تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 1تا7){ وَ الْمُرْسَلٰتِ عُرْفًا …: ” الْمُرْسَلٰتِ “} یہ {”اَلرِّيَاحُ“} کی صفت ہے جو محذوف ہے، وہ ہوائیں جو چھوڑی گئی ہیں، بھیجی گئی ہیں۔ {” عُرْفًا “} یہ {”نُكْرٌ“} کی ضد ہے، جانی پہچانی چیز، بھلائی۔ گھوڑے کی گردن کے بالوں اور مرغ کی کلغی کو بھی {”عُرْفٌ“} کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک سطر میں یکے بعد دیگرے ہوتی ہیں،اس لیے ان کی مشابہت سے پے در پے آنے والی چیزوں پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے، مثلاً: {”جَاؤُوْا عُرْفًا وَاحِدًا“} ”وہ سب پے در پے آگئے۔“ {” عُرْفًا “} کا معنی اگر جانی پہچانی چیز کریں تو اس سے پہلے ”باء“ مقدر ہوگی: {”أَيْ وَالْمُرْسَلَاتِ بِالْعُرْفِ“} ”یعنی ان ہواؤں کی قسم جو جانے پہچانے معمول کے مطابق چھوڑی جاتی ہیں!“ اگر اس کا معنی بھلائی کریں تو اس سے پہلے ”لام“ مقدر ہو گا اور یہ مفعول لہ ہو گا: {”أَيْ وَالْمُرْسَلَاتِ لِلْعُرْفِ“} ”یعنی ان ہواؤں کی قسم جنھیں(لوگوں کی) بھلائی کے لیے چھوڑا جاتا ہے!“ اور اگر معنی پے در پے کریں تو {” عُرْفًا “} حال ہو گا، یعنی ”ان ہواؤں کی قسم جو پے در پے چھوڑی جاتی ہیں!“ تینوں معنی درست ہیں۔
قرآن مجید میں مذکور قسمیں عام طور پر اس دعویٰ کی دلیل ہوتی ہیں جو بعد میں مذکور ہوتا ہے۔ ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ صفات والی ہواؤں میں زبردست شہادت ہے کہ قیامت جس کا وعدہ دیا جاتا ہے، ضرور آنے والی ہے۔ آپ دیکھیں! ہوائیں کبھی نرم رفتار سے چلتی ہیں، پھر کبھی تند و تیز ہو کر آندھیاں بن جاتی ہیں، پھر بادلوں کو اٹھا کر لاتی اور پھیلا دیتی ہیں، پھر ان کے قطعے جدا جدا کرکے بارش برسانا شروع کر دیتی ہیں اور کہیں ایک قطرہ برسائے بغیر ہی آگے گزر جاتی ہیں۔ ہواؤں کے یہ مختلف اطوار کہ کبھی آہستہ چلنا، کبھی تند و تیز آندھی بن جانا، پھر بادلوں کو اٹھانا، انھیں پھیلا کر برسانا اورمنتشر کر دینا، کہیں خوف ناک طوفان کی صورت میں عذاب بن کر آنا وغیرہ، یہ سب کچھ دیکھ کر اللہ تعالیٰ یاد آجاتا ہے۔ اسی طرح یہ ہوائیں دلوں میں اللہ کے ذکر کا القا کرتی ہیں اور اللہ کی طرف توجہ مبذول کرواتی ہیں، کبھی ترغیب کے ساتھ اور کبھی ترہیب کے ساتھ۔ ہوائیں اگر خوشگوار اور نفع بخش ہیں تو اللہ کی نعمت ہیں اور ان کا اثر بندے پر یہ پڑنا چاہیے کہ وہ شکر ادا کرے اور اپنے عمل کی کوتاہی کا عذر پیش کرے اور اگر اس کے برعکس خوف ناک طوفان اور بجلیوں کی صورت میں ہیں تو ان کا اثر بندے پر یہ ہونا چاہیے کہ وہ ڈر کر گناہوں سے توبہ کی طرف متوجہ ہو۔ ان مختلف اطوار والی ہواؤں کو پیدا کرنے والے اور ان کا بندوبست کرنے والے پروردگار کے لیے قیامت برپا کرنا اور تمام فوت شدہ لوگوں کو زندہ کر کے ان سے باز پرس کرنا کون سا مشکل کام ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے اور جگہ فرمان باری «وَاَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ فَاَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ وَمَآ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ» ۱؎ [15-الحجر:22] یعنی ’ ہم نے ہوائیں چلائیں جو ابر کو بوجھل کرنے والی ہیں ‘۔
اور جگہ ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ يُّرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّلِيُذِيْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:46] الخ ’ اپنی رحمت سے پیشتر اس کی خوشخبری دنیے والی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں وہ چلاتا ہے ‘۔
«عَاصِفَاتِ» سے بھی مراد ہوائیں ہیں، وہ نرم ہلکی اور بھینی بھینی ہوائیں تھیں یہ ذرا تیز جھونکوں والی اور آواز والی ہوائیں ہیں۔ «نَّاشِرَاتِ» سے مراد بھی ہوائیں ہیں جو بادلوں کو آسمان میں ہر چار سو پھیلا دیتی ہیں اور جدھر اللہ کا حکم ہوتا ہے انہیں لے جاتی ہیں۔
«فَارِقَاتِ» اور «مُلْقِيَاتِ» سے مراد البتہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے رسولوں پر وحی لے کر آتے ہیں جس سے حق و باطل، حلال و حرام میں، ضالت و ہدایت میں امتیاز اور فرق ہو جاتا ہے تاکہ لوگوں کے عذر ختم ہو جائیں اور منکرین کو تنبیہ ہو جائے۔
جیسے فرمایا «وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2] اور جگہ فرمايا «وَاِذَا الْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ» ۱؎ [82-الإنفطار:2] ’ ستارے بے نور ہو کر گر جائیں گے اور آسمان پھٹ جائے گا ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے یہاں تک کہ نام نشان بھی باقی نہ رہے گا ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «وَيَسْــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّيْ نَسْفًا» ۱؎ [20-طه:105] اور فرمایا «وَيَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَتَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً وَّحَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:47]، یعنی ’ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر اڑ جائیں گے اور اس دن وہ چلنے لگیں گے بالکل نام و نشان مٹ جائے گا اور زمین ہموار بغیر اونچ نیچے کی رہ جائے گی اور رسولوں کو جمع کیا جائے گا اس وقت مقررہ پر انہیں لایا جائے گا ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَاذَآ اُجِبْتُمْ» ۱؎ [5-المائدة:109] ’ اس دن اللہ تعالیٰ رسولوں کو جمع کرے گا اور ان سے شہادتیں لے گا ‘۔
جیسے اور جگہ ہے «وَاَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتٰبُ وَجِايْءَ بالنَّـبِيّٖنَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بالْحَــقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ۱؎ [39-الزمر:69] ’ زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی، نامہ اعمال دے دیئے جائیں گے، نبیوں کو اور گواہوں کو لایا جائے گا اور حق و انصاف کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور کسی پر ظلم نہ ہو گا ‘۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ان رسولوں کو ٹھہرایا گیا تھا اس لیے کہ قیامت کے دن فیصلے ہوں گے ‘۔
جیسے فرمایا «فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ ذو انْتِقَامٍ» ۱؎ [14-إبراھیم:47] ’ یہ خیال نہ کر کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں سے وعدہ خلافی کرے گا، نہیں نہیں اللہ تعالیٰ بڑے غلبہ والا اور انتقام والا ہے، جس دن یہ زمین بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب کے سب اللہ واحد و قہار کے سامنے پیش ہو جائیں گے ‘۔
اسی کو یہاں فیصلے کا دن کہا گیا، پھر اس دن کی عظمت ظاہر کرنے کے لیے فرمایا: ’ میرے معلوم کرائے بغیر اے نبی کریم تم بھی اس دن کی حقیقت سے باخبر نہیں ہو سکتے، اس دن ان جھٹلانے والوں کے لیے سخت خرابی ہے ‘۔
ایک غیر صحیح حدیث میں یہ بھی گزر چکا ہے کہ { ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3164،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أقسم تعالى على البعث والجزاء على الأعمال بـ {المُرْسَلات عُرْفاً}: وهي الملائكةُ التي يرسِلُها الله تعالى بشؤونه القدريَّة وتدبير العالم، وبشؤونه الشرعيَّة ووحيه إلى رسله، و {عُرْفاً}: حال من المرسلات؛ أي: أرسلت بالعُرْف والحكمة والمصلحة، لا بالنُّكر والعبث. {فالعاصفاتِ عصفاً}: وهي أيضاً الملائكة التي يرسِلُها الله تعالى، وَصَفَها بالمبادرة لأمره وسرعة تنفيذ أوامره كالريح العاصف أو أنَّ العاصفات الرياح الشديدة التي يُسْرِعُ هبوبها، {والناشرات نشراً}: يُحتمل أنَّ المراد بها الملائكة ؛ تنشر ما دُبِّرت على نشره، أو أنَّها السحاب التي يَنْشُرُ الله بها الأرض فيحييها بعد موتها. {فالمُلْقِياتِ ذِكْراً}: هي الملائكة تلقي أشرفَ الأوامر، وهو الذِّكْرُ الذي يرحم الله به عباده، ويذكِّرهم فيه منافعهم ومصالحهم؛ تلقيه إلى الرسل {عُذْراً أو نُذْراً}؛ أي: إعذاراً وإنذاراً للناس؛ تنذر الناس ما أمامهم من المخاوف وتقطَعُ أعذارهم ؛ فلا يكون لهم حُجَّةٌ على الله.