی نصیحت اسے کچھ فائدہ نہ دے گی، لوگوں کے سامنے جہنم لائی جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ لیں گے ‘۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔