(آیت 30) {فَذُوْقُوْافَلَنْنَّزِيْدَكُمْاِلَّاعَذَابًا:} یعنی جس طرح تم کفر و تکذیب میں برابر بڑھتے چلے گئے اسی طرح ہم بھی تمھارا عذاب برابر بڑھاتے رہیں گے اور کسی لمحہ اس میں تخفیف نہیں کریں گے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۵۶) اور سورۂ بنی اسرائیل (۹۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ (اور انہیں کہا جائے گا) اب مزا چکھو، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز [19] میں اضافہ نہ کریں گے
[19] بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اہل دوزخ کو جب دوزخ کے عذاب سہتے سہتے ایک طویل مدت گزر جائے گی تو پھر ان کی طبیعتیں ہی اس طرح کی ہو جائیں گی کہ وہ عذاب کو عذاب محسوس نہ کریں گے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے: رنج کا خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں اس آیت سے ان کے اس نظریہ کی تردید ہو گئی کیونکہ اہل دوزخ کو جو عذاب دیا جائے گا وہ ایک حالت پر نہ رہے گا کہ اہل دوزخ کی طبیعتیں اس کی عادی اور خوگر بن جائیں بلکہ اس عذاب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے گا۔ نیز بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ طویل زمانہ گزرنے کے بعد جہنم پر بھی ایک وقت ایسا آئے گا جب اس کی آگ ماند پڑ جائے گی بلکہ بجھ جائے گی۔ خواہ اہل دوزخ اس میں ابھی موجود ہوں۔ اس آیت سے ان لوگوں کے نظریہ کی بھی تردید ہو جاتی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔