ترجمہ و تفسیر — سورۃ النبأ (78) — آیت 13

وَّ جَعَلۡنَا سِرَاجًا وَّہَّاجًا ﴿۪ۙ۱۳﴾
اور ہم نے ایک بہت روشن گرم چراغ بنایا ۔ En
اور (آفتاب کا) روشن چراغ بنایا
En
اور ایک چمکتا ہوا روشن چراغ (سورج) پیدا کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13){ وَ جَعَلْنَا سِرَاجًا وَّهَّاجًا: وَهَّاجًا وَهْجٌ} سے مبالغہ ہے جس میں حرارت اور روشنی دونوں جمع ہوتی ہیں، بہت روشن اور گرم چراغ۔ مراد سورج ہے۔ ایسا دہکتا ہوا چراغ کہ کروڑوں میل دور ہونے کے باوجود اگر کوئی شخص اسے تھوڑی دیر مسلسل دیکھنے کی حماقت کر بیٹھے تو نظر ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

13۔ اور ایک بھڑکتا ہوا چراغ [10] بنایا
[10] سورج کی دوری اور فوائد :۔
﴿وَهَّاجاً ﴿الوهج﴾ بمعنی سورج یا آگ کی بھڑک جس میں تپش بھی ہو اور چمک بھی۔ یعنی سورج ایک بھڑکتا ہوا گولا ہے جو انسانوں اور اہل زمین کو حرارت بھی مہیا کرتا ہے اور روشنی بھی۔ یہ سورج زمین سے 9 کروڑ تیس لاکھ میل کے فاصلہ پر رکھا گیا ہے۔ اگر یہ فاصلہ اس سے کم رکھا جاتا تو انسان سورج کی تپش سے جل بھن کر مر جاتا اور اگر یہ فاصلہ زیادہ کر دیا جاتا تو انسان سردی سے ٹھٹھر کر مر جاتا۔ سورج کو زمین سے اتنے مناسب فاصلہ پر رکھنا اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔