ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 6

اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ مِہٰدًا ۙ﴿۶﴾
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا۔ En
کیا ہم نے زمین کو بچھونا نہیں بنایا
En
کیا ہم نے زمین کو فرش نہیں بنایا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) ➊ { اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ مِهٰدًا:} اللہ تعالیٰ نے قیامت کا یقین دلانے کے لیے اور ان کی عقلوں کو جھنجھوڑنے کے لیے اپنی قدرت کے چند عجائب پیش فرمائے ہیں کہ عقل سے پوچھو کہ اتنے بڑے بڑے کام کرنے والے کے لیے تمھیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ اور وہ عجائب بھی خود تمھارے گردو پیش اور تمھاری ذات میں موجود ہیں۔
➋ فرمایا جہاں رہتے ہو اسی کو دیکھ لو، کیا عقل میں آسکتا ہے کہ اتنی بڑی زمین کو ہم نے کس طرح پیدا کیا اور کس طرح بچھونے کی طرح بچھا دیا ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ کیا ہم نے زمین [4] کو ایک گہوارہ نہیں بنایا؟
[4] کیا کائنات کے چودھری حضرت انسان کی زندگی کا کچھ مقصد نہ ہونا چاہیے :۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کائنات سے چند ایسے آثار و شواہد پیش فرمائے ہیں جن سے ہر انسان کو سابقہ پڑتا ہے اور وہ ان سے متمتع ہو رہا ہے۔ انسان کو بتانا یہ مقصود ہے کہ کائنات میں یہ اشیاء کسی خاص مقصد کے لیے اور بڑی حکمت کے ساتھ پیدا کی گئی ہیں اور ان میں سے ہر چیز اپنے مقاصد کو پورا کر رہی ہے۔ اب رہا انسان جسے عقل و شعور اور ارادہ و اختیار دے کر اور اس کائنات میں چودھری بنا کر بھیجا گیا ہے کہ وہ ان تمام اشیاء سے حسب ضرورت فائدے اٹھائے تو کیا اس کی زندگی کا کچھ بھی مقصد نہ ہونا چاہیے؟ کیا عقل اسے باور کرتی ہے کہ انسان فائدے تو ہر طرح سے اٹھائے۔ دنیا میں جو جی میں آئے کرتا پھرے۔ پھر جب مر جائے تو اس کا قصہ پاک ہو جائے اور اس سے کوئی مؤاخذہ کرنے والا نہ ہو؟ کیا کائنات کی باقی سب اشیاء کے علی الرغم انسان کو ہی ایسا بے کار پیدا کیا گیا ہے۔ کہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو؟ انسان کی زندگی کا مقصد یہ آزمائش ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ قوتوں کا استعمال درست کرتا ہے یا غلط؟ اسے اس امتحان کے لیے اس کی موت تک کا وقت دیا گیا ہے۔
اللہ کی نشانیاں زمین کا گہوارہ ہونا :۔
اس دوران وہ پرچہ امتحان کو جس طرح چاہے حل کر سکتا ہے۔ موت کے وقت اسے اس کے امتحان کے نتیجہ سے آگاہ کر دیا جائے گا۔ اور دوسری دنیا یعنی عالم آخرت میں اسے اس کے کیے ہوئے اعمال کی جزا و سزا بھی دی جائے گی۔ آگے ان چند آثار و شواہد کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ سرفہرست یہ ہے کہ زمین اس کے لیے گہوارہ بنا دی گئی ہے۔ جس میں ہم نے اس کی رہائش، اس کے چلنے پھرنے اور اس کے کھانے پینے اور نشو و نما کے جملہ انتظامات کر دیئے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیا ہم نے تمھیں بڑی بڑی نعمتوں سے نہیں نوازا؟ پس ہم نے تمھارے لیے بنایا ﴿ الْاَرْضَ مِهٰدًا زمین کو ہموار اور نرم، یعنی تمھارے لیے اور تمھارے مصالح، مثلاً کھیتی باڑی کرنے، گھر بنانے اور راستے بنانے کے لیے۔ ﴿ وَّالْجِبَالَ اَوْتَادًا اور پہاڑوں کو میخیں۔ جو زمین کو ٹھہرائے ہوئے ہیں تاکہ تمھیں لے کر متحرک نہ ہو جائے اور ڈھلک نہ جائے۔ ﴿ وَّخَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا یعنی ایک ہی جنس میں سے تمھیں مرد اور عورت بنایا تاکہ ہر ایک دوسرے سے سکون حاصل کرے۔ پس اس طرح مودت اور رحمت وجود میں آئے اور ان دونوں سے اولاد پیدا ہو۔ اس احسان کا ذکر لذت نکاح کو متضمن ہے۔
﴿ وَّجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًا یعنی تمھاری نیند کو تمھاری راحت اور تمھارے اشغال کو منقطع کرنے والی بنایا، جو اگر بڑھ جائیں تو تمھارے ابدان کو ضرر پہنچاتے ہیں، پس اللہ تعالیٰ نے رات کی یہ خاصیت بنائی کہ وہ لوگوں کو ڈھانپ لیتی ہے، تاکہ ان کی ضرر رساں حرکات ٹھہر جائیں اور انھیں نفع مند راحت حاصل ہو۔ ﴿ وَّبَنَیْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا یعنی تمھارے اوپر سات آسمان بنائے جو قوت، صلابت اور سختی کی انتہا پر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو زمین کے لیے چھت بنایا، آسمانوں میں انسانوں کے لیے متعدد فوائد ہیں، اس لیے ان کے منافع میں سورج کا ذکر کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿ وَّجَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا اور ہم نے روشن چراغ بنایا۔ چراغ کا ذکر کر کے سورج کی روشنی کی نعمت کی طرف اشارہ کیا ہے، جو مخلوق کی ضرورت بن گئی ہے۔ وَھَّاج یعنی اس کی حرارت کا ذکر کر کے اس کے اندر پھلوں کو پکانے کی قوت اور دیگر منافع کی طرف اشارہ کیا۔
﴿ وَّاَنْزَلْنَا مِنَ الْ٘مُعْصِرٰتِ یعنی ہم نے بادل سے اتارا ﴿ مَآءًؔ ثَجَّاجًا بہت زیادہ پانی۔ ﴿ لِّنُخْرِجَ بِهٖ حَبًّا تاکہ اس کے ذریعے سے اناج پیدا کریں۔ مثلاً: گیہوں، جو، مکئی اور چاول وغیرہ، جسے آدمی کھاتے ہیں ﴿ وَّنَبَاتًا اور سبزہ۔ یہ تمام نباتات کو شامل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے مویشیوں کے لیے خوراک بنایا ہے ﴿ وَّجَنّٰتٍ اَلْفَافًا اور گھنے باغات، ان کے اندر تمام اقسام کے لذیذ میوے ہیں۔ پس وہ ہستی جس نے یہ جلیل القدر نعمتیں عطا کی ہیں، جس کی مقدار کا اندازہ کیا جا سکتا ہے نہ انھیں شمار کیا جا سکتا ہے، تم کیونکر اس کا انکار کرتے ہو اور کیونکر اس خبر کو جھٹلاتے ہو جو اس نے تمھاری موت کے بعد تمھارے دوبارہ اٹھائے جانے اور قیامت کے بارے میں دی ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

؛ أي: أما أنعمنا عليكم بنعمٍ جليلةٍ، فجعلنا لكم {الأرضَ مِهاداً}؛ أي: ممهَّدة مذلَّلة لكم ولمصالحكم من الحروث والمساكن والسُّبل، {والجبالَ أوتاداً}: تمسك الأرض لئلاَّ تضطرب بكم وتميدَ، {وخَلَقْناكم أزواجاً}؛ أي: ذكوراً وإناثاً من جنس واحدٍ؛ ليسكن كلٌّ منهما إلى الآخر، فتتكوَّن الموَّدة والرحمة، وتنشأ عنهما الذُّرِّيَّة. وفي ضمن هذا الامتنان بلذَّة المنكح. {وجَعَلْنا نومَكم سُباتاً}؛ أى: راحةً لكم وقطعاً لأشغالكم التي متى تمادت بكم؛ أضرَّت بأبدانكم، فجعل الله الليل والنوم يُغْشي الناس لتسكنَ - حركاتُهم الضارَّة وتحصل راحتُهم النافعةُ، {وبنينا فوقَكم سبعاً شِداداً}؛ أي: سبع سماواتٍ في غاية القوَّة والصَّلابة والشِّدَّة، وقد أمسكها الله بقدرته، وجعلها سقفاً للأرض، فيها عدَّة منافع لهم، ولهذا ذكر من منافعها الشمس، فقال: {وجَعَلْنا سراجاً وهَّاجاً}: نبَّه بالسِّراج على النِّعمة بنورها الذي صار ضرورةً للخلق، وبالوهَّاج - وهي حرارتها - على ما فيها من الإنضاج والمنافع ، {وأنزلنا من المعصِراتِ}؛ أي: السَّحاب {ماءً ثَجَّاجاً}؛ أي: كثيراً جدًّا؛ {لِنُخْرِجَ به حبًّا}: من برٍّ وشعيرٍ وذرةٍ وأرزٍّ وغير ذلك ممّا يأكله الآدميُّون، {ونباتاً}: يشملُ سائر النَّبات الذي جعله الله قوتاً لمواشيهم، {وجناتٍ ألفافاً}؛ أي: بساتين ملتفَّة فيها من جميع أصناف الفواكه اللَّذيذة؛ فالذي أنعم [عليكم] بهذه النِّعم الجليلة التي لا يقدر قدرها ولا يحصى عددها؛ كيف تكفُرون به وتكذِّبون ما أخبركم به من البعث والنُّشور؟! أم كيف تستعينون بنعمِهِ على معاصيه وتجحَدونها؟!