اس آیت کی تفسیر آیت 6 میں تا آیت 8 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 (یا جواب قسم) یہ ہے کہ تم سے قیامت کا جو وعدہ کیا جاتا ہے، وہ یقینا واضح ہونے والی ہے، یعنی اس میں شک کرنے کی نہیں بلکہ اس کے لئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ قیامت کب واقع ہوگی؟ اگلی سورت میں اس کو واضح کیا جا رہا ہے
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا [4] جاتا ہے وہ ضرور واقع ہو کے رہے گی
[4] ان پانچ چیزوں کی قسم اٹھا کر اور انہیں بطور شہادت پیش کرنے کے بعد فرمایا کہ جو پروردگار تمہاری انتہائی اہم ضرورت کی چیز سے ایسے کام لے سکتا ہے تو وہ تمہاری تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں وہ تمہیں صرف ایک ہوا کے ذریعہ راحت سے بھی دوچار کر سکتا ہے اور رنج سے بھی۔ کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ جس جزا و سزا کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے اسے وجود میں لے آئے اور واقع کر کے دکھا دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔