تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
لیکن فی الواقع نہ تو وہ سایہ ہے، نہ آگ کی حرارت کو کم کرتا ہے یہ جہنم اتنی تیز تند سخت اور بکثرت آگ والی ہے کہ اس کی چنگاریاں جو اڑتی ہیں وہ بھی مثل قلعہ کے اور تناور درخت کے مضبوط لمبے چوڑے تنے کے ہیں، دیکھنے والے کو یہ لگتا ہے کہ گویا وہ سیاہ رنگ اونٹ ہیں یا کشتیوں کے رسے ہیں یا تانبے کے ٹکڑے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جاڑے کے موسم میں تین تین ہاتھ کی یا کچھ زیادہ لمبی لکڑیاں لے کر انہیں بلند کر لیتے اسے ہم «قصر» کہا کرتے تھے، کشتی کی رسیاں جب اکٹھی ہو جاتی ہیں تو خاصی اونچی قد آدم کے برابر ہو جاتی ہیں، اسی کو یہاں مراد لیا گیا ہے، ان جھٹلانے والوں پر حسرت و افسوس ہے، آج نہ یہ بول سکیں گے اور نہ انہیں عذر و معذرت کرنے کی اجازت ملے گی کیونکہ ان پر حجت قائم ہو چکی اور ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہو گئی اب انہیں بولنے کی اجازت نہیں، یہ یاد رہے کہ قرآن کریم میں ان کا بولنا، مکرنا، چھپانا، عذر کرنا بھی بیان ہوا ہے۔
تو مطلب یہ ہے کہ حجت قائم ہونے سے پہلے عذر معذرت وغیرہ پیش کریں گے جب سب توڑ دیا جائے گا اور دلیلیں پیش ہو جائیں گی تو اب بول چال، عذر معذرت، ختم ہو جائے گی، غرض میدان حشر کے مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف مواقع اور لوگوں کی مختلف حالتیں ہیں کسی وقت یہ، کسی وقت وہ، اسی لیے یہاں ہر کلام کے خاتمہ پر جھٹلانے والوں کی خرابی کی خبر دے دی جاتی ہے۔
پھر فرماتا ہے ’ یہ فیصلے کا دن ہے اگلے پچھلے سب یہاں جمع ہیں اگر تم کسی چالاکی، مکاری، ہوشیاری اور فریب دہی سے میرے قبضے سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ پوری کوشش کر لو ‘۔ خیال فرمایئے کہ کس قدر دل ہلا دینے والا فقرہ ہے، پروردگار عالم خود قیامت کے دن ان منکروں سے فرمائے گا کہ ’ اب خاموش کیوں ہو؟ وہ عیاری، چالاکی اور بے باکی کیا ہوئی؟ دیکھو میں نے تم سب کو ایک میدان میں حسب وعدہ جمع کر دیا آج اگر کسی حکمت سے مجھ سے چھوٹ سکتے ہو تو کمی نہ کرو ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ» ۱؎ [55-الرحمن:33] یعنی ’ اے جن و انس کے گروہ اگر تم آسان و زمین کے کناروں سے باہر چلے جانے کی طاقت رکھتے ہو تو نکل جاؤ مگر اتنا سمجھ لو کہ بغیر قوت کے تم باہر نہیں جا سکتے اور وہ تم میں نہیں ‘۔
حدیث شریف میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے میرے بندو نہ تو تمہیں، مجھے نفع پہنچانے کا اختیار ہے، نہ نقصان پہنچانے کا، نہ تم مجھے کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو، نہ میرا کچھ بگاڑ سکتے ہو ‘ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2577]
سیدنا ابوعبداللہ جدلی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیت المقدس گیا دیکھا کہ وہاں عبادہ، عبداللہ اور کعب احبار رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے ہیں میں بھی بیٹھ گیا، تو میں نے سنا کہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک چٹیل صاف میدان میں جمع کرے گا، آواز دینے والا آواز دے کر سب کو ہوشیار کر دے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ آج کا دن فیصلوں کا دن ہے تم سب اگلے پچھلوں کو میں نے جمع کر دیا ہے، اب میں تم سے کہتا ہوں کہ اگر میرے ساتھ کوئی دغا فریب، مکر حیلہ کر سکتے ہو تو کر لو، سنو! متکبر، سرکش، منکر اور جھٹلانے والا آج میری پکڑ سے بچ نہیں سکتا اور نہ کوئی نافرمان شیطان میرے عذابوں سے نجات پا سکتا ہے ‘۔“ ”سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”لو ایک حدیث میں بھی سنا دوں“، اس دن جہنم اپنی گردن دراز کر کے لوگوں کے بیچوں بیچ پہنچا کر باآواز بلند کہے گی، اے لوگو! تین قسم کے لوگوں کو ابھی ہی پکڑ لینے کا مجھے حکم مل چکا ہے، میں انہیں خوب پہچانتی ہوں کوئی باپ اپنی اولاد کو اور کوئی بھائی اپنے بھائی کو اتنا نہ جانتا ہو گا جتنا میں انہیں پہچانتی ہوں، آج نہ تو وہ مجھ سے کہیں چھپ سکتے ہیں، نہ کوئی انہیں چھپا سکتا ہے۔ ایک تو وہ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا ہو، دوسرے وہ جو منکر اور متکبر ہو اور تیسرے وہ جو نافرمان شیطان ہو، پھر وہ مڑ مڑ کر چن چن کر ان اوصاف کے لوگوں کو میدان حشر میں چھانٹ لے گی اور ایک ایک کو پکڑ کر نکل جائے گی اور حساب سے چالیس سال پہلے ہی یہ جہنم واصل ہو جائیں گے۔ (اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے)۔ آمین
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا من الويل الذي أُعِدَّ للمجرمين المكذِّبين أنْ يقال لهم يوم القيامةِ: {انطَلِقوا إلى ما كُنتُم به تكذِّبونَ}: ثم فسَّر ذلك بقوله: {انطَلِقوا إلى ظِلٍّ ذي ثلاثٍ شُعَبٍ}؛ أي: إلى ظلِّ نار جهنَّم التي تتمايز في خلاله ثلاث شعب؛ أي: قطع من النار تتعاوره وتتناوبه وتجتمع به. {لا ظليلٍ}: ذلك الظلُّ؛ أي: لا راحة فيه ولا طمأنينة، {ولا يُغْني}: من مَكَثَ فيه {من اللَّهب}: بل اللهب قد أحاط به يمنةً ويسرةً ومن كلِّ جانب؛ كما قال تعالى: {لهم من فوقهم ظُلَلٌ من النار ومن تحتِهِم ظُلَلٌ}، {لهم من جَهنَّمَ مهادٌ ومن فوقِهِم غواشٍ وكذلك نجزي الظَّالمينَ}.
ثم ذكر عِظَمَ شرر النار الدالِّ على عظمها وفظاعتها وسوء منظرها، فقال: {إنها تَرْمي بشررٍ كالقَصْر. كأنَّه جِمالةٌ صُفْرٌ}: وهي السود التي تضرِب إلى لونٍ فيه صفرة، وهذا يدلُّ على أن النار مظلمة لهبها وجمرها وشررها، وأنها سوداءُ كريهةُ المنظر شديدةُ الحرارة؛ نسأل الله العافية منها، ومن الأعمال المقرِّبة منها. {ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبين}.