(آیت 7) {يُوْفُوْنَبِالنَّذْرِ …: ”اَلنَّذْرُ“} اپنے آپ پر وہ چیز واجب کر لینا جو واجب نہیں ہے۔ {”مُسْتَطِيْرًا“”طَارَيَطِيْرُ“} اڑنا اور {”اِسْتَطَارَيَسْتَطِيْرُ“} باب استفعال میں الفاظ زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے، یعنی بہت زیادہ اڑنے والا، مراد ہے بہت زیادہ پھیلنے والا، جیسے آگ یا صبح کی روشنی خوب پھیل جائے تو کہا جاتا ہے: {”اِسْتَطَارَالْحَرِيْقُ“} یا {”اِسْتَطَارَالْفَجْرُ“} کہ آگ بہت زیادہ پھیل گئی ہے، یاصبح کی روشنی خوب پھیل گئی ہے۔ اس آیت میں اور اس کے بعد کی تین آیات میں اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی چند صفات بیان کی گئی ہیں، ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذر پوری کرتے ہیں، یعنی جو کام ان پر واجب نہیں جب اللہ کی رضا کے لیے اپنے آپ پر واجب کر لیتے ہیں تو انھیں پورا کرتے ہیں، پھر جو کام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی واجب ہیں ان پرکتنے اہتمام سے عمل کرتے ہوں گے۔ نذر کے مسائل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۷۰) اور سورۂ حج (۲۹) کی تفسیر۔ ان لوگوں کے نذر پوری کرنے کا باعث یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں جس کی مصیبت ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی۔ اس سے ان صوفیوں کا ردّ ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ جنت کے طمع یا جہنم کے خوف سے عبادت نہیں کرنی چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
7۔ 1 یعنی صرف ایک اللہ کی عبادت و اطاعت کرتے ہیں نذر بھی مانتے ہیں تو اسی کے لیے اور پھر اسے پورا کرتے ہیں۔ اس دن سے ڈرتے ہوئے محرمات اور معصیات کا ارتکاب نہیں کرتے۔ برائی پھیل جانے کا مطلب ہے کہ اس روز اللہ کی گرفت صرف وہی بچے گا جسے اللہ اپنے دامن عفو و رحمت میں ڈھانک لے گا۔ باقی سب اس کے شر کی لپیٹ میں ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
7۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنی نذریں پوری کرتے [8] ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر سو پھیلی [9] ہوئی ہو گی
[8] اہل جنت کی چند صفات :۔
اب ان کامیاب ہونے والے نیک لوگوں کی چند صفات بیان کی جا رہی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں۔ نذر ایسے عہد کو کہا جاتا ہے جو انسان خود اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے واجب کردہ عہد کو پورا کرنے کا اس قدر خیال رکھتا ہے وہ اللہ کے عہد کو پورا کرنے کا بدرجہ اولیٰ خیال رکھے گا۔ [9]﴿مُسْتَطِيْرٌ﴾ (مادہ ط ی ر) بمعنی چارسو پھیلی ہوئی آفت۔ پوری کی پوری فضا کو متاثر کرنے والی تکلیف اور مصیبت۔ جب سورج بالکل زمین کے قریب لے آیا جائے گا اور حرارت اور گھبراہٹ کے مارے لوگوں کا برا حال ہو گا۔ اس دن کے شر سے وہی لوگ محفوظ رہیں گے جو پہلے ہی اس دن کے شر سے ڈر کر اللہ کے فرمانبردار بن کر رہے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔