تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔
جیسے فرمایا «يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71] ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔
آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88] یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔
اور جگہ ہے «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5] ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔
اور جگہ ہے «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47] ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ذكر الله تعالى ما يكون في يوم القيامةِ الذي يتساءل عنه المكذِّبون ويجحده المعاندون؛ أنَّه يومٌ عظيمٌ، وأن الله جعله {ميقاتاً} للخلق، {يُنفَخُ في الصُّور} فيأتون {أفواجاً}: ويجري فيه من الزعازع والقلاقل ما يَشيبُ له المولودُ وتنزعجُ له القلوبُ، فتسير الجبال حتى تكون كالهباء المبثوثِ، وتنشقُّ السماء حتى تكون أبواباً، ويفصل الله بين الخلائق بحكمه الذي لا يجور، وتوقدُ نارُ جهنَّم التي أرصدها الله وأعدَّها للطَّاغين وجعلها مثوىً لهم ومآباً، وأنَّهم يلبَثون فيها أحقاباً كثيرةً، والحقبُ على ما قاله كثيرٌ من المفسِّرين ثمانون سنة؛ فإذا وردوها ؛ {لا يذوقون فيها برداً ولا شراباً}؛ أي: لا ما يبرِّدُ جلودَهم ولا ما يدفع ظمأهم؛ {إلاَّ حميماً}؛ أي: ماءً حارًّا يشوي وجوههم ويقطِّع أمعاءهم {وغَسَّاقاً}: وهو صديدُ أهل النار: الذي هو في غاية النتن وكراهة المذاق.