(آیت 31){ اِنَّلِلْمُتَّقِيْنَمَفَازًا:} جہنم اور جہنمیوں کے بعد جنت اور جنتیوں کا ذکر ہے۔ یہاں متقین کا ذکر ان لوگوں کے مقابلے میں آیا ہے جنھیں کسی حساب کی توقع نہ تھی اور جنھوں نے اللہ کی آیات کو بالکل جھٹلادیا تھا، یعنی اعمال کے حساب سے ڈرنے والوں اور کفر وتکذیب سے ڈرنے والوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔{”مَفَازًا“} مصدر ہو تومعنی ہے ”کامیابی“ اور ظرف ہو تو معنی ہے ”کامیابی کا مقام۔“ {”مَفَازًا“} میں تنوین ”ایک بڑی“ کا مفہوم ادا کر رہی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
31۔ پرہیز گاروں کے لیے یقیناً کامیابی [20] کا ایک مقام ہے
[20] ﴿مَفَازًا﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿مَفَازًا﴾﴿فاز﴾ بمعنی نجات حاصل کرنا اور مصیبتوں سے نجات حاصل کر کے خیر و عافیت کے ساتھ سلامتی کی جگہ پہنچنا ہے۔ اسی لیے ﴿فاز الرجل﴾ اور ﴿فَوْزَ الرجل﴾ کے معنی مرنا اور ہلاک ہونا بھی آتا ہے اور اس میں تصور یہ ہے کہ انسان مر کر دنیا کی پریشانیوں اور مصیبتوں سے نجات حاصل کر لیتا ہے۔ گویا پرہیزگاروں کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ انہیں قیامت کے دن کے مصائب و آلام اور دوزخ کے عذاب سے نجات مل جائے اور وہ ایسے محفوظ اور سلامتی والے مقام پر پہنچا دیئے جائیں جہاں جہنم کے عذاب کی لو تک بھی نہ پہنچ سکے۔ رہا اس کے بعد جنت میں داخلہ اور جنت کی نعمتوں کا حصول تو وہ اللہ کے فضل اور مہربانی سے زائد انعام ہو گا۔ اور اس مضمون پر پہلے متعدد مقامات پر بحث گزر چکی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فضول اور گناہوں سے پاک دنیا ٭٭
نیک لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں جو نعمتیں و رحمتیں ہیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ کامیاب مقصد کو پانے والے اور نصیب دار ہیں کہ جہنم سے نجات پائی اور جنت میں پہنچ گئے۔ «حَدَائِقَ» کہتے ہیں کھجور وغیرہ کے باغات کو، انہیں نوجوان کنواری حوریں بھی ملیں گی جو ابھرے ہوئے سینے والیاں اور ہم عمر ہوں گی، جیسے کہ سورۃ الواقعہ کی تفسیر میں اس کا پورا بیان گزر چکا۔ ایک حدیث میں ہے کہ { جنتیوں کے لباس ہی اللہ کی رضا مندی کے ہوں گے، بادل ان پر آئیں گے اور ان سے کہیں گے کہ بتاؤ ہم تم پر کیا برسائیں؟ پھر جو وہ فرمائیں گے، بادل ان پر برسائیں گے یہاں تک کہ نوجوان کنواری لڑکیاں بھی ان پر برسیں گی }۔ ۱؎[بیھقی البعث و النشور:ص318:ضعیف] انہیں شراب طہور کے چھلکتے ہوئے، پاک صاف، بھرپور جام پر جام ملیں گے جس میں نشہ نہ ہو گا کہ بے ہودہ گوئی اور لغو باتیں منہ سے نکلیں اور کان میں پڑیں، جیسے اور جگہ ہے «لَّالَغْوٌفِيْهَاوَلَاتَاْثِيْمٌ» ۱؎[52-الطور:23] ’ اس میں نہ لغو ہو گا نہ فضول گوئی اور نہ گناہ کی باتیں ‘، کوئی بات جھوٹ اور فضول نہ ہو گی، وہ دارالسلام ہے جس میں کوئی عیب کی اور برائی کی بات ہی نہیں، یہ ان پارسا بزرگوں کو جو کچھ بدلے ملے ہیں یہ ان کے نیک اعمال کا نتیجہ ہے جو اللہ کے فضل و کرم احسان و انعام کی بناء پر ملے ہیں، جو بے حد کافی، بکثرت اور بھرپور ہیں۔ عرب کہتے ہیں «أَعْطَانِيفَأَحْسَبنِي» انعام دیا اور بھرپور دیا اسی طرح کہتے ہیں «حَسْبِياللَّه» یعنی اللہ مجھے ہر طرح کافی وافی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔