ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 26

جَزَآءً وِّفَاقًا ﴿ؕ۲۶﴾
پورا پورا بدلہ دینے کے لیے۔ En
(یہ) بدلہ ہے پورا پورا
En
(ان کو) پورا پورا بدلہ ملے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 25 میں تا آیت 27 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

26۔ 1 یعنی یہ سزا ان کے اعمال کے مطابق ہے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ یہ بدلہ ہے (ان کے عملوں کے) موافق [18]
[18] یعنی انہیں اتنی ہی سزا دی جائے گی جس قدر اس کے برے اعمال تھے۔ اس سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔ اور ان کے جرائم کی بنیاد یہ بات تھی کہ انہیں اس بات کا یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ان کا محاسبہ کیا جانے والا ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے آیات کا انکار کیا تھا اور پوری زندگی شتر بے مہار کی طرح آزادانہ گزار دی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ان اعمال کا ذکر کیا جن کی بنا پر وہ اس سزا کے مستحق ٹھہرے، چنانچہ فرمایا: ﴿ اِنَّهُمْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ حِسَابً٘ا یعنی وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور نہ وہ اس پر یقین ہی رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھے برے اعمال کی جزا دے گا اس لیے وہ آخرت کی خاطر عمل کو فضول اور مہمل سمجھتے تھے۔ ﴿ وَّؔكَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا كِذَّابً٘ا یعنی انھوں نے ہماری آیتوں کی واضح اور صریح طور پر تکذیب کی اور جب ان کے پاس واضح دلائل آئے تو انھوں نے ان کی مخالفت کی۔ ﴿ وَؔكُ٘لَّ شَیْءٍ اور ہر چیز کو۔ یعنی ہر تھوڑی یا زیادہ، اچھی یا بری چیز ﴿ اَحْصَیْنٰؔهُ كِتٰبًا ہم نے اسے لوح محفوظ میں ثبت کر رکھا ہے، پس مجرم یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے ان کو ایسے گناہوں کی سزا دی ہے جو انھوں نے کیے ہی نہیں اور نہ وہ یہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال میں سے کسی عمل کو ضائع کر دے گا یا ان میں سے کوئی ذرہ بھر عمل بھول جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَوُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْ٘مُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰؔذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُؔ صَغِیْرَةً وَّلَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَلَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا (الکہف: 18؍49)اعمال نامے کو (کھول کر) رکھ دیا جائے گا اور تو مجرموں کو دیکھے گا کہ جو کچھ اس کتاب میں درج ہو گا، وہ اس سے ڈر رہے ہوں گے، اور وہ کہیں گے کہ یہ کیسی کتاب ہے جو کسی چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی بات کو، مگر یہ کہ اس کو درج کر رکھا ہے اور جو اعمال انھوں نے کیے ہیں، ان سب کو موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا۔ ﴿ فَذُوْقُوْا پس چکھو اس درد ناک عذاب اور دائمی رسوائی کو اے جھٹلانے والو! ﴿ فَلَ٘نْ نَّزِیْدَؔكُمْ اِلَّا عَذَابً٘ا ہم تم پرعذاب ہی بڑھاتے جائیں گے۔ پس ہر آن اور ہر وقت ان کا عذاب بڑھتا رہے گا۔ اہل جہنم کے عذاب کی شدت کے بارے میں یہ سخت ترین آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم سے بچائے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإنَّما استحقُّوا هذه العقوبات الفظيعة جزاءً لهم وفاقاً على ما عملوا من الأعمال الموصلة إليها، لم يظلمهم الله ولكن ظلموا أنفسهم، ولهذا ذكر أعمالهم التي استحقُّوا بها هذا الجزاء، فقال: {إنَّهم كانوا لا يرجونَ حساباً}؛ أي: لا يؤمنون بالبعث، ولا أنَّ الله يجازي الخلق بالخير والشرِّ؛ فلذلك أهملوا العمل للآخرة، {وكذَّبوا بآياتِنا كِذَّاباً}؛ أي: كذَّبوا بها تكذيباً واضحاً صريحاً، وجاءتهم البيِّنات فعاندوها، {وكلَّ شيءٍ}: من قليلٍ وكثيرٍ وخيرٍ وشرٍّ، {أحصيناه كتاباً}؛ أي: أثبتناه في اللوح المحفوظ؛ فلا يحسب المجرمون أنَّا عذَّبناهم بذنوب لم يعملوها، ولا يحسبوا أنَّه يضيع من أعمالهم شيءٌ أو يُنسى منها مثقالُ ذرَّةٍ؛ كما قال تعالى: {ووُضِعَ الكتابُ فترى المجرمين مشفقين ممَّا فيه ويقولون يا ويلتنا مالِ هذا الكتاب لا يغادِرُ صغيرةً ولا كبيرةً إلاَّ أحصاها ووجدَوا ما عمِلوا حاضراً ولا يظلِمُ ربُّك أحداً}. {فذوقوا}: أيُّها المكذِّبون هذا العذاب الأليم والخزيَ الدائم، {فلن نزيدكم إلاَّ عذاباً}: فكلُّ وقتٍ وحينٍ يزدادُ عذابُهم. وهذه الآيةُ أشدُّ الآيات في شدَّة عذاب أهل النار، أجارنا الله منها.