اس آیت کی تفسیر آیت 23 میں تا آیت 25 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ کہنے لگا! ”میں ہی تمہارا سب سے بڑا رب [17] ہوں“
[17] فرعون کا رعایا میں پروپیگنڈا :۔
میدان مقابلہ میں مات کھانے کے بعد بہت سے لوگ درپردہ سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لانے لگے تو فرعون بہت سیخ پا ہو گیا۔ اس نے ایک دوسرا پینترا بدلا اور لوگوں سے کہنے لگا تم لوگ میرے مقابلہ میں اس شخص کی پیروی کرنے لگے ہو جو میرے مقابلہ میں ایک کمزور اور حقیر انسان ہے جبکہ میں تمہارا سب سے بڑا حکمران ہوں۔ تمہارے تمام وسائل معاش بھی میرے ہاتھ میں ہیں۔ فرعون نے اپنے آپ کو ان معنوں میں رب الاعلیٰ نہیں کہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو خالق کائنات سمجھتا تھا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کو کائنات کا خالق و مالک سمجھتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو لوگوں کا معبود بھی نہیں کہتا تھا بلکہ وہ تو خود سورج دیوتا کی پرستش کرتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو ملک میں سب سے بڑا سیاسی اقتدار کا مالک اور حکمران سمجھتا تھا۔ وہ یہ کہتا تھا کہ اس ملک میں سب سے بڑا سیاسی مقتدر اعلیٰ میں ہوں۔ میرے بغیر یہاں کسی دوسرے کا قانون یا حکم نہیں چل سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔