تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
{” النّٰزِعٰتِ “} سختی سے کھینچ کر نکالنے والے۔“ {” غَرْقًا “} ”ڈوب کر۔“ یعنی ان فرشتوں کی قسم جو کفار کی جان ڈوب کر یعنی ان کے بدن کے ہر حصے میں پہنچ کر سختی سے کھینچ کر نکالتے ہیں، جب کہ وہ نکلنا نہیں چاہتی۔ {” النّٰشِطٰتِ “ ”نَشَطَ الْعِقَالَ“} (ن) رسی کی گرہ کھولنا۔ فرشتے مسلمان کی روح گرہ کھول کر نکالتے ہیں اور وہ خوشی سے اللہ کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑتی ہے۔ کافر اور مومن کا یہ فرق روح کی حالت میں ہے، بدن کی تکلیف الگ ہے، اس میں مسلمان اور کافر برابر ہیں۔ (خلاصہ موضح)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بعض کہتے ہیں «وَالنَّازِعَاتِ غَرْقًا» سے مراد موت ہے، بعض کہتے ہیں، دونوں آیتوں سے مطلب ستارے ہیں، بعض کہتے ہیں سخت لڑائی کرنے والے ہیں، لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے، یعنی روح نکالنے والے فرشتے، اسی طرح تیسری آیت کی نسبت بھی یہ تینوں تفسیریں مروی ہیں یعنی فرشتے، موت اور ستارے۔ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مراد کشتیاں ہیں۔“
اسی طرح «سَّابِقَاتِ» کی تفسیر میں بھی تینوں قول ہیں، معنی یہ ہیں کہ ایمان اور تصدیق کی طرف آگے بڑھنے والے، عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”مجاہدین کے گھوڑے مراد ہیں، پھر حکم اللہ کی تعمیل تدبیر سے کرنے والے، اس سے مراد بھی فرشتے ہیں“ جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ وغیرہ کا قول ہے، ”آسمان سے زمین کی طرف اللہ عزوجل کے حکم سے تدبیر کرتے ہیں۔“
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان اقوال میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، کانپنے والی کے کانپنے اور اس کے پیچھے آنے والی کے پیچھے آنے سے مراد دونوں نفخہ ہیں،
پہلے نفخہ کا بیان اس آیت میں بھی ہے «يَوْمَ تَرْجُفُ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ» ۱؎ [73-المزمل:14] ’ جس دن زمین اور پہاڑ کپکپا جائیں گے ‘۔
دوسرے نفخہ کا بیان اس آیت میں ہے «وَحُمِلَتِ الْأَرْضُ وَالْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَاحِدَةً» ۱؎ [69-الحاقة:14] ’ اور زمین اور پہاڑ اٹھا لیے جائیں گے، پھر دونوں ایک ہی دفعہ چور چور کر دیئے جائیں گے ‘۔
ترمذی میں ہے کہ { وہ تہائی رات گزرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے ”لوگو! اللہ کو یاد کرو کپکانے والی آ رہی ہے پھر اس کے پیچھے ہی اور آ رہی ہے، موت اپنے ساتھ کی تمام آفات کو لیے ہوئے چلی آ رہی ہے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2457،قال الشيخ الألباني:حسن]
اس دن بہت سے دل ڈر رہے ہوں گے، ایسے لوگوں کی نگاہیں ذلت و حقارت کے ساتھ پست ہوں گی کیونکہ وہ اپنے گناہوں اور اللہ کے عذاب کا معائنہ کر چکے ہیں، مشرکین جو روز قیامت کے منکر تھے اور کہا کرتے تھے کہ کیا قبروں میں جانے کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے؟ وہ آج اپنی اس زندگی کو رسوائی اور برائی کے ساتھ آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
«حَافِرَةِ» کے معنی موت کے بعد کی زندگی کے بھی مروی ہیں، اور جہنم کا نام بھی ہے اس کے نام بہت سے ہیں جیسے «جحیم» ، «سقر» ، «جہنم» ، «ہاویہ» ، «حافرہ» ، «لظی» ، «حطمہ» وغیرہ۔
اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ جس چیز کو یہ بڑی بھاری، انہونی اور ناممکن سمجھے ہوئے ہیں وہ ہماری قدرت کاملہ کے ماتحت ایک ادنٰی سی بات ہے، ادھر ایک آواز دی ادھر سب زندہ ہو کر ایک میدان میں جمع ہو گئے ‘، یعنی اللہ تعالیٰ سیدنا اسرافیل علیہ السلام کو حکم دے گا وہ صور پھونک دیں گے بس ان کے صور پھونکتے ہی تمام اگلے پچھلے جی اٹھیں گے اور اللہ کے سامنے ایک ہی میدان میں کھڑے ہو جائیں گے،
جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52]، ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا اور تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے جواب دو گے اور جان لو گے کہ بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔
اور جگہ فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ’ ہمارا حکم بس ایسا ایک بارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔
اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ» ۱؎ [16-النحل:77] ’ امر قیامت مثل آنکھ جھپکنے کے ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ قریب ‘۔
«سَّاهِرَةِ» روئے زمین کو کہتے ہیں اور سیدھے صاف میدان کو بھی کہتے ہیں۔ ثوری رحمہ اللہ کہتے ہیں ”اس سے مراد شام کی زمین ہے۔“ عثمان بن ابوعاتکہ رحمہ اللہ کا قول ہے ”اس سے مراد بیت المقدس کی زمین ہے۔“ وہب بن منبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”بیت المقدس کے ایک طرف یہ ایک پہاڑ ہے۔“ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں ”جہنم کو بھی «سَّاهِرَةِ» کہتے ہیں۔“ لیکن یہ اقوال سب غریب ہیں، ٹھیک قول پہلا ہی ہے یعنی روئے زمین کے سب لوگ زمین پر جمع ہو جائیں گے، جو سفید ہو گی اور بالکل صاف اور خالی ہو گی جیسے میدے کی روٹی ہوتی ہے۔
اور جگہ ہے «يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ» ۱؎ [14-إبراھیم:48]، یعنی ’ جس دن یہ زمین بدل کر دوسری زمین ہو گی اور آسمان بھی بدل جائیں گا اور سب مخلوق اللہ تعالیٰ واحد و قہار کے روبرو ہو جائے گی ‘۔
اور جگہ ہے «وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا» ۱؎ [20-طه:105-106] ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے پوچھتے ہیں تو کہہ دے کہ انہیں میرا رب ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان بن جائے گی جس میں کوئی موڑ توڑ نہ ہو گا، نہ اونچی نیچی جگہ ‘۔
اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ ہم پہاڑوں کو چلنے والا کر دیں گے اور زمین صاف ظاہر ہو جائے گی ‘۔ غرض ایک بالکل نئی زمین ہو گی جس پر نہ کبھی کوئی خطا ہوئی نہ قتل و گناہ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الإقسامات بالملائكة الكرام وأفعالهم الدالَّة على كمال انقيادهم لأمر الله وإسراعهم في تنفيذه ؛ يُحتمل أنَّ المقسم عليه الجزاء والبعث؛ بدليل الإتيان بأحوال القيامة بعد ذلك، ويُحتمل أنَّ المقسَم عليه والمقسَم به متَّحِدان، وأنَّه أقسم على الملائكة؛ لأنَّ الإيمان بهم أحدُ أركان الإيمان الستَّة، ولأنَّ في ذكر أفعالهم هنا ما يتضمَّن الجزاء الذي تتولاَّه الملائكة عند الموت وقبله وبعده، فقال: {والنازعاتِ غَرْقاً}: وهم الملائكة التي تنزع الأرواح بقوَّة، وتغرق في نزعها حتى تخرج الرُّوح فتجازى بعملها. {والناشطاتِ نشطاً}: وهي الملائكة أيضاً تجتذبُ الأرواحَ بقوَّة ونشاطٍ، أو أنَّ النشطَ يكون لأرواح المؤمنين والنَّزْع لأرواح الكفَّار. {والسَّابحاتِ}؛ أي: المتردِّدات في الهواء صعوداً ونزولاً، {سبحاً. فالسَّابقاتِ}: لغيرها {سبقاً}: فتبادِرُ لأمر الله وتسبق الشياطين في إيصال الوحي إلى رسل الله؛ لئلاَّ تسترِقه ، {فالمدبِّراتِ أمراً}؛ [أي]: الملائكة الذين جعلهم الله يدبِّرون كثيراً من أمور العالم العلويِّ والسفليِّ من الأمطار والنَّبات [والأشجار] والرِّياح والبحار والأجنَّة والحيوانات والجنَّة والنار وغير ذلك.