بلاشبہ ہم نے تمھیں ایک ایسے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب ہے، جس دن آدمی دیکھ لے گا جو اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا اور کافر کہے گا اے کاش کہ میں مٹی ہوتا۔
En
ہم نے تم کو عذاب سے جو عنقریب آنے والا ہے آگاہ کر دیا ہے جس دن ہر شخص ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہوں گے دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہوتا
ہم نے تمہیں عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا (اور چوکنا کر دیا) ہے۔ جس دن انسان اپنے ہاتھوں کی کمائی کو دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کہ کاش! میں مٹی ہو جاتا
En
(آیت 40) ➊ {اِنَّاۤاَنْذَرْنٰكُمْعَذَابًاقَرِيْبًا …:} آخرت کے عذاب کو قریب فرمایا، کیونکہ عمر خواہ کتنی بھی ہو ختم ہونے والی ہے اور ہر آنے والا وقت قریب ہی ہوتا ہے۔ قیامت کو جب اٹھیں گے تو انھیں دنیا میں قیام کا وقت ایسے معلوم ہوگا جیسے دن کا ایک پہر گزرا ہو۔ (دیکھیے نازعات: ۴۶) بلکہ قیامت کے دن مجرم قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم دنیا میں ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۵۵)۔ ➋ { يٰلَيْتَنِيْكُنْتُتُرٰبًا:} اے کاش کہ میں مٹی ہوتا، یعنی پیدا ہی نہ ہوا ہوتا، نہ حساب ہوتا نہ کتاب۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کاش! میں مر کر مٹی ہو جاتا تو نہ حساب ہوتا نہ عذاب۔ بعض مفسرین نے ایک عجیب معنی کیا ہے کہ{”الْكٰفِرُ“} سے مراد یہاں ابلیس ہے۔ جب آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو ان کے اعمال کا ثواب ملے گا تو ابلیس کہے گا کاش! میں مٹی ہوتا، آگ سے بنا ہوا نہ ہوتا، کیونکہ اس نے آگ سے بنا ہوا ہونے کی وجہ سے آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ٹھکرا دیا تھا۔ (زاد المسیرلابن جوزی) پہلے معنوں کے ساتھ یہ بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 یعنی جب وہ اپنے لئے ہولناک عذاب دیکھے گا تو یہ آرزو کرے گا۔ بعض کہتے ہیں کہ اللہ حیوانات کے درمیان بھی عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ فرمائے گا، حتیٰ کہ ایک سینگ والی بکری نے بےسینگ والی پر کوئی زیادتی کی ہوگی، تو اس کا بھی بدلہ دلائے گا اس سے فراغت کے بعد اللہ تعالیٰ جانوروں کو حکم دے گا کہ مٹی ہوجاؤ۔ چناچہ وہ مٹی ہوجائیں گے۔ اسوقت کافر بھی آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی حیوان ہوتے اور آج مٹی بن جاتے (تفسیر ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ ہم نے تمہیں اس عذاب سے ڈرایا ہے جو قریب آ پہنچا ہے۔ اس دن آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور کافر کہے گا: کاش میں مٹی [27] ہوتا۔
[27] اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ میں پیدا ہی نہ کیا جاتا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ مرنے کے بعد مٹی میں مل کر مٹی ہی بنا رہتا۔ مجھے دوبارہ زندگی نہ عطا کی جاتی اور نہ یہ سختی کا دن دیکھنا پڑتا۔ تیسرا مطلب سیدنا ابوہریرہؓ کی اس حدیث سے ماخوذ ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جانور، چرند اور پرند سب کا حشر ہو گا حتیٰ کہ سینگ والی بکری کا بدلہ بے سینگ بکری سے لیا جائے گا جس نے دنیا میں اسے مارا ہو گا۔ [مسلم كتاب، البرو الصله باب تحريم الظلم] پھر ان سے کہا جائے گا کہ اب تم خاک بن جاؤ۔ اس وقت کافر آرزو کرے گا کہ کاش میں بھی ان جانوروں کی طرح خاک بن جاتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔