(آیت 11،10) {يَقُوْلُوْنَءَاِنَّالَمَرْدُوْدُوْنَفِي …:} ”کیا جب ہم بوسیدہ ہڈیاں ہو جائیں گے تو دوبارہ پہلی حالت میں لوٹائے جائیں گے؟ “ یہ کہنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے منکرین قیامت کا تھا، آج کے مادہ پرست بھی یہی کہتے ہیں، ان کے خیال میں ہڈیاں بوسیدہ ہونے کے بعد انسان کا دوبارہ زندہ ہونا ناممکن ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
10۔ 1 حافِرَۃ، پہلی حالت کو کہتے ہیں۔ منکرین قیامت کا قول ہے کہ کیا ہم پھر اس طرح زندہ کردیئے جائیں گے جس طرح مرنے سے پیشتر تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ وہ (کفار مکہ) کہتے ہیں: کیا ہم پہلی حالت میں [8] لوٹائے جائیں گے؟
[8] ﴿حافرة﴾ کا لغوی معنی :۔
﴿الحَافِرَةَ﴾﴿حفر﴾ بمعنی گڑھا کھودنا اور ﴿حفرة﴾ بمعنی گڑھا بھی اور قبر بھی۔ اور ﴿حافرة﴾ بمعنی کھودی ہوئی زمین بھی اور ابتدائی حالت بھی اور ﴿ردّ فى الحافرة﴾ بطور محاورہ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی جہاں سے چلا تھا وہیں واپس جانے والا۔ بقول شاعر: پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا، یعنی کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم قبر کے گڑھے میں پہنچ کر کیا پھر الٹے پاؤں زندگی کی طرف واپس کیے جائیں گے؟ ہماری گلی سڑی ہڈیوں میں دوبارہ جان پڑ جائے، یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔