(آیت 8تا15) {فَاِذَاالنُّجُوْمُطُمِسَتْ …: ”اُقِّتَتْ“} اصل میں {”وُقِّتَتْ“} تھا۔ {”اَلتَّوْقِيْتُ“} وقت مقرر کرنا۔ یہاں سے اس دن کی کچھ نشانیاں بیان فرمائیں کہ اس دن تاروں کی روشنی جاتی رہے گی۔ (دیکھیے تکویر: ۲۔ انفطار: ۲) آسمان کھول دیا جائے گا اور اس میں دروازے ہی دروازے نمودار ہو جائیں گے۔ (دیکھیے انشقاق: ۱۔ انفطار: ۱۔ نبا: 19،18۔ فرقان: ۲۵) اور پہاڑوں کو اڑا دیا جائے گا۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۱۰۵۔ واقعہ: ۱تا۶۔ حاقہ: ۱۳تا۱۵۔ مزمل: ۱۴۔ قارعہ: ۵) اور وہ وقت آجائے گا جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا تھاکہ ایک دن انھیں جمع کیا جائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کو دین حق پہنچانے کی شہادت دیں گے۔ (دیکھیے نساء: ۴۱۔ مائدہ: ۱۰۹) یہ سب چیزیں کس دن کے لیے مؤخر کی گئی ہیں؟ فیصلے کے دن کے لیے۔ پھر اس دن کی عظمت و ہیبت بیان کرنے کے لیے فرمایا: ”اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ فیصلے کا دن کیا ہے؟“ مطلب یہ ہے کہ کوئی اندازہ ہی نہیں کر سکتا کہ وہ دن کتنا عظیم ہے کہ آپ کو بتا سکے۔ ہاں، اللہ تعالیٰ خود کچھ بتادے تو الگ بات ہے۔ مختصر یہ کہ وہ دن اتنا خوف ناک ہے کہ جھٹلانے والوں کے لیے اس دن{”وَيْلٌ“} یعنی خرابی اور بربادی ہے۔ اس سورت میں {”وَيْلٌيَّوْمَىِٕذٍلِّلْمُكَذِّبِيْنَ“} دس مرتبہ آیا ہے، تکرار سے مقصود اس دن سے زیادہ سے زیادہ ڈرانا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 طَمْس کے معنی مٹ جانے اور بےنشان ہونے کے ہیں، یعنی جب ستاروں کی روشنی ختم بلکہ ان کا نشان تک مٹ جائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
8۔ جب ستارے بے نور ہو جائیں گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں