اس آیت کی تفسیر آیت 23 میں تا آیت 25 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ اس روز جھٹلانے والوں [15] کے لیے تباہی ہے
[15] یعنی انسان کا نطفہ بے جان غذاؤں سے بنا تھا۔ اللہ نے اس کی نشو و نما کی اس میں جان ڈالی اور اسے ایک جیتا جاگتا انسان بنا کھڑا کیا۔ اس کے باوجود جو لوگ موت کے بعد دوبارہ زندگی کے منکر ہیں ان کی عقلوں پر افسوس ہے اور ان کا انجام تباہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔