ترجمہ و تفسیر — سورۃ المرسلات (77) — آیت 25

اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ کِفَاتًا ﴿ۙ۲۵﴾
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟ En
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا
En
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 25تا28) ➊ { اَلَمْ نَجْعَلِ الْاَرْضَ كِفَاتًا …: كِفَاتًا كَفَتَ يَكْفِتُ} (ض) (سمیٹنا، جمع کرنا) سے مصدر بمعنی اسم فاعل ہے، یعنی سمیٹنے والی۔ { رَوَاسِيَ رَاسِيَةٌ} کی جمع ہے اور {رَسَا يَرْسُوْ} (ن) زمین میں گڑا ہوا ہونا، مراد پہاڑ ہیں۔{ شٰمِخٰتٍ } بلند۔ { فُرَاتًا } بہت ہی میٹھا۔ زمین زندوں کو سمیٹتی ہے، وہ اسی پر زندگی گزارتے ہیں، وہ ان کی غلاظتیں سنبھالتی ہے اور مردوں کو بھی اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، اگر زمین مرنے والے انسانوں اور دوسرے جانداروں کو نہ سمیٹتی تو تعفن سے زندگی دشوار ہو جاتی۔ اس آیت سے مردوں کو سنبھالنے کے لیے دفن کی دلیل ملتی ہے، جو قومیں اپنے مردوں کو جلاتی ہیں ان کی راکھ اورہڈیاں بھی زمین ہی کے سپرد ہوتی ہیں۔
➋ { وَ جَعَلْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ …:} زمین بجائے خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک بہت بڑا نشان ہے، پھر اس پر بلند و بالا پہاڑ اور انسان کے پینے کے لیے نہایت میٹھا پانی اللہ کی قدرت کے اتنے بڑے عجائب ہیں کہ ان کو دیکھ کر بھی جو لوگ آخرت کو جھٹلاتے اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مخلوق کو دوبارہ بنانا ممکن نہیں، ان لوگوں کے لیے قیامت کے دن بہت بڑی خرابی اور ہلاکت ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

25۔ کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنا دیا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی کیا ہم نے تم پر احسان نہیں کیا اور تہارے مصالح کے لیے زمین کو مسخر کر کے تم پر انعام نہیں کیا؟ اور اس زمین کو ﴿ كِفَاتًا تمھارے لیے سمیٹنے والی نہیں بنایا ﴿ اَحْیَآءًؔ زندوں کو گھروں میں ﴿ وَّاَمْوَاتًا اور مردوں کو قبروں میں؟ پس جس طرح گھر اور محلات، بندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کا احسان ہے اسی طرح قبریں بھی ان کے حق میں رحمت اور ان کے لیے ستر ہیں کہ ان کے اجساد درندوں وغیرہ کے لیے کھلے نہیں پڑے رہتے۔
﴿ وَّجَعَلْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ یعنی ہم نے ان کے اندر پہاڑ رکھ دیے جو زمین کو ٹھہرائے رکھتے ہیں تاکہ زمین اہل زمین کے ساتھ ڈھلک نہ جائے۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے مضبوط اور بلند، یعنی طویل و عریض پہاڑوں کے ذریعے سے ٹھہرا دیا ﴿ وَّاَسْقَیْنٰكُمْ مَّآءًؔ فُرَاتًا یعنی ہم نے تمھیں شیریں اور خوش ذائقہ پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَ٘شْ٘رَبُوْنَؕ۰۰ ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ۠ مِنَ الْ٘مُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ۰۰لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُوْنَ (الواقعۃ:56؍68۔69) بھلا تم نے دیکھا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا تم اسے بادل سے برسایا یا ہم اسے برساتے ہیں؟ اور اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا دیں، پھر تم شکر کیوں نہیں کرتے۔ ﴿ وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے۔ بایں ہمہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نعمتیں دکھلائیں، جن کو عطا کرنے میں وہ متفرد ہے اور ان نعمتوں سے ان کو مختص کیا، انھوں نے ان نعمتوں کے مقابلے میں تکذیب کا رویہ اختیار کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أما مَنَنَّا عليكم وأنعمنا بتسخير الأرض لمصالحكم فجعلناها {كفاتاً}: لكم، {أحياءً}: في الدور، {وأمواتاً}: في القبور؛ فكما أنَّ الدور والقصور من نعم الله على عباده ومنَّته؛ فكذلك القبور رحمة في حقِّهم وسترٌ لهم عن كون أجسادهم باديةً للسِّباع وغيرها. {وجعلنا فيها رواسيَ}؛ أي: جبالاً ترسي الأرض لئلاَّ تميدَ بأهلها، فثبَّتها الله بالجبال الراسيات الشامخات؛ أي: الطوال العراض. {وأسْقَيْناكم ماءً فُراتاً}؛ أي: عذباً زلالاً؛ قال تعالى: {أفرأيْتُم الماءَ الذي تشربونَ. أأنتُم أنزَلْتُموه من المُزْنِ أمْ نحنُ المنزِلونَ. لو نشاءُ جعلناه أُجاجاً فلولا تَشْكُرونَ}. {ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبين}: مع ما أراهم الله من النعم التي انفرد بها، واختصَّهم بها فقابلوها بالتكذيب.