ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 17

اِنَّ یَوۡمَ الۡفَصۡلِ کَانَ مِیۡقَاتًا ﴿ۙ۱۷﴾
یقینا فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے۔ En
بےشک فیصلہ کا دن مقرر ہے
En
بیشک فیصلہ کے دن کا وقت مقرر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 17){ اِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ كَانَ مِيْقَاتًا: } یعنی ہم نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنانے سے لے کر آخر آیات تک مذکور جو کچھ بنایا ہے، اگر دنیا کی پیدائش سے لے کر اس کے ختم ہونے تک اس میں جو نیکی یا بدی کی گئی ہے اس کی جزا و سزا کسی وقت بھی نہ ہو، نہ ظالم سے باز پرس ہو اور نہ مظلوم کی داد رسی ہو تو یہ سب کچھ توبے نتیجہ رہا۔ اس لیے یقین رکھو کہ دنیا میں کیے گئے تمام اعمال کے فیصلے کے لیے ایک دن مقرر ہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا ہے: «وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [الجاثیۃ: ۲۲] اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور تاکہ ہر جان کو اس کی کمائی کا بدلا دیا جائے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

17۔ بیشک فیصلے کا دن ایک مقررہ وقت [12] ہے
[12] ان سب باتوں پر غور کرنے سے انسان اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں کوئی چیز بھی بے مقصد پیدا نہیں کی۔ پھر کیا انسان کو ہی اس نے اتنی معجز نما قوتیں عطا کر کے بے کار پیدا کر دیا ہو گا؟ وہ جو چاہے کرتا پھرے اور اس سے کوئی مؤاخذہ نہ ہو؟ یہ سب باتیں حیات بعد الممات پر قوی دلائل ہیں اور ایک وقت یقیناً آنے والا ہے جب اس کائنات کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور سب انسانوں کو دوبارہ پیدا کر کے ان سے محاسبہ کیا جائے گا یہ کام کب ہو گا؟ اللہ کے ہاں اس کے لیے بھی ایک ٹھیک وقت مقرر ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جماعت در جماعت حاضری ٭٭
یعنی قیامت کا دن ہمارے علم میں مقرر دن ہے، نہ وہ آگے ہو، نہ پیچھے ٹھیک وقت پر آ جائے گا۔ کب آئے گا اس کا صحیح علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں۔ جیسے اور جگہ ہے۔ ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَمَا نُؤَخِّرُهٗٓ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍ» ۱؎ [11-ھود:104]‏‏‏‏ ’ نہیں ڈھیل دیتے ہم انہیں لیکن وقت مقرر کے لیے ‘۔
اس دن صور میں پھونک ماری جائے گی اور لوگ جماعتیں جماعتیں بن کر آئیں گے، ہر ایک امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ الگ الگ ہو گی۔
جیسے فرمایا «‏‏‏‏يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِهِمْ» ۱؎ [17-الإسراء:71]‏‏‏‏ ’ جس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے اماموں سمیت بلائیں گے ‘۔
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں دونوں صور کے درمیان چالیس ہوں گے، لوگوں نے پوچھا چالیس دن؟ کہا میں نہیں کہہ سکتا، پوچھا: چالیس مہینے؟ کہا مجھے خبر نہیں۔‏‏‏‏ پوچھا: چالیس سال؟ کہا میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا، پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی برسائے گا اور جس طرح درخت اگتے ہیں لوگ زمین سے اگیں گے، انسان کا تمام بدن گل سڑ جاتا ہے لیکن ایک ہڈی اور وہ کمر کی ریڑھ کی ہڈی ہے اسی سے قیامت کے دن مخلوق مرکب کی جائے گی۔‏‏‏‏ ۱؎ [صحیح بخاری:4935]‏‏‏‏
آسمان کھول دیئے جائیں گے اور اس میں فرشتوں کے اترنے کے راستے اور دورازے بن جائیں گے، پہاڑ چلائے جائیں گے اور بالکل ریت کے ذرے بن جائیں گے۔
جیسے اور جگہ ہے «وَتَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِىَ تَمُــرُّ مَرَّ السَّحَابِ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْٓ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ اِنَّهٗ خَبِيْرٌ بِمَا تَفْعَلُوْنَ» ۱؎ [27-النمل:88]‏‏‏‏ یعنی ’ تم پہاڑوں کو دیکھ رہے ہو، جان رہے ہو وہ پختہ مضبوط اور جامد ہیں لیکن یہ بادلوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں گے ‘۔
اور جگہ ہے‏‏‏‏ «وَتَكُونُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِ الْمَنفُوشِ» ۱؎ [101-القارعة:5]‏‏‏‏ ’ پہاڑ مثل دھنی ہوئی اون کے ہو جائیں گے ‘۔ یہاں فرمایا ’ پہاڑ سراب ہو جائیں گے ‘ یعنی دیکھنے والا کہتا ہے کہ وہ کچھ ہے حالانکہ دراصل کچھ نہیں۔ آخر میں بالکل برباد ہو جائیں گے، نام و نشان تک نہ رہے گا۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّي نَسْفًا فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَا أَمْتًا» ۱؎ ‏‏‏‏[20-طه:107-105]‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے پہاڑوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں تو کہہ انہیں میرا رب پراگندہ کر دے گا اور زمین بالکل ہموار میدان میں رہ جائے گی جس میں نہ کوئی موڑ ہو گا نہ ٹیلا ‘۔
اور جگہ ہے ‏‏‏‏ «‏‏‏‏وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47]‏‏‏‏ ’ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو دیکھے گا کہ زمین بالکل کھل گئی ہے ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن کیا ہو گا، جس کے بارے میں اہل تکذیب پوچھتے ہیں اور معاندین حق اس کا انکار کرتے ہیں، یہ بہت ہی بڑا دن ہو گا اللہ تعالیٰ نے اس دن کو ﴿ مِیْقَاتًا مخلوق کے لیے فیصلے کا دن مقرر کیا۔ ﴿ یَّوْمَ یُنْفَ٘خُ فِی الصُّوْرِ فَتَاْتُوْنَ اَفْوَاجًا جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم گروہ درگروہ آؤ گے۔ اس دن بڑی بڑی مصیبتیں اور زلزلے آئیں گے، جن سے دل دہل جائیں گے اور جنھیں دیکھ کر بچے بھی بوڑھے ہو جائیں گے۔ پہاڑ چل پڑیں گے حتیٰ کہ غبار بن کر بکھر جائیں گے، آسمان پھٹ جائے گا اور اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ خلائق کے درمیان اپنے حکم سے ایسا فیصلہ کرے گا، جس میں ظلم نہ ہو گا۔جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی جس کو اللہ تعالیٰ نے سرکشوں کی گھات میں تیار کر رکھا ہے اور اسے ان کے لیے ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ بنایا ہے، یہ سرکش لوگ اس میں مدتوں رہیں گے۔ اَلْحَقَب بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق اسّی سال کا عرصہ ہے۔
جب وہ جہنم میں وارد ہوں گے ﴿ لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْهَا بَرْدًا وَّلَا شَرَابً٘ا وہاں ٹھنڈک کا مزہ چکھیں گے نہ پینا نصیب ہوگا۔ یعنی وہ ایسی کوئی چیز نہیں پائیں گے جو ان کی جلدوں کو ٹھنڈا کرے اور ان کی پیاس ہی کو دور کرے۔ ﴿ اِلَّا حَمِیْمًا یعنی وہی کھولتا ہوا گرم پانی ہو گا جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گا اور ان کی آنتوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿ وَّغَسَّاقًا اور اہل جہنم کی پیپ ہوگی جو انتہائی بدبودار اور انتہائی بدذائقہ ہو گی۔ وہ ان بدترین عقوبتوں کے اس لیے مستحق ہیں کہ یہ ان کے ان اعمال کا پورا پورا بدلہ ہے جنھوں نے ان کو جہنم میں پہنچایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان پر ہرگز ظلم نہیں کیا، بلکہ انھوں نے خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ذكر الله تعالى ما يكون في يوم القيامةِ الذي يتساءل عنه المكذِّبون ويجحده المعاندون؛ أنَّه يومٌ عظيمٌ، وأن الله جعله {ميقاتاً} للخلق، {يُنفَخُ في الصُّور} فيأتون {أفواجاً}: ويجري فيه من الزعازع والقلاقل ما يَشيبُ له المولودُ وتنزعجُ له القلوبُ، فتسير الجبال حتى تكون كالهباء المبثوثِ، وتنشقُّ السماء حتى تكون أبواباً، ويفصل الله بين الخلائق بحكمه الذي لا يجور، وتوقدُ نارُ جهنَّم التي أرصدها الله وأعدَّها للطَّاغين وجعلها مثوىً لهم ومآباً، وأنَّهم يلبَثون فيها أحقاباً كثيرةً، والحقبُ على ما قاله كثيرٌ من المفسِّرين ثمانون سنة؛ فإذا وردوها ؛ {لا يذوقون فيها برداً ولا شراباً}؛ أي: لا ما يبرِّدُ جلودَهم ولا ما يدفع ظمأهم؛ {إلاَّ حميماً}؛ أي: ماءً حارًّا يشوي وجوههم ويقطِّع أمعاءهم {وغَسَّاقاً}: وهو صديدُ أهل النار: الذي هو في غاية النتن وكراهة المذاق.