ترجمہ و تفسیر — سورۃ المرسلات (77) — آیت 8

فَاِذَا النُّجُوۡمُ طُمِسَتۡ ۙ﴿۸﴾
پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔ En
جب تاروں کی چمک جاتی رہے
En
پس جب ستارے بے نور کردئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8تا15) {فَاِذَا النُّجُوْمُ طُمِسَتْ …: اُقِّتَتْ } اصل میں {وُقِّتَتْ} تھا۔ {اَلتَّوْقِيْتُ} وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمائیں کہ اس دن تاروں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے تکویر: ۲۔ انفطار: ۲) آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے نمودار ہو جائیں گے۔ (دیکھیے انشقاق: ۱۔ انفطار: ۱۔ نبا: 19،18۔ فرقان: ۲۵) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۱۰۵۔ واقعہ: ۱تا۶۔ حاقہ: ۱۳تا۱۵۔ مزمل: ۱۴۔ قارعہ: ۵) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھاکہ ایک دن انھیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نساء: ۴۱۔ مائدہ: ۱۰۹) یہ سب چیزیں کس دن کے لیے مؤخر کی گئی ہیں؟ فیصلے کے دن کے لیے۔ پھر اس دن کی عظمت و ہیبت بیان کرنے کے لیے فرمایا: اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ وہ دن کتنا عظیم ہے کہ آپ کو بتا سکے۔ ہاں، اللہ تعالیٰ خود کچھ بتادے تو الگ بات ہے۔ مختصر یہ کہ وہ دن اتنا خوف ناک ہے کہ جھٹلانے والوں کے لیے اس دن{ وَيْلٌ } یعنی خرابی اور بربادی ہے۔ اس سورت میں { وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ } دس مرتبہ آیا ہے، تکرار سے مقصود اس دن سے زیادہ سے زیادہ ڈرانا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

8۔ 1 طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بےنشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

8۔ جب ستارے بے نور ہو جائیں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب قیامت کا دن واقع ہو گا تو کائنات میں تغیرات آئیں گے اور سخت ہولناکیوں کا ظہور ہو گا جس سے دل دہل جائیں گے، کرب بہت زیادہ ہو جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، یعنی اپنے مقامات سے زائل ہو کر بکھر جائیں گے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اورزمین ایک چٹیل میدان کی طرح ہوجائے گی جس میں تو کوئی نشیب و فراز نہ دیکھے گا۔ یہ وہ دن ہو گا جس دن مقررہ وقت پر رسولوں کو لایا جائے گا جس وقت کو ان کے اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلے کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿ لِاَیِّ یَوْمٍ اُجِّلَتْ بھلا تاخیر کس دن کے لیے کی گئی؟ یہ استفہام تعظیم، تفخیم اور تہویل (ہول دلانے) کے لیے ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا: ﴿ لِیَوْمِ الْفَصْلِ یعنی خلائق میں ایک دوسرے کے درمیان فیصلے کرنے اور ان میں سے ہر ایک سے فرداً فرداً حساب لینے کے لیے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فإذا وقع؛ حصل من التغيُّر للعالم والأهوال الشَّديدة ما يزعج القلوبَ وتشتدُّ له الكروب فتنطمس النُّجوم؛ أي: تتناثر وتزول عن أماكِنِها، وتُنْسَفُ الجبال، فتكون كالهباء المنثور، وتكون هي والأرض قاعاً صفصفاً، لا ترى فيها عوجاً ولا أمتاً، وذلك اليوم هو اليوم الذي {أُقِّتَتْ} فيه الرسل، وأجِّلَتْ للحكم بينها وبين أممها، ولهذا قال: {لأيِّ يوم أجِّلَتْ}: استفهامٌ للتعظيم والتفخيم والتهويل، ثم أجاب بقوله: {ليوم الفصل}؛ أي: بين الخلائق بعضهم من بعض، وحساب كلٍّ منهم منفرداً.