ترجمہ و تفسیر — سورۃ المرسلات (77) — آیت 20

اَلَمۡ نَخۡلُقۡکُّمۡ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ﴿ۙ۲۰﴾
کیا ہم نے تمھیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟ En
کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے نہیں پیدا کیا؟
En
کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے (منی سے) پیدا نہیں کیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20تا24) ➊ { اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِيْنٍ …:} اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک حقیر پانی یعنی منی کے قطرے سے پیدا فرمایا، پھر اسے ایک محفوظ ٹھکانے یعنی ماں کے رحم میں رکھا، جو تین اطراف سے ہڈیوں سے گھرا ہوا ہے۔ حمل قرار پاتے ہی بچے کو اتنی مضبوطی سے رحم میں جمایا جاتا ہے اور اس کی حفاظت کا اتنا انتظام ہوتا ہے کہ شدید حادثے کے بغیر اس کا اسقاط نہیں ہو سکتا۔
➋ { اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ:} اس اندازے تک جو معلوم ہے یعنی نو ماہ یا اس سے کم یا زیادہ، جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ وہ اتنے مہینوں، دنوں، گھنٹوں یا منٹوں میں پیدا ہو گا، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں۔
➌ {فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ:} یعنی ہم نے ایک ایسی مدت مقرر کی جس میں بچے کی ساخت مکمل ہو جاتی ہے، نہ کوئی چیز ضرورت سے زائد بنتی ہے اور نہ کوئی ضروری چیز رہ جاتی ہے۔ جب تک اس کے لیے رحم کے اندر رہنا ضروری ہوتا ہے وہ اس میں رہتا ہے اور جب باہر آنا ضروری ہوتا ہے تو وہ باہر آجاتا ہے۔ یہ مدت ہم نے مقرر کی ہے اور ہم کتنا ٹھیک اندازہ کرنے والے ہیں۔ { فَقَدَرْنَا } کا دوسرا ترجمہ ہم قادر ہوئے بھی ہو سکتا ہے، یعنی ہم نے پانی کی ایک بوند کو بتدریج ترقی دیتے دیتے کامل و عاقل انسان بنا دیا، اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ ہم کیا خوب قدرت رکھنے والے ہیں۔ (اشرف الحواشی)
➍ { وَيْلٌ يَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِيْنَ:} ایک حقیر قطرے سے اپنی تخلیق کو دیکھنے کے بعد جو لوگ آخرت کے دن کو ناممکن قرار دے کر جھٹلاتے ہیں ان کے لیے اس دن بڑی ہلاکت اور بربادی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ کیا ہم نے تمہیں حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے انسانو! کیا ہم نے تمھیں پیدا نہیں کیا ﴿ مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ اس پانی سے جو انتہائی حقیر ہے جو پشت اور سینے کے درمیان سے خارج ہوتا ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے رکھ دیا ﴿ فِیْ قَ٘رَارٍ مَّكِیْنٍ ایک محفوظ جگہ میں، اس سے مراد رحم ہے، یہیں نطفہ ٹھہرتا اور نشوونما پاتا ہے ﴿ اِلٰى قَدَرٍ مَّعْلُوْمٍ یعنی ایک مقررہ وقت تک ﴿ فَقَدَرْنَا یعنی یہ وقت ہم نے مقرر کیا ہے، ان تاریکیوں میں اس جنین کا انتظام ہم نے کیا، ہم نے اسے نطفہ سے خون کے لوتھڑے، پھر بوٹی میں تبدیل کیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے بڑا کیا، اس کے اندر روح پھونکی، ان میں کچھ ایسے ہیں جو اس سے پہلے ہی مر جاتے ہیں۔ ﴿فَنِعْمَ الْقٰدِرُوْنَ پس ہم کیا خوب اندازہ کرنے والے ہیں۔ اس سے مراد خود اللہ کا نفس مقدس ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اندازہ اس کی حکمت کے تابع، اور حمد و ستائش کے موافق ہے۔ ﴿ وَیْلٌ یَّوْمَىِٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ اس دن ہلاکت ہے جھٹلانے والوں کے لیے جنھوں نے آیات واضح ہوجانے اور عبرت ناک چیزیں اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد جھٹلایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أما خلقناكم أيُّها الآدميُّون {من ماءٍ مَهينٍ}؛ أي: في غاية الحقارة، خرج من بين الصُّلب والتَّرائب، حتى جعله الله {في قرارٍ مَكينٍ}: وهو الرحم به يستقرُّ وينمو، {إلى قدرٍ معلومٍ}: ووقتٍ مقدَّرٍ. {فقَدَرْنا}؛ أي: قدَّرْنا ودَبَّرْنا ذلك الجنين في تلك الظُّلمات، ونقلناه من النُّطفة إلى العلقة إلى المضغة إلى أن جعله الله جسداً و نفخ فيه الروح، ومنهم من يموت قبل ذلك. {فنعم القادِرونَ}؛ يعني بذلك نفسه المقدَّسة؛ لأنَّ قَدَرَه تابعٌ لحكمته موافقٌ للحمد. {ويلٌ يومئذٍ للمكذِّبينَ}، [بعد ما بَيَّن اللهُ لهم الآياتِ وأراهم العبَر والبيِّناتِ].