ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 32

حَدَآئِقَ وَ اَعۡنَابًا ﴿ۙ۳۲﴾
باغات اور انگور۔ En
(یعنی) باغ اور انگور
En
باغات ہیں اور انگور ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32تا34) {حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًا …: حَدَآىِٕقَ حَدِيْقَةٌ} کی جمع ہے، وہ باغ جس کے گرد چار دیواری ہو۔ { اَعْنَابًا عِنَبٌ} کی جمع ہے۔ انگور کو پھلوں میں ایک خصوصیت حاصل ہے، اس لیے اس کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔ { اَعْنَابًا } جمع لانے کا مطلب ہے کہ انگور کی بہت سی اقسام ہوں گی۔ { كَوَاعِبَ كَاعِبٌ} کی جمع ہے، وہ نوجوان لڑکی جس کا سینہ ایسے ابھرا ہوا ہو جیسے کعب یعنی ٹخنہ۔ { اَتْرَابًا تِرْبٌ} (تاء کے کسرہ کے ساتھ) کی جمع ہے، مٹی میں ساتھ کھیلنے والے ہم عمر۔ آپس میں ہم عمر ہوں گی یا اپنے خاوندوں کی ہم عمر ہوں گی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ باغات [21] اور انگور
[21] پرہیزگاروں کو نجات کے بعد زائد انعام جنت یا جنت کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا ان میں سے چند ایک کا یہاں ذکر کیا جا رہا ہو۔ ان میں پہلی چیز تو حدائق ہیں اور حدائق حدیقہ کی جمع ہے اور حدیقہ ایسے باغ کو کہتے ہیں جس کے گرد حفاظت کی خاطر چار دیواری کی گئی ہے۔ ایسے باغات میں بالخصوص انگوروں کا ذکر فرمایا۔ کیونکہ یہی ایک ایسا پھل ہے جو پورے کا پورا کھایا جا سکتا ہے نہ اس کا چھلکا اتارنا پڑتا ہے اور نہ اس میں گٹھلی یا بیج ہوتے ہیں اور اگر بیج ہوتے ہیں تو صرف بڑے سائز کے انگور میں جس سے منقیٰ بنتا ہے۔ یہ بیج بھی اگر کوئی شخص کھا لے تو کچھ حرج نہیں۔ اور نرم اتنا کہ منہ میں ڈالتے ہی گھل جاتا ہے۔ شیریں بھی ہوتا ہے اور مزیدار بھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭
نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔
ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎ [بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف]‏‏‏‏
انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّا لَغْوٌ فِيْهَا وَلَا تَاْثِيْمٌ» ‏‏‏‏ ۱؎ [52-الطور:23]‏‏‏‏ ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «‏‏‏‏أَعْطَانِي فَأَحْسَبنِي» ‏‏‏‏انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِي اللَّه» ‏‏‏‏یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔