ترجمہ و تفسیر — سورۃ النازعات (79) — آیت 1

وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ۙ﴿۱﴾
ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر سختی سے ( جان) کھینچ لینے والے ہیں! En
ان (فرشتوں) کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں
En
ڈوب کر سختی سے کھینچنے والوں کی قسم! En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2،1) {وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًا …: النّٰزِعٰتِ } اور { النّٰشِطٰتِ } سے مراد سختی اور آسانی کے ساتھ جان نکالنے والے فرشتے ہیں۔ اگرچہ ان الفاظ کی تفسیریں اور بھی کی گئی ہیں، مگر تفسیر طبری میں حسن سندوں کے ساتھ ابن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنھم سے یہی تفسیر مروی ہے اور صحیح احادیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، جیسا کہ مسند احمد میں براء بن عازب رضی اللہ عنھما سے ایک طویل حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَ إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِّنَ الدُّنْيَاثُمَّ يَجِيْءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتّٰی يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُوْلُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الطَّيِّبَةُ! اخْرُجِيْ إِلٰی مَغْفِرَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ قَالَ فَتَخْرُجُ تَسِيْلُ كَمَا تَسِيْلُ الْقَطْرَةُ مِنْ فِي السِّقَاءِوَ إِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِّنَ الدُّنْيَاثُمَّ يَجِيْءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتّٰی يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَيَقُوْلُ أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيْثَةُ! اخْرُجِيْ إِلٰی سَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَغَضَبٍ قَالَ فَتَفْرُقُ فِيْ جَسَدِهِ فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُوْدُ مِنَ الصُّوْفِ الْمَبْلُوْلِ] [مسند أحمد: ۴ /۲۸۷،۲۸۸، ح: ۱۸۵۶۱] اور مومن آدمی جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے… تو ملک الموت علیہ السلام اس کے سر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے پاکیزہ جان! اللہ کی مغفرت اور رضا کی طرف نکل آ۔ تو وہ اس طرح نکل آتی ہے جس طرح مشکیزے سے پانی کا قطرہ نکلتا ہے… اور کافر جب دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے… تو ملک الموت اس کے سر کے پاس آکر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے: اے خبیث جان! اللہ کی ناراضی اور غصے کی طرف نکل آ۔ تو وہ جسم میں بکھر جاتی ہے تو وہ اسے اس طرح سختی سے کھینچ کر نکالتا ہے جس طرح بھیگی ہوئی اون سے گرم سلاخ کھینچ کر نکالی جاتی ہے۔ مشکوٰۃ میں شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
{ النّٰزِعٰتِ } سختی سے کھینچ کر نکالنے والے۔ { غَرْقًا } ڈوب کر۔ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو کفار کی جان ڈوب کر یعنی ان کے بدن کے ہر حصے میں پہنچ کر سختی سے کھینچ کر نکالتے ہیں، جب کہ وہ نکلنا نہیں چاہتی۔ { النّٰشِطٰتِ نَشَطَ الْعِقَالَ} (ن) رسی کی گرہ کھولنا۔ فرشتے مسلمان کی روح گرہ کھول کر نکالتے ہیں اور وہ خوشی سے اللہ کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑتی ہے۔ کافر اور مومن کا یہ فرق روح کی حالت میں ہے، بدن کی تکلیف الگ ہے، اس میں مسلمان اور کافر برابر ہیں۔ (خلاصہ موضح)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

ڈوب کر سختی سے کھنچنے والوں کی قسم (1)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

1۔ (جسم میں) غرق ہو کر (جان) کھینچ لینے والے (فرشتوں) کی قسم [1]
[1] یعنی ان فرشتوں کی قسم جو موت کے وقت میت کے ایک ایک رگ و ریشہ میں ڈوب کر وہاں سے اس کی روح کو کھینچ لاتے ہیں۔ واضح رہے کہ نزع کا لغوی معنی کسی چیز کو اس کی قرارگاہ سے کھینچنا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فرشتے موت اور ستارے ٭٭
اس سے مراد فرشتے ہیں جو بعض لوگوں کی روحوں کو سختی سے گھسیٹتے ہیں اور بعض روحوں کو بہت آسانی سے نکالتے ہیں جیسے کسی کے بند کھول دیئے جائیں، کفار کی روحیں کھینچی جاتی ہیں پھر بند کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم میں ڈبو دیئے جاتے ہیں، یہ ذکر موت کے وقت کا ہے۔
بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد کشتیاں ہیں۔‏‏‏‏
اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔‏‏‏‏
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں،
پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14]‏‏‏‏ ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔
دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14]‏‏‏‏ ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کانپنے والی آئے گی اس کے پیچھے ہی پیچھے آنے والی ہو گی یعنی موت اپنے ساتھ اپنی آفتیں لیے ہوئے آئے گی، ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنے وظیفہ کا تمام وقت آپ پر درود پڑھنے میں گزاروں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اللہ تعالیٰ تجھے دنیا اور آخرت کے تمام غم و رنج سے بچا لے گا۱؎ [مسند احمد:5/136:حسن]‏‏‏‏
ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن]‏‏‏‏
اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کہتے ہیں قبروں کو بھی، یعنی قبروں میں چلے جانے کے بعد جسم کے ریزے ریزے ہو جانے کے بعد، جسم اور ہڈیوں کے گل سڑ جانے اور کھوکھلی ہو جانے کے بعد بھی کیا ہم زندہ کئے جائیں گے؟ پھر تو یہ دوبار کی زندگی خسارے اور گھاٹے والی ہو گی۔ کفار قریش کا یہ مقولہ تھا۔
«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔
اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52]‏‏‏‏، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔
اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50]‏‏‏‏ ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔
اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ ‏‏‏‏[16-النحل:77]‏‏‏‏ ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
یہاں بھی یہی بیان ہو رہا ہے کہ ’ صرف ایک آواز ہی کی دیر ہے اس دن پروردگار سخت غضبناک ہو گا ‘۔ یہ آواز بھی غصہ کے ساتھ ہو گی، یہ آخری نفخہ ہے جس کے پھونکے جانے کے بعد ہی تمام لوگ زمین کے اوپر آ جائیں گے، حالانکہ اس سے پہلے نیچے تھے۔
«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں اس سے مراد شام کی زمین ہے۔‏‏‏‏ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔‏‏‏‏ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔‏‏‏‏ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔‏‏‏‏ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔
اور جگہ ہے «‏‏‏‏يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [14-إبراھیم:48]‏‏‏‏، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔
اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [20-طه:105-106]‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔
اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ‏‏‏‏۱؎ [18-الكهف:47]‏‏‏‏ ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مکرم فرشتوں اور ان کے افعال کی کھائی ہوئی یہ قسمیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے ان کی کامل اطاعت اور اس کو نافذ کرنے میں ان کی سرعت پر دلالت کرتی ہیں، اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ جس امر پر قسم کھائی گئی ہے وہ جزا اور قیامت ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد قیامت کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔اس میں (دوسرا) احتمال یہ ہے کہ جس پر قسم کھائی گئی ہے اور جس کی قسم کھائی ہے وہ دونوں ایک ہوں، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر اس لیے قسم کھائی ہے کہ ان پر ایمان لانا، ایمان کے چھ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ نیز یہ کہ یہاں ان کے افعال کا ذکر کرنا اس جزا کو متضمن ہے جس کا انتظام موت کے وقت، موت سے پہلے یا موت کے بعد فرشتے کرتے ہیں، اس لیے فرمایا: ﴿وَ الـنّٰ٘زِعٰتِ غَ٘رْقًا ان کی قسم! جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں۔ اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طاقت کے ساتھ روح قبض کرتے ہیں اور روح قبض کرنے میں مبالغہ کرتے ہیں یہاں تک کہ روح نکل جاتی ہے اور اسے اس کے عمل کی جزا دی جاتی ہے۔ ﴿وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا اور ان کو جو آسانی سے کھول دیتے ہیں۔اس سے بھی فرشتے مراد ہیں، جو ارواح کو قوت اور نشاط کے ساتھ نکالتے ہیں یا اس کا معنی یہ ہے کہ پھرتی اور تیزی سے روح نکالنے کا معاملہ اہل ایمان کی ارواح کے ساتھ ہے اور ارواح کو کھینچ کر زور سے نکالنا کفار کی ارواح کے ساتھ ہے۔
﴿وَّالسّٰؔبِحٰؔتِ یعنی ہوا کے اندر ادھر ادھر آتے جاتے، اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے فرشتوں کی قسم ﴿فَالسّٰؔبِقٰتِ دوسروں پر سبقت لے جانے والے ﴿سَبْقًا سبقت لے جانا۔ پس فرشتے اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف جلدی سے آگے بڑھتے ہیں اور وحی ٔالٰہی کو اللہ تعالیٰ کے رسولوں تک پہنچانے میں شیاطین سے آگے بڑھ جاتے ہیں تاکہ شیاطین اس کو چرا نہ لیں۔ ﴿فَالْمُدَبِّرٰتِ۠ اَمْرًا یہ وہ فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے عالم بالا اور عالم سفلی کے بہت سے امور کی تدبیر کے لیے مقرر فرمایا ہے، مثلاً: بارشوں، نباتات، ہواؤ ں، سمندروں، ماؤ ں کے پیٹ میں بچوں، حیوانات، جنت اور جہنم وغیرہ کے امور۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذه الإقسامات بالملائكة الكرام وأفعالهم الدالَّة على كمال انقيادهم لأمر الله وإسراعهم في تنفيذه ؛ يُحتمل أنَّ المقسم عليه الجزاء والبعث؛ بدليل الإتيان بأحوال القيامة بعد ذلك، ويُحتمل أنَّ المقسَم عليه والمقسَم به متَّحِدان، وأنَّه أقسم على الملائكة؛ لأنَّ الإيمان بهم أحدُ أركان الإيمان الستَّة، ولأنَّ في ذكر أفعالهم هنا ما يتضمَّن الجزاء الذي تتولاَّه الملائكة عند الموت وقبله وبعده، فقال: {والنازعاتِ غَرْقاً}: وهم الملائكة التي تنزع الأرواح بقوَّة، وتغرق في نزعها حتى تخرج الرُّوح فتجازى بعملها. {والناشطاتِ نشطاً}: وهي الملائكة أيضاً تجتذبُ الأرواحَ بقوَّة ونشاطٍ، أو أنَّ النشطَ يكون لأرواح المؤمنين والنَّزْع لأرواح الكفَّار. {والسَّابحاتِ}؛ أي: المتردِّدات في الهواء صعوداً ونزولاً، {سبحاً. فالسَّابقاتِ}: لغيرها {سبقاً}: فتبادِرُ لأمر الله وتسبق الشياطين في إيصال الوحي إلى رسل الله؛ لئلاَّ تسترِقه ، {فالمدبِّراتِ أمراً}؛ [أي]: الملائكة الذين جعلهم الله يدبِّرون كثيراً من أمور العالم العلويِّ والسفليِّ من الأمطار والنَّبات [والأشجار] والرِّياح والبحار والأجنَّة والحيوانات والجنَّة والنار وغير ذلك.